عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر فلپائن کے سابق صدر روڈریگو دوتیرتے کو منیلا میں گرفتار کر لیا گیا ہے ، انھیں آج عالمی فوجداری عدالت کے حوالے کر دیا جائے گا۔
عالمی میڈیا کےمطابق فلپائن کے سابق صدر روڈو ریگو دوتیرتے کو مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے بعد عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر منیلا میں گرفتار ہونے کے بعد گزشتہ روز دی ہیگ لے جایا گیا ہے۔ ان کے وکیل نے بتایا کہ ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے۔
وکیل مارٹن ڈیلگرا نے وائبر کے ذریعے صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا کہ دوتیرتے مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے کے قریب تین افراد کے ساتھ منیلا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے میں سوار ہوئے۔
فلپائنی حکام نے اعلان کیا تھا کہ پولیس نے سابق صدر کو منگل کی صبح اس وقت گرفتار کر لیا جب ان کا طیارہ منیلا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔ ان کی گرفتاری بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے جاری کردہ وارنٹ کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مطابق 79 سالہ دوتیرتے کو 43 افراد کو ایک کریک ڈاؤن پر ”جان بوجھ کر قتل“ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے جس میں انسانی حقوق کے گروپوں کا اندازہ ہے کہ فوج اور پولیس کے ارکان کے ہاتھوں دسیوں ہزار غریب آدمی مارے گئے ہیں، جن میں اکثر منشیات کے تعلق کے ثبوت کے بغیر ہیں۔
دوتیرتے کو ہانگ کانگ کے مختصر سفر کے بعد منیلا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا۔
دوسری طرف روڈریگو دوتیرتے کی بیٹی فلپائنی نائب صدر سارہ دوتیرتے کا کہنا ہے کہ میرے والد کو جبری طور پر دی ہیگ بھیجنا انصاف نہیں ظلم و ستم ہے۔