امریکا میں 200 سال بعد خاتون کو سزائے موت

امریکی ریاست ٹینیسی میں 50 سالہ کرسٹا پائیک کو بدھ کے روز سزائے موت دیے جانے کا امکان ہے۔ اگر سزا پر عمل درآمد ہوا تو وہ تقریباً 200 سال بعد ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرسٹا پائیک نے 1995 میں 18 سال کی عمر میں اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ اور ایک تیسرے ساتھی کے ساتھ مل کر 19 سالہ لڑکی کولیّن سلیمر کو قتل کیا تھا۔ تینوں ناکس وِل جاب کورپس میں زیرِ تعلیم تھے۔

کرسٹا پائیک اور اس کے بوائے فرینڈ نے قتل میں اپنے کردار کا اعتراف کیا تھا۔ 1996ء میں کرسٹا کو فرسٹ ڈگری قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی، جبکہ اس کے 17 سالہ بوائے فرینڈ کو عمر قید کی سزا ملی۔ تیسرے نوجوان کو جرم میں معاونت کے اعتراف پر پروبیشن دی گئی۔

یہ قتل اپنی نوعیت کی وجہ سے اس وقت خاصی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق لڑکی کو قتل کرنے کے بعد اس کے جسم پر ایک شیطانی علامت بھی بنائی گئی تھی۔

کرسٹا پائیک کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ نے بچپن میں جنسی زیادتی اور شدید ذہنی صدمے کا سامنا کیا۔ بعد میں انہیں بائی پولر ڈس آرڈر اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی تشخیص بھی ہوئی۔

کرسٹا پائیک نے اپنی رحم کی درخواست میں جرم سے انکار نہیں کیا بلکہ کہا کہ انہیں اپنے کیے کی سنگینی سمجھنے میں کئی سال لگے اور اب انہیں اس پر شدید افسوس ہے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ آج پائیک 50 سال کی ہیں، ذہنی بیماری کا علاج کرا رہی ہیں اور جیل میں دوسری خواتین کی مدد اور رہنمائی بھی کرتی ہیں۔

ٹینیسی کے گورنر بل لی نے پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ گورنر کے مطابق انہوں نے مقدمے اور رحم کی درخواست کا مکمل جائزہ لینے کے بعد سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

گورنر کے فیصلے کے بعد کرسٹا پائیک کے وکلا نے امریکی سپریم کورٹ سے بھی سزائے موت روکنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 18 سال کی عمر میں کیے گئے جرم کے وقت پائیک کی عمر اور ذہنی حالت کو سزا کے تعین میں زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے تھی۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق ٹینیسی میں آخری مرتبہ کسی خاتون کو 1820ء میں سزائے موت دی گئی تھی۔ اگر کرسٹا پائیک کی سزا پرعمل درآمد ہوتا ہے تو وہ 200 سال سے زیادہ عرصے میں ریاست میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون بن جائیں گی۔

Related posts