مڈ ٹرم انتخابات کے فوراً بعد ایران جنگ ختم ہو جائے گی: صدر ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اس سال نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، کیونکہ تہران اب مزید امریکی اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ڈیلس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ”میرا خیال ہے انتخابات کے فوری بعد جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایرانی حکمران) اب مزید نہیں ٹک سکتے اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان انتخابات پر اثر انداز ہو سکیں۔“

امریکی صدر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کا امکان موجود ہے، تاہم یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”جی ہاں، مذاکرات بالکل ہو سکتے ہیں لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی ہم اس وقت کوشش کر رہے ہوں۔“

امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازع اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور فی الحال اس کے فوری خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تازہ ترین تصادم اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو غرق کرنے کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔

اس نئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی ہیں اور بین الاقوامی بنچ مارک برینٹ کروڈ جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ پیش گوئی بھی کی ہے کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، تیل کی عالمی قیمتیں بھی فوراً نیچے آ جائیں گی۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کے طویل ہونے اور ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث امریکی عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی درجہ بندی اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

تین نومبر کو ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کو وائٹ ہاؤس کے موجودہ صدر کی کارکردگی پر عوامی ریفرنڈم سمجھا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کو جلد ختم کرنے اور معاشی حالات بہتر بنانے کے اشارے دیے ہیں۔

Related posts