امریکہ گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک سے بات چیت کے لیے تیار

0 minutes, 0 seconds Read

امریکہ کی جانب سے گرین لیںڈ سے متعلق سخت بیانات کے بعد سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ گرین لینڈ کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر نے کولمبیا کے معاملے پر مؤقف میں نرمی لاتے ہوئے کولمبیئن صدر کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی فوجی آپشن ہمیشہ سے موجود ہے، اگر ضرورت پڑی تو وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

اس بیان کے بعد ڈنمارک نے معاملے کو حل کرنے کے لیے امریکی حکام سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارز لوکے راسموسن نے بتایا کہ گرین لینڈ کی حکومت اور ڈنمارک نے مشترکہ طور پر یہ ملاقات طے کی ہے تاکہ امریکی بیانات کی وضاحت ہو سکے اور کسی قسم کی غلط فہمی دور کی جا سکے۔

گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویویان موٹزفیلڈٹ نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اس ملاقات کا مقصد امریکہ کی طرف سے گرین لینڈ کے بارے میں دیے گئے سخت بیانات پر بات چیت کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ امریکہ کی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔

یورپی رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر ایک مشترکہ بیان میں گرین لینڈ اور ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کے احترام کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ گرین لینڈ پر حملہ کرتا ہے تو اس کا مطلب نیٹو اتحاد کا خاتمہ ہوگا۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے امریکی اراکینِ کانگریس کو بتایا کہ امریکی حکومت کا گرین لینڈ کو خریدنے کا ارادہ ہے جو کہ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے اور نیٹو کا حصہ بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے فی الحال فوجی طاقت کا استعمال امریکا کی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔

دوسری جانب امریکا اور کولمبیا کے درمیان کشیدگی میں بھی کمی سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد اپنے مؤقف میں واضح نرمی کا اظہار کیا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ کولمبیا کے صدر نے منشیات اور دیگر اختلافی امور پر صورتحال کی وضاحت کے لیے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوستاوو پیٹرو سے بات کرنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔ میں نے ان کی کال اور لہجے کو سراہا اور جلد ان سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گوستاوو پیٹرو، ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد سے ہی سخت ناقد رہے ہیں۔ پیٹرو نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ہونے والے امریکی چھاپے کو لاطینی امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

صدر گوستاوو پیٹرو نے بدھ کی رات عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان کی صدر ٹرمپ سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر بننے کے بعد ہماری یہ پہلی ٹیلی فونک گفتگو تھی جس میں ہم نے وینزویلا اور منشیات کی اسمگلنگ کے مسئلے پر بات کی۔ صدر پیٹرو کے مطابق انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کی بھی درخواست کی۔

چند روز قبل ہی صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کے بعد صدر پیٹرو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور انہیں ’بیمار آدمی‘ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے صدر پیٹرو اور ان کے خاندان کے بعض افراد پر پابندیاں بھی عائد کیں اور الزام لگایا کہ وہ امریکا میں کوکین کی اسمگلنگ روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

Similar Posts