صوبائی کابینہ نے مخصوص نشستیں ووٹوں کی بنیاد پر دینے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے خواتین اور غیر مسلم نشستوں کا موجودہ آئینی طریقہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی رکن کے آئینی ترمیمی بل پر پنجاب حکومت نے منفی جواب دیا ہے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کی تجویز قابلِ عمل نہیں۔
اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی و نجکاری نے بل مسترد کر دیا جبکہ پنجاب کابینہ نے اسٹینڈنگ کمیٹی کی سفارشات کی توثیق کر دی۔
مخصوص نشستوں کا فارمولہ تبدیل نہ کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ ووٹوں کی بنیاد پر مخصوص نشستیں دینے کی تجویز مسترد کر دی۔
صوبائی کابینہ نے وزارتِ قانون کو فیصلے سے آگاہ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے وفاق کو باضابطہ جواب دینے کی منظوری بھی دے دی۔
معاملہ خواتین اور غیر مسلم مخصوص نشستوں کے انتخاب سے متعلق تھا۔ قومی اسمبلی میں مخصوص نشستیں اس وقت جنرل نشستوں کی بنیاد پر دی جاتی ہیں۔
نجی رکن کے بل کے ذریعے یہ طریقہ تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی جس میں تجویز تھی کہ مخصوص نشستیں ووٹوں کی بنیاد پر دی جائیں۔
بل میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم شامل تھی جبکہ نجی رکن کا آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بل کو متعارف کروانے کا حکم دیا تھا۔
وفاقی وزارتِ قانون و انصاف نے بل پر صوبوں سے رائے مانگی تھی جبکہ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کے ذریعے پنجاب حکومت سے مؤقف طلب کیا گیا۔ معاملہ سیاسی نوعیت کا ہونے کے باعث صوبائی کابینہ کو بھیجا گیا۔