پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ڈکیتی کے دوران خاتون سے اجتماعی زیادتی کے واقعے میں ملوث دوسرے ملزم کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں کی شناخت بھی ہو گئی، تاحال ان کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔
دو روز قبل فیصل آباد میں تھانہ ساندل بار کے علاقہ 62 ج ب چنن کے موٹروے کے قریب ناکہ لگا کر کھڑے 2 مسلح ملزمان نے موٹر سائیکل سوار عدنان اور اس کی اہلیہ سے لوٹ مار کی اور تیسرے ساتھی ملزم علی شیر کو بلا کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث 2 ملزمان فیصل اور علی شیر کو گرفتار کرلیا اور ملزم فیصل کے قبضے سے چھینا گیا موبائل فون بھی برآمد کرلیا۔
ایس پی اقبال ٹاؤن عابد ظفر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم علی شیر نے ساتھیوں کے ہمراہ خاتون سے ریپ کا اعتراف کیا جبکہ گرفتار ملزم کے 2 ساتھیوں میں عمر حیات اور فیصل شامل ہیں، گرفتار ہونے والے ملزمان میں فیصل ڈکیتی، راہزنی کا ریکارڈ یافتہ ہے۔
پولیس کی جانب سے گرفتار ملزم سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے جبکہ دیگر ایک ساتھی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل ایس پی اقبال ٹاؤن کا کہنا تھا کہ تین ڈاکوؤں نے ایک فیملی کو روکا اور دوران ڈکیتی خاتون کا ریپ کیا، متاثرہ خاتون زرعی یونیورسٹی میں ملازمہ تھی۔
محمد عابد ظفر نے مزید بتایا کہ 25 تاریخ کو رات 10 بجے یہ واقعہ پیش آیا، جس کے بعد ٹیمیں تشکیل دیں اور 24 گھنٹے میں ملزم علی شیر کو گرفتار کیا جس نے جرم قبول بھی کر لیا ہے۔
وزیراعلی مریم نواز شریف کی کامیاب کارروائی پر پولیس کو شاباش
فیصل آباد میں ڈکیتی میں اجتماعی زیادتی کا ملزم چند گھنٹے میں گرفتار ہونے پر وزیراعلی مریم نواز شریف نے کامیاب کارروائی پر پولیس کو شاباش دی۔
مریم نواز نے ملزم علی شیر کے دو ساتھیوں کی جلد گرفتاری یقینی بنانے اور دلخراش واقعہ کے ذمہ دار ملزم کے خلاف سزا یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
مریم نواز کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف ذیادتی کے واقعات قطعاً قابل قبول نہیں۔ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کرینگے۔
واضح رہے کہ تھانہ ساندل بار کے علاقے چنن کے کا رہائشی عدنان اپنی اہلیہ کے ساتھ جا رہا تھا، جب وہ موٹروے پل کے قریب پہنچے تو 3 نامعلوم مسلح ڈاکوؤں نے ان کو روک لیا، ان سے نقدی اور موبائل فون چھیننے کے بعد ان کو گنے کے کھیت میں لے گئے جہاں پر ڈاکوؤں نے شوہر کو درخت کے ساتھ رسیوں سے باندھ کر اس کی بیوی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے۔
واقعہ کے بعد زیادتی کا شکار خاتون اور اس کے شوہر کا ویڈیو بیان بھی سامنے آیا تھا۔ جس میں شوہر نے ایک ملزم علی شیر کو نامزد کیا تھا۔ جس پر پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے ملزم علی شیر کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے، واقعہ کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔
یاد رہے کہ فیصل آباد میں موٹروے کے قریب سڑک پر اجتماعی زیادتی کی گھناؤنی واردات سامنے آئی ہے۔
پولیس کے مطابق اجتماعی زیادتی کا واقعہ موٹر وے کے قریب ساندل بار میں 2 روز قبل پیش آیا، جس کا مقدمہ 3 افراد کے خلاف درج کیا گیا۔
سرگودھا میں بیرون ملک نوکری کا جھانسہ دے کر لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی
خاتون کے شوہر کے مطابق ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر ہمیں چنن کے قریب روکا اور مجھے درخت کے ساتھ باندھ کربیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور موبائل فونز اور نقدی چھین کر فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق خاتون کا میڈیکل اور جائے وقوعہ کا جیو فارنزک کرا لیا گیا ہے، 6 مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔
موٹروے ریپ کی طرز کا ایک اور المناک واقعہ، لڑکی سے اجتماعی زیادتی
پولیس کے مطابق مدعی مقدمہ نے ایک ملزم کی نشاندہی بھی کی ہے، متاثرہ خاتون کے شوہر نے علی شیر نامی ملزم کو نامزد کیا ہے۔
خاتون کے شوہر کے مطابق 2 ڈاکوؤں کے فون کرنے پر آنے والا ساتھی علی شیر تھا، علی شیر بھی اجتماعی زیادتی کرنے والوں میں شامل تھا۔