مکہ مکرمہ میں اس سال ریکارڈ تعداد میں آنے والے معتمرین کے لیے خواتین ٹور گائیڈز ایک اہم سہولت ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ گائیڈز نہ صرف مختلف زبانوں پر عبور رکھتی ہیں بلکہ مکہ مکرمہ کی تاریخ اور مقدس مقامات کے بارے میں بھی گہرا علم رکھتی ہیں، جو زائرین کے لیے ان کے سفر کو اور بھی یادگار بنا دیتا ہے۔
یہ خواتین گائیڈز نہ صرف رہنمائی فراہم کرتی ہیں بلکہ حجاج کی مدد بھی کرتی ہیں، انہیں مقدس مقامات کے بارے میں بتاتی ہیں اور اسلامی ثقافت و تاریخ سے روشناس کراتی ہیں۔
ایک ٹور گائیڈ، اعتماد غزاوی، کہتی ہیں کہ ان کا مشن محض حجاج کی رہنمائی کرنا نہیں بلکہ انہیں اسلامی ورثے اور تاریخ سے جوڑنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہوتی ہے مختلف زبانوں میں مہارت حاصل کریں تاکہ زائرین اور مقدس شہر کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکیں۔ ہم کہانیوں کے ذریعے مقدس مقامات کی اہمیت اور تاریخی پس منظر اجاگر کرتے ہیں تاکہ حجاج مکہ مکرمہ کی روحانی عظمت کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔‘
دوسری جانب، ٹور گائیڈ رانیہ چودھری کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں کامیابی کے لیے وسیع علم اور تحقیق ضروری ہے۔ ’ہم صرف سطحی معلومات نہیں دیتے بلکہ تاریخی حوالہ جات، اسلامی واقعات اور مستند ذرائع سے تحقیق کرتے ہیں تاکہ جو معلومات زائرین کو دی جائیں وہ درست اور بامعنی ہوں۔‘
یہ گائیڈز جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کرتی ہیں تاکہ حجاج کو انٹرایکٹو اور آسان انداز میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔
رانیہ چودھری کہتی ہیں، ’یہ ایک مشن ہے، جو ہمیں فخر محسوس کراتا ہے۔ اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرنا اور سعودی خواتین کا مثبت کردار پیش کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘
حجاج کرام کی خدمت کرتے ہوئے بعض اوقات ان گائیڈز کو مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، جیسے رش اور ٹریفک کے مسائل، یا بعض اوقات ایسے سوالات جن کے جوابات پیچیدہ ہوتے ہیں۔ مگر ان تمام چیلنجز کے باوجود، یہ خواتین اپنی خدمات کو نہایت جذبے اور لگن سے انجام دے رہی ہیں۔