برصغیر کا پولینڈ

دوسری جنگ عظیم زوروں پر تھی۔ آگ ‘ خون اور وحشت کا کھیل نصف دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ کروڑوں لوگ مارے جا چکے تھے۔ ظلم‘ اور بربریت ‘ برہنہ ہو کر دنیا کے سامنے موت کے رقص میں مصروف تھی۔ روس کے اندر بھی یہ عبرت ناک کھیل زوروں پر تھا۔ پولینڈ بھی اس جہنم نما سرکس کا شکار ہو چکا تھا۔

جرمنی اور روس نے مل کر اس چھوٹے ملک پر حملہ کر دیا تھا۔ زندگی بچانے کے لیے تقریباً ایک ہزار بچے اور پولیش خواتین‘ ایک بحری جہاز پر سوار ہوئے۔ سانسوں کی ڈوری کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ممالک کی بندرگاہوں پر گئے۔ مگر کسی بھی ملک میں اتنی جرأت نہیں تھی کہ انھیں پناہ دے سکے۔ برطانیہ جو اس وقت ایک سپر پاور تھا‘ انھیں اپنے ملک میں حفاظت دینے سے انکار کر چکا تھا۔

مجبور لوگ‘ مختلف ملکوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے ہوئے‘ حادثاتی طور پر بمبئی آ گئے۔ برطانوی گورنر نے بھی انھیں لینے سے انکار کر دیا۔ بے بسی اور بے کسی کا یہ عالم تھا کہ یہ مسافر بھوک سے مرنے کے قریب تھے۔ مگر قدرت کانظام الگ ہے اسے سمجھنا ناممکن ہے۔ اس معاملے کا جب نوانگر ریاست کے حکمران کو علم ہوا۔برطانوی حکومت سے پوچھے بغیر‘ حد درجہ جرأت والا فیصلہ کیا۔ حکم دیا کہ اس کی ریاست کی جانب سے بندر گاہ پر جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت ہے۔

برطانوی حکمران سخت ناراض ہوئے۔ مگر اس عظیم شخص نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ اس نیک بادشاہ کانام مہاراجہ ڈگو جے رنجیت سنجھی تھا۔ حاکم‘ نے بندرگاہ پر ان لاچار مسافروں کوبنفس نفیس خوش آمدید کہا۔ آپ لوگ یتیم اور مسکین نہیں ہو۔ آج سے نوانگر کا بادشاہ تمہارے والد کی طرح ہے۔ بدقسمت مسافروں کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ ایک اجنبی ملک کا حکمران‘ ان کے لیے رحمت کا فرشتہ ثابت ہو گا۔ فوری طور پر پرتعیش خیمے ایستادہ کیے گئے۔ پولش مہاجرین کو ہر سہولت مہیا کر دی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ‘ ایک شاندار عمارت تعمیر کروا دی ‘ جس کا نام بالا چادی کیمپ رکھا گیا۔ یہ مہاراجہ کے گرمیوں کے محل کے نزدیک تھا۔اس میں دنیا کی ہر آسائش موجود تھی۔ مہاجرین کے آنے کے چند روز بعد ‘ مہاراجہ نے بچوں کے لیے ایک ضیافت کا اہتمام کیا۔

وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ رغبت سے کھانا نہیں کھا رہے۔ مہاراجہ کو فوراً اندازہ ہو گیا کہ ہندوستانی کھانے‘ پولیش کھانوں سے مختلف ہیں۔ اور یہ لوگ‘ اپنے وطن کا کھانا ہی کھا سکتے ہیں۔ مہاراجہ نے حکم دیا کہ کسی بھی ملک سے ایسے باورچی منگوائے جائیں جو پولیش کھانا بنا سکتے ہیں۔ چنانچہ بیس باورچیوں کو چن کر بچوں کے لیے ‘ ان کے ذائقے کے حساب سے کھانا بنوانا شروع کر دیا گیا۔

مہاراجہ نے بچوں کے لیے پولش اسکول قائم کروایا۔ ان کے لیے‘ ایک لائبریری بنوائی گئی۔ جس میں انھی کی زبان کی کتابیں منگوا کر رکھی گئیں۔ بچوں کے لیے ڈراموں کا اہتمام کیا گیا‘ جو ان کی مادری زبان میں تھے۔ مہاراجہ ‘ ہر ڈرامہ خود دیکھنے آتا تھا۔ شو کے بعد اپنے ہاتھ سے‘ ننھے منے بچوں کے لیے ٹافیاں تقسیم کی جاتی تھیں۔ ایک پولیش مہاجرخاتون Wieslaw Stypulaنے تمام حالات ایک کتاب میں لکھے۔ جس کا نام At the Polish Maharajaتھا۔ بچے فٹ بال اور والی بال بھی کھیلتے تھے۔

