انسانی جسم میں خون کی 360 سے زائد شریانیں، رگیں، وریدیں وغیرہ پائی جاتی ہیں۔ ان نالیوں میں خراب طرز زندگی سے چکنائی یا چربی جم جائے تو خون کی روانی متاثر ہونے پر ہارٹ اٹیک ہونے یا فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
یہ جمی چکنائی ختم کرنے کی خاطر لوگ مہنگے اور نازک آپریشن کراتے ہیں۔ اب سوئس یونیورسٹی، ای ٹی ایچ زیورخ کے ماہرین نے2 ملی میٹر سے بھی چھوٹا ایسا مائیکرو روبوٹ ایجاد کر لیا جو ننھی منی شریانوں میں بھی گھوم پھر سکتا ہے۔
ڈاکٹر اس میں دوا بھر کر جمی چکنائی تک پہنچائیں گے تاکہ وہ ترنت ختم ہو سکے۔ یوں انسان کو مہنگے وپیچیدہ آپریشنوں سے نجات ملے گی۔
روبوٹ کا ڈھانچا خصوصی فولادی نینو ذرّات سے بنا ہے تاکہ باہر بیٹھے ڈاکٹر مقناطیسی آلے کی مدد سے اسے انسانی جسم کے اندر کنٹرول کر یں اور منزل تک پہنچا دیں۔