حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے: معاہدۂ مکّہ کے تقاضوں کے تحت کردار ادا کریں گے، پاکستان
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مکّہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور پاکستان اس کے تمام تقاضوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ معاہدۂ مکّہ ایک سہ فریقی دفاعی اتحاد ہے جس کا حصہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب ہیں، تاہم اس معاہدے کی مزید توسیع فی الحال کارڈز پر نہیں ہے اور نہ ہی اس وقت کسی نئے فریق کی شمولیت کے لیے کسی قسم کی بات چیت جاری ہے۔
سعودی عرب کی سرحدوں پر حوثی ملیشیا کے حملوں اور پاکستان کے ممکنہ ردِعمل سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ فعال ہے اور پاکستان معاہدے کی شقوں پر مکمل عملدرآمد کرے گا، تاہم اس وقت حوثیوں کے خلاف براہِ راست عسکری اقدام سے متعلق کسی بھی تجویز پر فریقین کے درمیان کوئی باقاعدہ بات چیت نہیں ہو رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات اور معاہدے الگ موجود ہیں جبکہ سہ فریقی معاہدے کا آپریشنل میکانزم تشکیل دیا جانا باقی ہے۔
قبل ازیں، وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی معاہدۂ مکہ کی دفاعی نوعیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ایگریمنٹ میں کوئی ابہام نہیں ہے اور کسی ایک رکن ملک پر مسلح جارحیت کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یمن کے حوثی باغیوں کے ڈرون اور میزائل حملے سعودی سرحدوں کے اندر داخل ہوتے ہیں تو یہ دفاعی معاہدہ فوراً فعال ہو جائے گا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی بلا اشتعال جارحیت کی صورت میں دفاعی شقیں عمل میں آئیں گی اور پاکستان اپنے تمام عسکری اور سیاسی عہد پورے کرے گا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے حوثی باغیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس تنازع کو یمن کی حدود سے باہر نہ پھیلائیں ورنہ مشترکہ دفاعی قوانین کا اطلاق ہوگا۔
انہوں نے کہا تھا کہ معاہدۂ مکہ ایک خالصتاً دفاعی اتحاد ہے جو کسی پر خود سے حملہ کرنے کا اختیار نہیں دیتا بلکہ ایک مضبوط رکاوٹ کا کام کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مشترکہ عسکری صلاحیتیں ہی دشمن کے لیے بڑا سدِ راہ ثابت ہوں گی۔
خواجہ آصف نے امید ظاہر کی تھی کہ سفارتی راستوں سے تنازع میں کمی لائی جائے گی تاکہ سعودی عرب کو کسی اندرونی جنگ میں نہ گھسیٹا جائے۔