سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد صدیق کو فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو شواہد کے غلط جائزے پر مبنی قرار دیا۔ عدالت عظمیٰ نے سزا بڑھانے کے لیے دائر درخواست غیر مؤثر قرار دے کر خارج کردی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ کا مقدمہ شکوک و شبہات سے بھرا ہوا ہے، مبینہ عینی شاہدین کی موجودگی موقع پر مشکوک ہے، گواہوں کے بیانات میں تضادات اور غیر فطری پہلو پائے جاتے ہیں، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر استغاثہ کے لیے نقصان دہ ہے۔
عدالت نے کہا کہ پوسٹ مارٹم میں غیر وضاحتی تاخیر نے بھی استغاثہ کے مؤقف کو مزید کمزور کیا، استغاثہ قتل کا محرک ثابت کرنے میں ناکام رہا، برآمدگی اور فرانزک شواہد براہِ راست ناقابل اعتماد شہادت کے بغیر مؤثر نہیں، محض ایک معقول شک بھی ملزم کو فائدہ دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، شک کا فائدہ دینا رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے محمد صدیق کو دفعہ 302 (b) کے تحت سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے ہرجانہ کی سزا سنائی تھی، لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