مہاراجہ نے باپ بننے کا حق ادا کر دیا۔ یہ خوبصورت سلسلہ 1942سے 1946تک چلتا رہا۔ دوسری جنگ عظیم کے ختم ہونے پر تمام بچے اور خواتین‘ اپنی اپنی مرضی کے یورپین ممالک میں منتقل کر دیے گئے۔ جب پولینڈ پر 1989میں روس کا تسلط ختم ہوا تو پولینڈ کی آزاد حکومت نے وارسا کے ایک چوک کو مہاراجہ کا نام دے دیا۔ 2012میں‘ وارسا کے ایک پارک کا نام ’’نیک بادشاہ‘‘ رکھا گیا۔ پولینڈ کی حکومت نے مہاراجہ کو حکومت کے سب سے بڑے ایوارڈ ‘Commander`s Cross of the order of merit سے نوازا گیا۔مہاراجہ کا انتقال 1966میں ہوا۔ آج بھی اس یورپین ملک یعنی پولینڈ کی ہر دل عزیز شخصیت ہے۔ اس محبت بھرے واقعہ پر ایک ڈاکو منٹری بنائی گئی۔ جس کا نام Little Poland in India تھا۔

یہ سچا واقعہ‘ انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ انسان اگر حسن سلوک کے قافلہ کا مسافر بن جائے۔ تو اس کا مقام فرشتوں سے بھی برتر ہے۔ اگر وہی انسان گراوٹ کی طرف چل پڑے‘ تو شیطان بھی اس سے پناہ مانگتا ہے۔ اب یہ فیصلہ بالکل ذاتی ہے۔ کوئی بھی شخص کس راستے کاانتخاب کرتاہے۔ پوری دنیا کے مذاہب کے جوہر کو کشید کر کے دیکھیے ایک عنصر‘ یکساں نظر آئے گا۔ بلکہ وہ اصل جوہر ہو گا۔ وہ ہے ’’انسانیت سے عشق اور پیار‘‘۔ جو افراد ‘ اس نکتہ کو سمجھ جاتے ہیں۔ ان کا ہر سانس نیکی میں بدل جاتا ہے۔ عقیدے‘ نسل اور رنگ سے بالاتر ہو کر خدمت کرنا ہی‘ اصل مقصد حیات ہے۔ مگر یہ سب کچھ کرنا ہرگز ہرگز آسان نہیں ہے۔

اپنی ذات کی نفی کر کے عام لوگوں کی خدمت کرنا‘ بہت دل گردے کا کام ہے۔ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ طالب علم کو تو اردگرد ‘ بہت زیادہ کرختگی نظر آتی ہے۔ فساد ہی فساد ہے۔ خدمت کا بے غرض جذبہ تو خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مگر کیا‘ اس بہت ہی کم نظر والے جذبے کو رد کر دیا جائے ۔ بالکل نہیں ‘ یہ جہاں بھی نظر آئے۔ اس کی توقیر اور عزت کرنی چاہیے۔ بتانا چاہیے کہ آج بھی ایسی عمدہ مثالیں موجود ہیں۔

جہاں بے غرض اور مخلصی ہے۔ جہاں عافیت اور محبت ہے۔ جہاں نفرتیں دہلیز پر ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ اگر ذاتی حیثیت میں بات کروں تو یہ تسلیم کرتے ہوئے کوئی عار نہیں ۔ کہ اصل دین ‘ صرف اور صرف انسانیت ہے اور یہ عام آدمی کی فلاح اور بھلائی میں چھپا ہوا ہے۔ بذات خود‘ اسی قافلے کا بھولا بھٹکا مسافر ہوں۔ جو لوگوں کی خوشیوں میں خوش ہوتا ہے۔ ان کے دکھوں پر رنجیدہ رہتا ہے اور جو‘ لوگوں میں آسانیاں تقسیم کرنے کو عبادت کا درجہ دیتا ہے۔

