غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 70 ہزار سے بڑھ گئی ہے، جن میں سے بیشتر لاشیں حالیہ دنوں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔ اسرائیل ان اعداد و شمار پر سوال اٹھاتا رہا ہے لیکن اپنی جانب سے کوئی متبادل تعداد جاری نہیں کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تصدیق شدہ تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جمعرات سے لے کر اب تک مزید 301 لاشیں ہلاکتوں کی فہرست میں شامل کی گئی ہیں، جس کے بعد مجموعی تعداد 70,100 تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نے بتایا کہ ان میں سے دو افراد حالیہ فضائی حملوں میں مارے گئے، جبکہ باقی لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکالی گئی ہیں جہاں وہ کافی عرصے سے دفن تھیں۔
اسرائیل نے فوری طور پر ان اعداد و شمار پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ اسرائیلی حکام غزہ کے ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار کی درستگی پر اعتراض کرتے رہے ہیں، تاہم انہوں نے دو سال سے جاری جنگ میں ہونے والی اموات کا اپنا کوئی اندازہ شائع نہیں کیا۔

غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی کے باعث درست معلومات اکٹھی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ جنگ کے ابتدائی مہینوں میں اسپتالوں تک لائی جانے والی لاشوں کو گنا جاتا تھا، مگر بعد میں حکام نے متعدد رپورٹ شدہ اموات کو سرکاری فہرست میں شامل کرنا اس وقت تک مؤخر کیا جب تک فرانزک اور قانونی چھان بین مکمل نہ ہو جائے۔
10 اکتوبر کو نازک جنگ بندی کے بعد حکام ملبے سے مزید لاشیں نکال رہے ہیں، جس سے ہلاکتوں کا شمار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ دعویٰ کیا گیا کہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر 2023 کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1,200 شہری ہلاک اور 251 افراد یرغمال بنائے گئے۔ اسرائیل کے جوابی حملوں نے غزہ کے بڑے حصے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے اور کئی خاندان مکمل طور پر مٹ چکے ہیں۔
غزہ کے رہائشی معاذ مغاری نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں ان کے 62 رشتہ دار شہید ہوئے ہیں، جن میں ان کے والدین اور چار بہن بھائی شامل تھے۔ وہ اس وقت گھر سے باہر تھے جب دھماکوں کی آواز گونجی اور گھر پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ان کی خاندان کی عمارت ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے۔
مغاری کا کہنا تھا کہ پھر مجھے حقیقت سمجھ آئی، میں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔
ادھر، اسرائیلی فوج عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتی ہے۔
جنگ سے قبل غزہ کو مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر صحت کے نظام اور درست آبادیاتی ریکارڈ کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ اقوامِ متحدہ بھی اکثر وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتی ہے۔