شاہ رخ خان نے سینئر اداکار منوج کمار کو خراج تحسین پیش کیا ہے جنہوں نے ایک موقع پر شاہ رخ خان کے خلاف 100 کروڑ روپے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
منوج کمارجمعہ کی صبح ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں چل بسے تھے۔ ان کی وفات کے بعد، شاہ رخ خان نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منوج کمار نے ایسی فلمیں بنائیں جو نہ صرف بھارتی سنیما بلکہ پورے ملک کے لیے باعث فخر بنیں۔
بھارت کےمعروف اداکار منوج کمار چل بسے
شاہ رخ خان نے اپنے پیغام میں لکھا، ”منوج کمار جی نے ایسی فلمیں بنائیں جنہوں نے ہمارے ملک اور سنیما کےوقارکو بلند کیا، اور اتحاد پر خاص توجہ دی۔ وہ ہر لحاظ سے ایک لیجنڈ تھے۔ ان کی فلموں نے سنیما کی تاریخ کو ایک نیا رخ دیا اور ایک دور کو تشکیل دیا۔ شکریہ جناب، آپ ہمیشہ ہمارے لیے ’بھارت‘ رہیں گے۔“
شاہ رخ خان اور منوج کمار کے درمیان تنازعہ
2007 میں ریلیز ہونے والی شاہ رخ خان کی فلم ”اوم شانتی اوم“ کے ایک منظر نے دونوں سپراسٹآرزکے درمیان تنازعہ پیدا کیا تھا۔
اس منظر میں شاہ رخ خان کے کردار، اوم پرکاش مکھیجا، کو منوج کمار کی تصویر کا مذاق اُڑاتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس منظر میں ایک سیکیورٹی گارڈ کے ذریعے منوج کمار کی شناخت میں ناکامی اور ان کے ہاتھ کی حرکت پر مذاق کیا گیا تھا۔
سلمان خان کے ٹرینر نے اداکار کی سخت فٹنس کے راز سے پردہ اٹھا دیا
منوج کمار نے اس منظر کو ہتک آمیز سمجھا اور فلم سازوں سے اسے ہٹانے کی درخواست کی، جس پر فوری طور پر عمل کیا گیا۔ شاہ رخ خان نے بعد میں اس معاملے پر معذرت کی اور کہا کہ وہ مکمل طور پر غلط تھے اور اس بات کا افسوس ہے کہ ان کے مذاق نے منوج کمار کو تکلیف پہنچائی۔

قانونی جنگ کا آغاز
اس تنازعہ نے 2013 میں دوبارہ سر اٹھایا جب ”اوم شانتی اوم“ جاپان میں دوبارہ ریلیز ہوئی۔ اس بار منوج کمار نے قانونی راستہ اختیار کیا اور شاہ رخ خان اور ایروز انٹرنیشنل کے خلاف 100 کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فلم کے جاپان میں دوبارہ ریلیز ہونے کے باوجود ان مناظرات کو ہٹایا نہیں گیا، حالانکہ شاہ رخ خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہ منظر حذف کر دیں گے۔
منوج کمار کے قانونی نمائندے نے اس موقع پر کہا، ”شاہ رخ خان نے وعدہ کیا تھا لیکن اس نے دوبارہ اسی منظر کو جاپان میں شامل کر دیا، اور اس بار انہیں کوئی معافی نہیں دی گئی۔“
منوج کمار نے کہا کہ وہ دو بار شاہ رخ خان کو معاف کر چکے ہیں، مگر اس بار ان کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تنازعہ نے انہیں بہت تکلیف دی اور یہ کہ انہیں توقع تھی کہ اس معاملے کا اخلاقی طور پر احتساب کیا جائے گا۔
آخرکار، کئی برسوں تک کیس کی پیروی کرنے کے بعد، منوج کمار نے یہ کہتے ہوئے قانونی جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا کہ انہیں شاہ رخ خان یا فرح خان کا وہ احتساب نہیں ملا جس کی انہوں نے توقع کی تھی۔
منوج کمار کی زندگی اور سنیما پر اثرات
منوج کمار، جو ”بھارت کمار“ کے لقب سے مشہور تھے، 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں بھارتی سنیما کے اہم اداکار اور ہدایتکار بن گئے تھے۔ ان کی فلمیں ”شہید“، ”اپکار“ اور ”پورب اور پچھم“ سنیما کے سنہری دور کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
وہ ایک اداکار کے ساتھ ساتھ ہدایتکار اور پروڈیوسر بھی تھے اور ان کی فلموں نے نیشنل فلم ایوارڈز بھی جیتے۔ ان کی ”اپکار“ (1967) نے دوسری بہترین فیچر فلم کا نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کیا ۔انہوں نے ”پوراب اور پچھم“ (1970) اور ”روٹی کپڑا اور مکان“ (1974) جیسے کامیاب پروجیکٹس کی ہدایت کاری کی۔