ٹرینا اسٹوریج نے پاکستان کے سولر بوم کے دوران آٹھویں بار بی این ای ایف ٹائرون رینکنگ حاصل کرلی

ٹرینا سٹوریج نے سولر کے بڑھتے ہوئے رجحان کے دوران آٹھویں مرتبہ این ای ایف ٹائر ون رینکنگ کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔

اس وقت پاکستان اپنی ذرائع توانائی کی تبدیلی کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، تیزی سے بدلتے اس منظر نامے میں عالمی کلین ٹیک ادارے ٹرینا اسٹوریج کو بلومبرگ نیوائر جی فنانس (بی این ای ایف) کی جانب سے مسلسل 8ویں سہ ماہی میں ٹائر ون از جی اسٹوریج مینوفیکچر رہنے کا اعزاز دیا گیا جس سے یہ ادارہ دنیا کے قابل اعتماد بینک ایمیل پرووائڈرز کی صف اول میں شامل ہو گیا، ٹائر ون کا دور حقیقی منصوبوں کی فنانسنگ، قابل بھروسہ کارکردگی، اور تکنیکی برتری کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ 

اس موقع پر ٹرینا سولر کے انرجی اسٹوریج ڈویژن کے صدر مسٹر یانگ باؤ کا کہنا تھا کہ بی این ای ایف کی جانب سے مسلسل 8 بار مارکیٹ میں ہر پہلو سے ہماری کارکردگی اور تکنیکی برتری کا اعتراف محض ایک اعزاز نہیں بلکہ یہ دنیا بھر کے ہمارے شراکت داروں کے دیر پا اعتماد کا عکاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرینا اسٹوریج پائیدار جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے مطابقت رکھنے والے انرجی اسٹوریج حل فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے تاکہ نیٹ زیرو مستقبل کو ممکن بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں، ٹرینا اسٹوریج نے مختلف خطوں میں اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے، ایشیا پیسیفک میں ملٹی گیگا واٹ آور شراکت، یورپ اور شمالی امریکا میں مضبو ط شراکت داریاں اور لاطینی امریکا کے سب سے بڑے اسٹینڈالون بیٹری اسٹوریج منصوبوں میں سے ایک پر کام کا آغاز کردیا ہے اور یہ سب ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی عالمی انڈسٹری میں دانشمندانہ فیصلوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں، حالیہ معاہدے کے تحت پیسفک گرین انرجی گروپ کو 2026 سے 2028 تک 5 گیگا واٹ تک گرڈ اسکیل بیٹری سسٹم فراہم کیے جائیں گے، جو صارف ممالک کی قومی گرڈ ز کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

نیپرا کے نئے اعدادو شمار کے مطابق نیٹ میٹرنگ ( کراچی کے بغیر) کی پیداوار ایک سال میں تقریبا دوگئی ہو گئی جب کہ 2024 کے آخر میں ماہانہ تقریباً 80 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2025 کے وسط تک 174 گیگاواٹ اور اپریل میں پیک سورج کی روشنی کے دوران 300 گیگاواٹ سے بھی تجاوز کر گئی۔

Similar Posts