بھارتی میڈیا کے مطابق اس کہانی کا آغاز 1987 سے ہوتا ہے جب پردیپ سکسینہ نامی شخص اپنے بھائی کو قتل کردیتا ہے۔
پردیپ نہ صرف گرفتار ہوجاتا ہے بلکہ اسے 1989 میں عمر قید کی سزا بھی سنائی جاتی ہے اور وہ یہ سزا جیل میں بھگتنے لگتا ہے۔
تب ہی اس کہانی میں ٹوئسٹ آتا ہے جب اسے پیرول پر رہا کیا جاتا ہے اور وہ واپس جیل آنے کے بجائے فرار ہوجاتا ہے اور پولیس اسے ڈھونڈتی ہی رہ جاتی ہے۔
پردیپ مراد آباد پہنچ جاتا ہے لیکن پردیپ سکسینہ کے نام سے نہیں بلکہ داڑھی رکھ کر اپنا نام عبدالرحیم رکھ لیتا ہے اور ٹیکسی چلانے لگتا ہے۔
اُس نے پولیس سے بچنے کے لیے اپنا مذہب بھی تبدیل کرلیا اور 2002 میں ایک مسلمان خاتون سے شادی کر کے مستقل سکونت اختیار کرلی۔
کہا جاتا ہے خون تو پھر خون ہے ٹپکتا ہے تو جم جاتا ہے۔ خون کے انمٹ رنگ قاتل کا پیچھا کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسے سزا دلوا کر چھوڑتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ اس کیس میں ہوا جب 36 سال بعد الہٰ آباد ہائی کورٹ کے ایک غیر معمولی اور غیر روایتی حکم پر پولیس نے پرانے مقدمات کی ازسرِنو جانچ شروع کی۔
اسی دوران خصوصی ٹیم نے پردیپ سکسینہ کی تلاش شروع کی اور معلومات اکٹھی کرتے رہے یہاں تک کہ مخبروں نے سراغ لگا ہی لیا۔۔
ساڑھے تین دہائیوں سے زائد عرصہ چھپتے چھپتے آخرکار پردیپ سکسینا قانون کی گرفت میں آ ہی گیا۔
پولیس نے اسے عدالت کے سامنے پیش کردیا جہاں اس نے قبول کیا کہ پولیس کو جھانسا دینے کے لیے ایک مسلمان کے روپ میں نئی زندگی گزار رہا تھا۔