بلوچ یکجہتی کمیٹی والے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

0 minutes, 0 seconds Read

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کوئٹہ اعتزاز گورایا نے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) والے بی ایل اے کے دہشت گردوں کی میتیں لینے پہنچ گئے اور خود کو ان میتوں کا وارث کہا۔ بی وائی سی والے عملے کو مارپیٹ کر لاشیں لے گئے۔ کہا احتجاج کے نام پر شہر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ عوام فیصلہ کرے کہ بی ایل اے کے وارث کون ہوسکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ سب کو پرامن احتجاج کا حق ہے، لیکن کسی کو توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورایہ اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد شہر میں احتجاج اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں سامنے آئیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ کوئٹہ جیل منتقل

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے نتیجے میں 5 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن کی لاشوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لاشوں کو لینے کا حق صرف ان کے ورثاء کا ہوتا ہے، تاہم اسپتال میں لاشیں لینے کے لیے بلوچ یکجہتی کمیٹی والے پہنچ گئے، اسپتال میں انہوں نے توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی۔ اسپتال کے کیمرے توڑے گئے، آپٹک فائبر جلایا گیا، پوسٹ آفس اور بینک کے دروازے توڑے گئے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مبینہ مسلح افراد کے ہمراہ کراچی پریس کلب جانے کی کوشش

انہوں نے کہا کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ احتجاجی دھرنا شروع کر دیا گیا، جس میں 2 لاشوں کو لے کر مظاہرین نے سڑکوں پر دھرنا دیا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ ہم نے صحبت پور سے ورثاء کو بلا کر لاشیں ان کے حوالے کیں، لیکن اس کے بعد دوبارہ ایک جتھا آیا۔

جعفر ایکسپریس حملے میں بیرونی عناصر ملوث ہیں، ملوث افراد کا پیچھا کریں گے، صوبائی وزرا

اعتزاز گورایا نے کہا کہ ”اگر پولیس نے فائرنگ کی تو وہاں 2 ہزار افراد تھے، تو انہیں گولی کیوں نہیں لگی؟“ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ احتجاج کا حق ہر کسی کو ہے، لیکن کسی کو سڑکیں بلاک کرنے کا حق نہیں ہے۔

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سعد نے کہا کہ دھرنے اور احتجاج کے دوران 61 افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا، اور اس واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، جس کی پابندی کی جانی چاہیے۔

ڈی سی سعد نے مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بھی 2 لاشوں کے لیے دھرنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر میں کشیدگی اور اضطراب بڑھ گیا ہے۔ تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 11 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانہ ہونے والی جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

سرکاری دستاویز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف 12 مارچ کی شام کو آپریشن شروع کیا جس میں 190 مسافروں کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ 33 دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا، دوران آپریشن 5 اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

Similar Posts