پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سربراہ جنید اکبر خان کا کہنا ہے کہ چینی کا بحران ہر ایک دو مہینے سر اٹھاتا ہے اور شوگر مافیا اتنی مضبوط ہے کہ ہمیشہ حکومت میں ہوتی ہے، ہر پارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کا شوگر مافیا سے تعلق ہے۔
آج نیوز کے پروگرام ”نیوز انسائٹ وِد عامر ضیاء“ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ چینی اکثر ایکسپورٹ ہوتی بھی نہیں، صرف کاغذات پر ہوتی ہے اور اس پر بھی کماتے ہیں، جو مال یہاں پرا ہوتا ہے اسی کو دوبارہ امپورٹ کرنے کا بتا کر پھر اس پر کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے زمیندار کو ریٹ نہیں ملتا لیکن مافیا مسلسل کماتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شوگر ملز والوں کی اکثریت بینکوں سے قرضہ لیتی ہے اور پھر ڈیفالٹ کرجاتی ہے اور پیسے معاف ہوجاتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شوگر مافیا اتنی مضبوط ہے کہ ہر طرف سے کما رہی ہے۔
جنید اکبر کا کہنا ہے کہ چاہے حکومت ہو یا اپوزیشن، یہ صرف شوگر والے کسی بھی معاملے پر ایک پیج پر ہوتے ہیں، اس میں سب کا حصہ ہے اور یہ مافیا ہمیشہ حکومت کو بلیک میل بھی کرتا ہے اور اس کے اثرورسوخ بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ملک پر جن مافیاز نے سب سے زیادہ ظلم کیا ہے ان میں سے ایک شوگر مافیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 14 سال میں 36 ہزار سے زیادہ آڈٹ پیراز پینڈنگ میں ہیں اور ان کی بےضابطگیوں کی رقم 18 کروڑ ملین بنتی ہے، اس میں سے دس فیصد بھی ریکوری کرلیں تو ہمارے ملکی بجٹ سے زیادہ رقم بنتی ہے۔
عید کے بعد احتجاج کی حکمت عملی
جنید اکبر نے عید کے بعد اپوزیشن کے متوقع احتجاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے ہمیں کوئی امید نہیں ہے، ہمارے پاس احتجاج کا آپشن رہ گیا ہے اور اس کی ہماری تیاری پوری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں کو ساتھ لے کر احتجاج میں جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری خواہش ہے ہماری ضرورت نہیں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر اور نومبر میں جب نکلے تو ہم سے غلطیاں ہوئیں، ہماری کوشش ہوگی کہ ان غلطیوں کو دوبارہ نہ دہرائیں، ’مختلف آپشنز ہیں، اسلام آباد آںے تک کے، وہاں مختلف روڈز بند کرنے تک کے، ڈسٹرکٹ سطح پر بھی آپشن ہیں، جو خان صاحب فائنل کریں گے اس پر عمل کریں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آپشن یہ بھی ہے کہ ہم اڈیالہ جیل کے سامنے کیمپ لگائیں، خیبرپختونخوا سے جو مختلف شاہراہیں آرہی ہیں ان کو بند کردیں۔ اسلام آباد جانے اور وہاں پُرامن احتجاج بھی آپشن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی نئی حکمت عملی پچھلی والی سے اچھی ہو، ہم صبر کر رہے ہیں پہماری پارٹی صبر کر رہی ہے اور اس کا ثمر ہمیں ہمدردیوں اور پارٹی گراف کی شکل میں مل رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ادارے کے اندر ایک فرد واحد سے مسئلہ تو ہوسکتا ہے لیکن ادارے کے ساتھ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ لوگ اب سیاستدان سے زیادہ اسٹبلشمنٹ سے نارض ہیں، سیاستدان سے جو ناراضی تھی وہ کم ہو اسٹبلشمنٹ کی طرف ڈائیورٹ ہوگئی۔
جنید اکبر نے کہا کہ مجھے حالات لگ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے ساتھ احتجاج میں جائیں گے، اگر نہیں جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن خواہش ہماری ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ ہوں۔ پارٹی کی بات ہوتی ہے تو اس معاملے پر علی امین گنڈاپور بھی مانیں گے ہم بھی مانیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ورکر ہم سے مایوس ہے اور اگر ورکر ہمارے بغیر نکل آیا تو ریاست کو مذمت کو وقت بھی نہیں ملے گا، ہم پر ورکرز کا بہت پریشر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پارلیمنٹ اسٹبلشمنٹ کے سہارے پر ہے، جس دن سہارے اٹھ گئے یہ ختم ہوجائے گی۔