غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریا کی اسٹیفنی کی لاش ہمسایہ ملک سلووینیا کے جنگل سے ایک سوٹ کیس میں برآمد ہوئی جس نے دونوں ممالک میں شدید سنسنی پھیلا دی۔
رپورٹس کے مطابق اسٹیفنی پیپر کو آخری مرتبہ ایک ہالیڈے پارٹی میں دیکھا گیا تھا۔ اسی رات انہوں نے اپنے دوستوں کو پیغام بھیجا تھا کہ سیڑھیوں پر کوئی عجیب آدمی ہے، ایک سیاہ سایہ ہے جس کے بعد خدشات ظاہر کیے جارہے تھے کہ شاید کوئی ان کا پیچھا کر رہا تھا۔
پانچ روز تک تلاش کے بعد پولیس کو سلووینیا کے جنگل میں ایک سوٹ کیس سے ان کی لاش ملی۔ واقعے کی گتھی تحقیقات کے دوران اس وقت سلجھی جب پولیس نے اسٹیفنی کے سابق بوائے فرینڈ کو حراست میں لیا۔ آسٹریائی میڈیا کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اسٹیفنی کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا اور لاش کی نشاندہی بھی خود کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ شواہد سے پتا چلا ہے کہ ملزم متعدد بار اپنی کار کے ذریعے سلووینیا گیا تھا اور واقعے کے بعد کئی روز تک غائب رہا جس سے شبہ مزید گہرا ہوگیا تھا۔
اسٹیفنی پیپر آسٹریا کے شہر گراز میں سلووینیا کی سرحد کے قریب رہائش پذیر تھیں۔ وہ ملک کی مشہور بیوٹی انفلوئنسر، میک اَپ آرٹسٹ اور گلوکارہ تھیں۔ انسٹاگرام پر وہ میک اپ لکس، بیوٹی ٹپس اور پروڈکٹ ریویوز پر مشتمل کانٹینٹ بناتی تھی۔