معاشی شرح نمو کاغذی، حقیقی پیداوار میں اضافہ نہیں ہو سکا

0 minutes, 0 seconds Read
اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ (ای پی بی ڈی) نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 3.7 فیصد معاشی شرحِ نمو کو شماریاتی ہیر پھیرکا نتیجہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نمو صرف کاغذوں میں موجود ہے، زمینی سطح پر حقیقی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا۔

ای پی بی ڈی کے مطابق مختلف اشاریے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پہلی سہ ماہی کی نمو حقیقی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے بجائے درآمدی بنیادوں پر اسمبلنگ آپریشنز اور اعدادوشمارکے طریقہ حساب کی وجہ سے ظاہرکی گئی۔

تھنک ٹینک نے زور دیا کہ کاروبار کیلیے سازگار پالیسیاں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کے بغیر پائیدارمعاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ غذائی برآمدات میں 25.8 فیصد کمی آئی، جبکہ غذائی درآمدات 18.8 فیصد بڑھ گئیں، اس کے باوجود زراعت اور فوڈ مینوفیکچرنگ میں مثبت نمو دکھائی گئی، جو اعدادوشمار اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد ہے۔

ای پی بی ڈی نے صنعتی شعبے کی 9.4 فیصد نمو کو ڈیفلیٹر میں ہیر پھیرکا نتیجہ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے میں 25.46 فیصد نمو اصل پیداوار بڑھنے کے بجائے سبسڈیز میں اضافے کی وجہ سے ظاہر کی گئی۔

تھنک ٹینک کے مطابق تعمیرات کے شعبے میں 21 فیصد نمو دکھائی گئی، مگر یہ اضافہ مقامی پیداوار کے بجائے درآمدی مشینری اور گاڑیوں پر انحصار سے آیا، بسوں اور ٹرکوں کی درآمدات میں 1,180 فیصد اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کپاس کی پیداوار میں 1.2 فیصد کمی، کاٹن جننگ میں 12.1 فیصد کمی اورکپاس پر مبنی برآمدات میں تقریباً 10 فیصد کمی کے باوجود ٹیکسٹائل برآمدات میں 7.3 فیصد اضافہ دکھایا گیا، جودرآمدی مصنوعی فائبرز کے استعمال کا نتیجہ ہے۔

ای پی بی ڈی کے مطابق مجموعی قدرِ افزائش کے حساب میں بھی مسئلہ ہے، کیونکہ جب درمیانی لاگت پیداواری بہتری کے بغیرکم ہو تو جی وی اے خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف اوروزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 3.7 فیصد شرحِ نمو کو معیشت کے استحکام سے ترقی کی جانب بڑھنے کی علامت قراردیا ہے، تاہم ای پی بی ڈی کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود، زیادہ ٹیکس، مہنگی توانائی اور غیر مستقل پالیسیوں کے باعث پاکستان کے صنعتی اور برآمدی شعبے شدید دباؤکا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نصف میں درآمدات 11 فیصد بڑھیں، جبکہ برآمدات میں تقریباً 9 فیصد کمی ہوئی ہے۔

Similar Posts