عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کو صدر ٹرمپ کے حکم پر ان کے صدارتی محل سے رات کو سوتے ہوئے اہلیہ سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔
نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی اسپیشل فورسز نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر وینزویلا سے نیویارک منتقل کیا تھا جہاں ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔
آج وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیشی کے لیے لے جایا جا رہا ہے جہاں انھیں منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔
امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق نکولس مادورو کو ڈاؤن ٹاؤن مین ہیٹن ہیلی پورٹ پر پہنچایا گیا جہاں سے انھیں ڈینیئل پیٹرک موئنہن یونائیٹڈ اسٹیٹس کورٹ ہاؤس منتقل کیا گیا۔
اس سے قبل انھیں ہتھکڑی لگا کر امریکا کی سڑکوں پر بھی گھمایا گیا جب کہ وہ لنگڑا کر چل رہے تھے اور ان کے آنکھوں پر کچھ دیر کے لیے پٹی بھی بندھی ہوئی تھی۔
وائرل ویڈیوز میں معزول صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس بھی ان کے ہمراہ دکھائی دیں۔
امریکا نے یہ ہتک آمیز سلوک اس کے باوجود کیا کہ جب گزشتہ روز وینزویلا کی عبوری حکمراں ڈیلسے روڈریگز نے اپنے ابتدائی سخت موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے امریکی حکومت کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی تھی۔
وینزویلا کے تعاون کی پیشکش کو خود امریکا نے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا تھا لیکن آج گرفتار صدر کے ساتھ حسن سلوک نہیں برتا گیا۔