آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگادی ہے جس کا اطلاق دس دسمبر سے ہوگا۔
آسٹریلوی حکام کے مطابق میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت تمام سوشل میڈیا اس بات کی پابند ہوں گی کہ آسٹریلیا کے 16 سال سے کم عمر بچے ان پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس نہ بنا سکیں۔
آسٹریلیا نے والدین کے بجائے سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند بنایا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ ان پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہ بنا سکے۔
خلاف وزری کی صورت میں ان کمپنیوں کو بھاری جرمانے دینے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ زیادہ تر بالغ آسٹریلوی شہری اس پابندی کی حمایت کرتے ہیں۔
کیا پابندی مؤثر ہوگی؟
ماہرین کے مطابق جب تک یہ واضح نہ ہو کہ پلیٹ فارمز کون سے طریقے اپنائیں گے، یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ پابندی کتنی کارآمد ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق چہرے کے تجزیے کی ٹیکنالوجی اسی عمر کے گروپ میں سب سے کم درست ثابت ہوتی ہے جسے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔
یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا جرمانے اتنے بھاری ہیں کہ کمپنیاں پابندی پر سختی سے عمل کریں۔
سابق فیس بک ایگزیکٹو اسٹیفن شیلر کے مطابق ”میٹا صرف ایک گھنٹہ 52 منٹ میں 50 ملین ڈالر کماتی ہے“۔
ناقدین کہتے ہیں کہ پابندی لاگو ہونے کے باوجود بچوں کو آن لائن نقصان سے مکمل تحفظ نہیں ملے گا کیونکہ ڈیٹنگ ویب سائٹس اور گیم پلیٹ فارمز اس میں شامل نہیں ہیں۔
اس کے علاوہ اے آئی چیٹ بوٹس بھی شامل نہیں، جن پر بچوں کو نقصان پہنچانے اور نامناسب گفتگو کے الزامات لگ چکے ہیں۔
کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر منحصر کرنے والے بچے کمیونٹی سے کٹ جائیں گے، اور بہتر حل یہ ہے کہ بچوں کو محفوظ طریقے سے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی تعلیم دی جائے۔