جامشورو کے علاقے کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں شہریوں نے دریائے سندھ سے اظہارِ محبت اور اس کی بقا کے لیے ایک منفرد انداز میں احتجاج ریکارڈ کرایا۔ شہریوں، صحافیوں، ادبی، سماجی اور سیاسی شخصیات نے دریائے سندھ میں کشتیوں پر نمازِ عید ادا کی، اجتماعی دعا مانگی اور دریا میں پھولوں کی پتیاں نچھاور کرکے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
ملک بھر میں جہاں عید کی نماز مساجد، عیدگاہوں اور میدانوں میں ادا کی گئی، وہیں کوٹری میں شہریوں نے دریائے سندھ میں چھ کینال نکالنے کے منصوبے کے خلاف احتجاجاً کشتیوں میں نمازِ عید ادا کی۔ نماز کے بعد مظاہرین نے منصوبے کے خلاف نعرے بازی کی اور سندھ میں ممکنہ پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ جب پورا ملک عید کی خوشیاں منا رہا ہے، تب وہ دریائے سندھ کی بقا اور اپنے حقوق کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، چھ کینال منصوبہ کسی صورت قبول نہیں اور اگر یہ مکمل ہوا تو سندھ شدید پانی کے بحران کا شکار ہو جائے گا۔
مظاہرین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر چھ کینال منصوبہ منسوخ کیا جائے تاکہ سندھ کے عوام میں پھیلی بے چینی ختم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور سندھ کے عوام اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