نسخۂ نوابی

0 minutes, 0 seconds Read
پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے فائنل میں پاکستان کے روایتی حریف بھارت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے حیرت انگیز کارکردگی دکھائی۔

پاکستانی کھلاڑی زبیر منہاس نے 172 رنز کی شان دار اننگز کھیلی اور پاکستان کو 191 رنز کے بھاری مارجن کی جیت سے ہم کنار کرایا۔ یہ کارنامہ یقیناً قابل تحسین ہے اور اس سے یہ بھی امید بندھتی ہے کہ یہ انڈر 19 کے لڑکے آگے چل کر ہمیں بین الاقوامی مقابلوں میں اسی طرح سرخ رو کریں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نے بجا طور پر ٹیم کے کھلاڑیوں اور انتظامی عملے کو وزیر اعظم ہاؤس میں مدعو کرکے ان کی میزبانی کی اور انھیں شاباش دی جس کے وہ بجا طورپر مستحق تھے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ٹیم کے ہر کھلاڑی کو ایک کروڑ روپے کی گراں قدر رقم سے نوازا۔ نیز ٹیم کے انتظامی عملے کو بھی پچیس، پچیس لاکھ روپے کے انعامات عطا فرمائے۔ اس سے کرکٹ کے پاکستان میں فروغ کے امکانات روشن ہوں گے، کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگئی اور کرکٹ میں ہمیں جو عالمی حیثیت حاصل ہے وزیر اعظم صاحب کے خیال میں اس کو تقویت پہنچے گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ٹیم کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں مدعو کیا۔ ان کے کارنامے کی توصیف فرمائی، اس موقع پر فیلڈ مارشل صاحب نے بجا طور پر فرمایا کہ ایشیا کپ میں پاکستان کی یہ کامیابی قوم کے لیے باعث فخر ہے۔ ٹیم کا نظم و ضبط، ٹیم ورک اور فارمنگ اسپرٹ قابل تحسین ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب نے مزید کہا کہ ٹیم کے ان نوجوانوں کی محنت اور لگن ان کی بے پناہ صلاحیتوں کی عکاس ہے۔

وہ میدان کے اندر اور باہر اپنی صلاحیتوں کو برقرار رکھیں اور پاکستان کے سفیر بن کر رہیں۔ یہ تھے وہ الفاظ جن کی ٹیم کو ضرورت تھی اور جو اس کے پیش نظر رہنا چاہئیں۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ٹیم کے ہر کھلاڑی کو پچاس پچاس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے بھی ٹیم کی انتظامیہ کے ارکان کو مناسب رقم سے ضرور نوازا ہوگا۔

ایسے مواقع پر جو نقد انعامات دیے جاتے ہیں، ان کا مقصد کچھ کھلاڑیوں کی مفلسی دور کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ ان کی حوصلہ افزائی کا ایک مناسب طریقہ ہوتا ہے اور اسے ہونا چاہیے۔ ہمارے یہاں یہ دستور رہا ہے کہ ہاکی اور کرکٹ وغیرہ کھیلوں کے کھلاڑیوں کو مختلف دفاتر میں مناسب عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا اور ان کو کھیل کے مواقع فراہم کیے جاتے تھے تاکہ وہ اپنی گھریلو ذمے داریوں کو مناسب طور پر ادا کر سکیں اور ادھر سے بے نیاز ہو کر اپنی توجہ کھیل پر مرکوز کر سکیں۔ اس لیے ہم ایک عرصے تک ہاکی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بنے رہے۔

قدیم زمانوں میں نوابین اور حکمران اپنے درباروں سے پہلوان وابستہ رکھتے ۔ ان کو وظائف دیتے تھے اور توقع کرتے تھے کہ ان کے پہلوان دوسری ریاستوں یا نوابوں اور راجاؤں کے پہلوانوں کو زیر کر سکیں گے۔ یہ سارے اہتمام کچھ بے وجہ نہیں ہوتے تھے مگر یہ اس انداز میں کیے جاتے تھے کہ متعلقہ فرد اپنے فن میں یکتا ہو کر نکلتا، اپنی ریاست یا اپنے دیس کا نام بھی روشن کرتا اور بھوکوں مرنے سے بھی بچا رہتا۔ اسی لیے ان ریاستوں نے پہلوان اور گلوکار خوب پیدا کیے۔ ہم نے یہ جو طریقہ اپنایا ہے ایک تو اس میں مبالغہ ہے ایک کھیل کے ایک نتیجے پر انعامات کی یہ بارش محل نظر ہے مگر اس کا ایک نقصان بھی ہے۔ رقم آپ نے کتنی بڑی دے دی ہو وہ خرچ ہو جاتی ہے کھلاڑی کا روزگار سے بے نیاز ہو کر اپنے خاندان کی پرورش کے مناسب انتظامات سے مطمئن ہو کر کھیل کی دنیا میں نام کمانا ہی نتیجہ خیز عمل ہوتا ہے۔

اس عطائے خسروانہ کا ایک اور پہلو بھی محل نظر ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی سائنس دان کو، تاریخ کے کسی معلم کو، علم کے کسی محقق کو بھی اس طرح اپنی فیاضی سے نوازا ہے یا آپ کی عنایات و اکرام کا واحد مرکز کھیل کا میدان رہ گیا ہے۔

ایک زمانے میں یہ شعر لوگوں کی ورد زبان رہا کرتا تھا:

کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب

پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب

آپ کی ترجیحات یکسر تبدیل ہو گئی ہیں۔ آپ طالب علم کو ایک حقیر سا لیپ ٹاپ عنایت کر کے بڑے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ آپ نے علم اور طالب علم کی بڑی خدمت کی حالاں کہ وہ طالب علم اس لیپ ٹاپ کو لیے مارا مارا پھرتا ہے اور اسے روزگار کے مواقع فراہم نہیں ہوتے۔ آپ کتنے اچھے لائق طالب علموں کو ان کی شان دار تعلیمی کارکردگی پر کب اپنے مصارف کے لیے اعلیٰ تعلیم کی غرض سے ان غیر ملکی درس گاہوں میں نہیں بھیجتے اور ان کے تعلیمی مصارف کیوں برداشت نہیں کرتے کہ وہ اپنے ہی ملک میں ادنیٰ درجے کی نوکریوں کے لیے مارے مارے پھرتے رہیں۔

کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ آپ نے جامعات کے پوزیشن یافتہ طلبا کو وظائف عطا کیے ہوں کہ غریب والدین کے یہ ہونہار بچے اعلیٰ تعلیم سے مزین ہو کر اپنے وطن کا نام روشن کر سکیں ۔ آپ کے علم میں شاید یہ نہ ہو مگر آپ نے معاشرے کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ والدین کہتے ہیں کہ بچوں پڑھنا وڑھنا چھوڑو۔ کھیل کے میدان میں نامور بنو کہ اس ملک میں ناموری، خوشحالی اور خوش باشی کے لیے کھیل اور کھیل ضروری ہے۔ یہ پڑھنا لکھنا کسی کام آنے والا نہیں۔

پڑھو گے لکھو گے تو ہو گے خراب

کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب

Similar Posts