شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی آج منائی جارہی ہے، صدر کا اہم پیغام جاری

0 minutes, 0 seconds Read

پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے گڑھی خدا بخش بھٹو میں جلسے کی تیاریاں آخری مراحل میں پہنچ گئی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے مرکزی وصوبائی قائدین خطاب کریں گے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سمیت کئی رہنما گڑھی خدا بخش پہنچ گئے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش بھٹو میں جلسے کے لیے بڑا اسٹیج بنایا گیا ہے، اسٹیج پر پارٹی پرچموں، رہنماؤں کی تصاویراور بینرز آویزاں کر دیے گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کو اعلیٰ ترین سول اعزاز ملنا تاریخ کا اہم سنگ میل ہے، بلاول بھٹو

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں آج ہی کے دن راولپنڈی میں پھانسی دی گئی تھی، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سٹیل ملز اور قومی پیداواری ادارے بنے۔

سپریم کورٹ پچھلے سال مارچ میں یہ فیصلہ دے چکی کہ ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمے میں ٹرائل منصفانہ نہیں تھا، صدارتی ریفرنس پر ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بے گناہ قرار دے دیا اور رواں سال 23 مارچ کو انہیں نشان پاکستان عطا کیا گیا جو ان کی بیٹی صنم بھٹو نے وصول کیا تھا۔

پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر آج سندھ بھر میں عام تعطیل ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا ذوالفقارعلی بھٹوکی برسی پر پیغام

صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ شہید بھٹو ایک عظیم مدبر، جرات مند رہنما اور عوام کے حقیقی نمائندہ تھے، ان کی خدمات ، جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ترقی، خودمختاری اور عوامی فلاح کے راستے پر گامزن کیا، پہلا متفقہ آئین دیا، قوم کو پہلا متفقہ آئین دیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ، خارجہ پالیسی کو ایک آزاد اور خود مختار تشخص دیا۔

صدر مملکت نے مزید کہا کہ شہید بھٹو نے مسلم امہ کے اتحاد کی راہ ہموار کی، شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے مشن کو جاری رکھیں گے، شہید بھٹو نے مزدوروں، کسانوں اور پسے ہوئے طبقے کو حقوق دیے، انہیں بااختیار بنایا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی پر ایک نظر

شعلہ بیان اور ہمہ جہت ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پيدا ہوئے انہوں نے کيلی فورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی، 1963 ميں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے۔

بعدازاں ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔

1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جبکہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے۔

ذوالفقار بھٹو کی 45 ویں برسی آج، قتل پاکستان کیخلاف سازش تھی، صدر زرداری

ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا۔

بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کئی اقدامات کیےگئے تاہم مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

Similar Posts