ہمارے خطے کا عظیم ترین نام عبدالستار ایدھی کا ہے جس کے فلاحی کام نے رہتی دنیا تک اس کا نام روشن کر ڈالا ہے۔ مگر اپنے اردگرد دیکھیے۔ آپ کو ہر قصبے ‘ محلے ‘ دیہات‘ ہر شہر میں کوئی نہ کوئی ایدھی ضرور نظر آئے گا۔ اس کا نام یقیناً مختلف ہو گا۔ قدوقامت میں بھی فرق فطری ہوگا۔ مگر کام تقریباً ایک جیسا ہی ہو گا۔ لوگوں کی خدمت کرنے میں‘ چھوٹے اور بڑے کام کی تفریق نہیں ہو سکتی۔ جو شخص‘ دن میں صرف دو سو روپے کماتا ہے۔ مگر گھر واپسی پر کسی بھوکے کو صرف ایک روٹی کھلا دیتا ہے۔

وہ بھی بہت بڑا آدمی ہے۔ اکثر ایسے واقعات دیکھتا ہوں ‘ کہ چوک میںکوئی بندہ یا بندی رکتا ہے۔ وہاںکھڑے ہوئے لوگوں کو کھانے کے ڈبے تقسیم کر کے معدوم ہو جاتا ہے۔ کھانا کھانے والے شخص کو بالکل نہیں معلوم ہوتا کہ یہ نیک انسان کون ہے۔ جو ان کی بھوک مٹا رہا ہے۔ مگر خدا یا قدرت کو تو معلوم ہے کہ یہ فرشتہ سیرت فرد کون ہے۔ اس کا صلہ بھی انہونا ہوتا ہے۔ آسانیاں پیدا کرنے والا‘ اکثر اوقات ‘ اپنی دشواریوں میں سے بڑے آرام سے نکل جاتا ہے۔ یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے۔ اپنی نیکی یا کوئی ایسا کام ‘ جسے آپ نیکی کے زمرے میں سمجھتے ہیں۔ اس کا پرچار نہ فرمائیے۔ خدارا‘ اس کی تشہیر نہ کیجیے۔ دل دکھتا ہے۔ جب اخبار پر کوئی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے کہ فلاں مخیر انسان نے معذور اشخاص کے لیے وہیل چیز تقسیم کی ہیں۔

کم از کم طالب علم کو ایسے لگتا ہے کہ اس تصویر سے نیکی زائل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ تلخ بات تو یہ ہے کہ ہماری اکثریت اپنے چھوٹے سے اچھے کام کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ مگر دیگر اقوام کے اکثر لوگ‘ دوسروں کی مدد کو محسوس نہیں ہونے دیتے۔ ذرا سوچئے کہ اگر افریقہ میں ملیریا ختم ہو جاتا ہے‘ تو بل گیٹس کو کیا فرق پڑتا ہے۔ مگر وہ نیک انسان ‘ افریقی ملکوں میںاربوں ڈالر تقسیم کرتا ہے تاکہ لوگ مچھر کے کاٹنے سے نہ مریں۔ وارن بوفے کو اپنی جائیداد وقف کرنے سے کیا فائدہ ہوا ہے؟ غور سے پڑھیئے ۔ انسانیت بذات خود‘ اس کرہ ارض کا سب سے بڑا مذہب ہے اور جو لوگ بھی بلا خوف و خطر‘ اس نیک کام میں مصروف ہیں۔وہی سب سے بہترین افراد ہیں۔

ذہن کو کھولیے ۔ نفرتوں کی دیواروں کو گرا ڈالیے۔ کوشش تو کر کے دیکھیے اپنی حیثیت کے مطابق‘ عام لوگوں کی خدمت کو اپنا شعار بنانے کی کوشش کریں۔ اگر کسی کو کچھ دے نہیں سکتے ۔ پھر بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ نیک تمنائیں‘ اس کی جھولی میں ڈال دیجیے۔ مہاراجہ ڈگوجے نے انگریز حکومت کی سوچ کے متضاد‘ ایسے بچوں اور عورتوں کو پناہ دی ‘ جن میں سے کسی ایک کو بھی وہ نہیں جانتا تھا۔

ان مہاجرین کے مذہبی عقیدے کا بھی علم نہیں تھا۔ مگر اس کے پاس انسانیت کی خدمت کرنے کا وہ جذبہ تھا۔ جس نے اسے مہاراجہ سے بڑھا کر شہنشاہ بنا دیا۔ لوگوں کا شہنشاہ ۔ آپ اس راہ پر چل کر تو دیکھیے ۔ زندگی کی خوبصورتی کھل کر عیاں ہو جائے گی۔ مہاراجہ نے تو برصغیر میں پولینڈ بنایا تھا۔آپ آسانیاں تقسیم کرنے کو وطیرہ بنا لیں۔ یقین فرمائیے۔ آپ کے اردگرد بھی چھوٹا سا پولینڈ بن جائے گا!

Similar Posts