سردیوں میں جلد کو خشکی سے بچانے کے لیے اسکن کیئر میں یہ 5 تبدیلیاں کریں
موسم سرد ہوتے ہی جلد کی خشکی، کھردرا پن اور ہونٹ پھٹنے جیسے مسائل بڑھنے لگتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوا اور فضا میں نمی کی کمی جلد کی قدرتی نمی کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے چہرہ بے رونق دکھائی دینے لگتا ہے اور بعض افراد کو خارش یا جلن کی شکایت بھی ہونے لگتی ہے۔
نومبر کے آغاز سے ہی ہلکی سردی کا احساس شروع ہو جاتا ہے، جس سے جلد پر کھنچاؤ اور خشکی کی شکایت عام ہو جاتی ہے۔ ایسے میں اکثر لوگ مہنگی کریمیں اور لوشن استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں، لیکن جلد کی بہتر دیکھ بھال کے لیے صرف مصنوعات بدلنا کافی نہیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے اور جلد کو تر و تازہ رکھنے کے لیے ماہرین نے اسکن کیئر روٹین میں 5 اہم تبدیلیاں کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
چہرہ دھونے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کریں
سردیوں میں گرم پانی سے منہ دھونا اچھا لگتا ہے، لیکن بہت زیادہ گرم پانی جلد میں موجود قدرتی چکنائی کو کم کر سکتا ہے۔ یہ چکنائی جلد کو نرم رکھنے اور اسے بیرونی اثرات سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔
بہت گرم پانی سے بار بار منہ دھونے سے جلد میں کھنچاؤ، خشکی اور جلن پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے چہرہ دھونے کے لیے نیم گرم پانی استعمال کریں اور ایسا نرم فیس واش منتخب کریں جو جلد کو زیادہ خشک نہ کرے۔
چہرہ دھونے کے بعد تولیے سے زور زور سے رگڑنے کے بجائے نرمی سے خشک کریں اور اس کے فوراً بعد موئسچرائزر لگائیں۔
اپنی جلد کے مطابق موئسچرائزر منتخب کریں
سردیوں میں جلد کو نمی فراہم کرنا خاص طور پر ضروری ہوتا ہے، لیکن ہر شخص کی جلد مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے موئسچرائزر کا انتخاب بھی اپنی جلد کی ضرورت کے مطابق کرنا چاہیے۔
خشک جلد والے افراد نسبتاً کریم پر مبنی موئسچرائزر استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ چکنی یا کیل مہاسوں والی جلد کے لیے ہلکا، بغیر چکنائی والا موئسچرائزر بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔ ایسی مصنوعات کو ترجیح دیں جن پر جلد کے مسام بند نہ کرنے کی خصوصیت درج ہو، خصوصاً اگر آپ کو کیل مہاسوں کی شکایت رہتی ہے۔
چہرہ دھونے کے بعد جب جلد ہلکی نم ہو تو موئسچرائزر لگانا مفید رہتا ہے۔ صبح اور رات اس کا استعمال جلد کی نمی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ہاتھوں اور جسم کے خشک حصوں پر بھی ضرورت کے مطابق کریم لگائیں۔
سردیوں میں بھی سن اسکرین نہ چھوڑیں
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سردیوں میں دھوپ کم ہونے کی وجہ سے سن اسکرین لگانے کی ضرورت نہیں رہتی، لیکن یہ درست نہیں۔ سورج کی بالائے بنفشی شعاعیں بادلوں والے دنوں میں بھی جلد تک پہنچ سکتی ہیں۔
ان شعاعوں سے جلد پر وقت سے پہلے جھریاں پڑنے، رنگت میں تبدیلی اور جلد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے دن کے وقت باہر نکلتے ہوئے کم از کم ایس پی ایف 30 والی ایسی سن اسکرین استعمال کریں جو یو وی اے اور یو وی بی دونوں شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتی ہو۔
اگر آپ زیادہ دیر باہر رہتے ہیں تو سن اسکرین دوبارہ لگائیں، خصوصاً پسینہ آنے یا چہرہ دھونے کے بعد۔ سرد موسم میں بھی جلد کی حفاظت کے لیے یہ عادت اہم ہے۔
بار بار اسکرب کرنے سے گریز کریں
جلد پر خشکی یا مردہ خلیات نظر آنے پر بعض لوگ بار بار اسکرب کرتے ہیں تاکہ چہرہ صاف اور چمک دار دکھائی دے۔ تاہم، سخت اسکرب یا ضرورت سے زیادہ جلد کی صفائی اس کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں جلد پر سرخی، خارش، جلن اور خشکی بڑھ سکتی ہے۔ سردیوں میں، جب جلد پہلے ہی نمی کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے، یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اگر جلد خشک یا حساس ہے تو سخت اسکرب اور تیز اثر رکھنے والی مصنوعات سے گریز کریں۔ چہرے کو نرمی سے صاف کریں اور جلد کو نمی فراہم کرنے پر توجہ دیں۔ اگر کسی مصنوعات کے استعمال سے جلن یا سرخی ہو تو اسے روک دیں۔
ہونٹوں، ہاتھوں اور جسم کو بھی نظرانداز نہ کریں
سردیوں میں صرف چہرے کی جلد ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ ہونٹ، ہاتھ، کہنیاں اور پاؤں بھی خشک ہو سکتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوا، بار بار ہاتھ دھونے اور گرم پانی کے استعمال سے جلد کی نمی کم ہو سکتی ہے۔
ہونٹوں کو نرم رکھنے کے لیے سادہ اور بغیر خوشبو والا لپ بام استعمال کریں۔ ہونٹوں کو بار بار زبان سے گیلا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ تھوک خشک ہونے کے بعد خشکی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ہاتھ دھونے کے بعد موئسچرائزر لگائیں اور سرد ہوا میں باہر جاتے وقت دستانے پہنیں۔ نہانے کے بعد جسم کو نرمی سے خشک کرکے باڈی لوشن یا کریم لگائیں۔ پاؤں کی ایڑیوں پر خشکی زیادہ ہو تو وہاں نسبتاً گاڑھی کریم استعمال کی جا سکتی ہے۔
جلد کو صحت مند رکھنے کے لیے چند مزید احتیاطیں
سردیوں میں جلد کی دیکھ بھال کے ساتھ روزمرہ عادات بھی اہم ہیں۔ بہت دیر تک گرم پانی سے نہانے سے گریز کریں، کمرے کی ہوا بہت خشک ہو تو ہیومیڈیفائر استعمال کرنے پر غور کریں اور مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں۔ پانی پینا مجموعی صحت کے لیے ضروری ہے، تاہم صرف زیادہ پانی پینے سے جلد کی خشکی کا مکمل علاج نہیں ہوتا۔
اگر جلد کی خشکی مسلسل برقرار رہے، شدید خارش ہو، جلد پھٹنے لگے یا زخم بن جائیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں، کیونکہ بعض اوقات اس کی وجہ جلد کی کوئی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔
چہرے کے ساتھ ساتھ ہونٹوں اور ہاتھوں کی خصوصی دیکھ بھال کی جائے۔ سرد ہواؤں سے پھٹنے والے ہونٹوں پر معیاری لپ بام لگائیں اور ہاتھ دھونے یا نہانے کے فورا بعد ہینڈ کریم یا باڈی لوشن کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ جلد سارا سیزن نرم و ملائم رہے۔