امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کی ٹیکنالوجی کمپنی بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کی امریکی شاخ کسی غیر چینی خریدار کو فروخت کرنے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن میں 75 دن کی توسیع کر دی ہے۔ بصورت دیگر، ایپ پر مؤثر پابندی عائد کر دی جائے گی، جو 2024 کے قانون کے تحت جنوری سے نافذ ہونا تھی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ٹک ٹاک کے ممکنہ معاہدے کے لیے تمام ضروری منظوریوں میں وقت درکار ہے، اس لیے وہ ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر رہے ہیں تاکہ ایپ کو مزید 75 دن کے لیے فعال رکھا جا سکے۔
ٹرمپ کے حالیہ فیصلے سے قبل انہوں نے چین سے درآمدات پر محصولات میں 34 فیصد اضافہ کیا، جس کے بعد اب امریکہ میں چینی برآمدات پر کل 54 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ اس تجارتی کشمکش کے دوران ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر بیجنگ بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک فروخت کرنے میں مدد فراہم کرے تو امریکہ چین پر عائد محصولات میں نرمی کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’ہم امید کرتے ہیں کہ چین کے ساتھ نیک نیتی سے کام جاری رکھیں گے، اگرچہ مجھے معلوم ہے کہ وہ ہماری باہمی محصولات کی پالیسی سے خوش نہیں ہیں، جو کہ منصفانہ اور متوازن تجارت کے لیے ضروری ہے۔‘

صدر کے مطابق ان کی انتظامیہ چار مختلف گروپوں سے ٹک ٹاک کے ممکنہ معاہدے کے سلسلے میں رابطے میں ہے، تاہم انہوں نے ان گروپوں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا، ’ہم نہیں چاہتے کہ ٹک ٹاک بند ہو جائے۔‘
روئٹرز کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی سربراہی میں جاری مذاکرات میں ایک تجویز زیر غور ہے جس کے تحت بائٹ ڈانس میں شامل سب سے بڑے غیر چینی سرمایہ کار اپنے حصص بڑھا کر ٹک ٹاک کی امریکی شاخ خرید لیں۔
تاہم، اس معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چین کی حکومتی منظوری ہے، جو تاحال بائٹ ڈانس کو فروخت کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر نہیں کر سکی۔