گورنر کا عہدہ مانگنا توہین ہے، مطالبہ کروں گا تو وزیراعظم کا کروں گا، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی آڑ میں صوبے کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جب کہ انہوں نے سیاسی معاملات پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لانے پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے نہ اپنے ذاتی مفادات اور نہ ہی جماعتی مفاد کے لیے کوئی بات کی ہے۔
انہوں نے گورنرشپ سے متعلق گفتگو کو اپنی جماعت کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کا عہدہ مانگنا ہماری توہین ہے، اگر حکومت سے کسی عہدے کا مطالبہ کروں گا تو وزیراعظم کا کروں گا، گورنر کا نہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق اس حوالے سے مختلف باتیں کنایوں میں کی جا رہی ہیں، حالاں کہ متعلقہ لوگ خود کہہ چکے ہیں کہ ایسا کوئی معاملہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ جس نے بھی گورنر کے عہدے سے متعلق یہ بات کی ہے، اس کا مؤقف درست نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات کو ملک کے سیاسی مفاد کے لیے نقصان دہ اور بلاجواز قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ان فیصلوں کو مسترد کرتی ہے اور ان کے حوالے سے پیش کیا جانے والا حکومتی بیانیہ بھی بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو کسی جماعت یا کسی دوسرے فریق سے شکایات ہیں تو پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر ان معاملات پر بات کی جائے۔
انہوں نے فاٹا کے انضمام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2017 میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا تھا، لیکن اب اسی جماعت کی حکومت میں فاٹا کو صوبے کے نظام سے نکال کر دوبارہ مرکز کے کنٹرول میں دیا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق اس صورتِ حال سے عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو جواز بنا کر صوبے کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح صوبے اور اس کے عوام کو اپنے وسائل سے محروم کرکے معدنی ذخائر کو مخصوص مفادات تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عالمی قوتوں کو معدنی وسائل تک رسائی دینے کے معاملے میں عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔
مولانا فضل الرحمان نے صوبے میں ماضی کے فوجی آپریشنز کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ متعدد آپریشنز کے باوجود ان کے نتائج کیا سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کے نام پر اقدامات کرنے والوں کو بھی ان کی افادیت اور نتائج کے حوالے سے جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے سیاسی معاملات میں مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور دیگر سیاست دانوں نے پارلیمنٹ میں حلف اٹھایا ہے اور وہ آج بھی اس کی پاسداری کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، جو لوگ سیاست سے لاتعلقی کا حلف اٹھانے کے باوجود سیاسی معاملات پر اثرانداز ہوتے ہیں، انہیں بھی اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام 2024 کے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی نئی کونسل میں جے یو آئی کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا۔
انہوں نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی نظام تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطابق سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل ایسے اقدامات میں نہیں، بل کہ متعلقہ فریقوں کے درمیان بات چیت میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
جے یو آئی سربراہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ حکومت پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس طلب کرے تاکہ شکایات اور اختلافات پر بات چیت ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے بجائے سیاسی معاملات کو پارلیمانی فورم پر زیرِ بحث لایا جائے۔