بھارت کو نیا خوف، اپنی مشرقی سرحد فوجی قلعے میں کیوں بدل دی؟

بھارت نے پاکستان، چین اور بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے تعاون کے نتیجے میں سامنے آنے والی پیشرفتوں کے بعد اپنے مشرقی سرحدی علاقے کو فوجی قلعے میں بدل دیا ہے۔ بھارت کو سب سے زیادہ پریشانی اس بات کی ہے کہ اس کے عین مشرقی بارڈر پر بنگلہ دیش اب اُس کے روایتی مخالفین، یعنی چین اور پاکستان، کے ساتھ کھل کر سفارتی اور عسکری تعلقات مضبوط کر رہا ہے۔

سلیگوری راہداری، جو صرف 22 کلومیٹر چوڑی ایک پٹی ہے اور بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں کو باقی ملک سے جوڑتی ہے، دہلی کے لیے ہمیشہ سے دردِ سر رہی ہے۔ لیکن اب اس حساس علاقے کو بھارت نے عملی طور پر ایک فوجی قلعے میں بدل دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارت اس علاقے میں تین نئے فوجی مراکز تیزی سے قائم کر رہا ہے، جن میں دھوبری کے قریب لچت بورفوکان ملٹری اسٹیشن، بہار کے کشن گنج میں فارورڈ بیس، اور مغربی بنگال کے چوپڑا میں نئی اسٹریٹیجک چوکی شامل ہے۔

یہ اڈے صرف عام چھاؤنیاں نہیں، بلکہ ایسے اسٹریٹیجک مراکز ہیں جہاں تیز ترین ردعمل دینے والی فورسز، انٹیلی جنس یونٹس اور پیرا اسپیشل فورسز تعینات کی جا رہی ہیں، تاکہ بھارت کے لیے “لائف لائن” سمجھی جانے والی یہ پٹی کسی بھی صورت میں خطرے میں نہ پڑے۔

بھارت کے خدشات میں اُس وقت شدت آئی جب بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت کی جگہ بھارت مخالف عبوری حکومت نے لے لی، جس کی خارجہ پالیسی اب واضح طور پر چین اور پاکستان کے قریب سمجھی جا رہی ہے۔



AAJ News Whatsapp


بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بنگلہ دیش چین سے 2.2 ارب ڈالر کے جے-10 سی فائٹر طیارے خریدنے کی تیاری کر رہا ہے، یہ وہی جے 10 سی ہیں جنہوں نے مئی جنگ میں بھارت کے رافیل سمیت سات طیارے مار گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی بیجنگ بنگلہ دیش کی مدد کر رہا ہے۔

بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کو جدید کے ایف-17 تھنڈر بلاک سی طیاروں کی پیشکش کی ہے۔

آج نیوز ان دونوں دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکا۔ تاہم، ان دعوؤں نے نئی دہلی میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، نئی دہلی کا ماننا ہے کہ اگر بنگلہ دیش، چین اور پاکستان کے قریب ہوتا گیا تو اس کے لیے سلیگوری راہداری کو محفوظ رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ بھارت نے چوپڑا کے فوجی اڈے کو بنگلہ دیش کی سرحد سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر قائم کیا ہے، جہاں سے وہ نہ صرف بارڈر کی نگرانی کر سکتا ہے بلکہ بنگلہ دیش کی حدود کے اندر تک مؤثر نظر رکھ سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بھارت نے اس پورے علاقے میں رافیل طیاروں، براہموس میزائلوں اور جدید فضائی دفاعی سسٹمز کی تنصیب بھی شروع کر دی ہے، جس سے اس کا دفاعی انداز “ردعمل” سے “غلبہ قائم رکھنے” کی پالیسی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔

بھارت کا یہ جارحانہ عسکری رویہ واضح پیغام دیتا ہے کہ وہ خطے میں چین، پاکستان اور اب بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے دفاعی اشتراک سے شدید خوفزدہ ہے، اور اپنی کمزوری سمجھی جانے والی سلیگوری راہداری کو اب مضبوط قلعے میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔

Similar Posts