پاکستان تگڑا لیکن کچھ مسائل لا ینحل

0 minutes, 2 seconds Read
مئی 2025 میں پاکستان ایئر فورس کی بہت شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک اور اس کی کئی گنا بڑی فضائیہ کو بھرپور مات دی۔ یہ ایک بہت نمایاں،اہم اور تاریخی کامیابی تھی۔کہتے ہیں Nothing succeeds like successاس شاندار کارکردگی سے پاکستانیوں کا اپنی افواج اور خاص کر ایئر فورس پر اعتماد قائم ہوا۔اس سے 1971ء کی مشرقی پاکستان کی جنگ کے بعد ہندوستان کی برتری کا زعم ٹوٹا،اس سے مغربی ہتھیاروں کی اجارہ داری ختم ہوئی اور ان مغربی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ چینی دفاعی انڈسٹری کو Credibility ملی۔

اس سے ہندوستان کا چین کی مقابل قوت ہونے کا دعویٰ زمین بوس ہوا، اس سے ہندوستان کا خطے کی ایک غالب ریجنل قوت کے طور پر پوز کرنا رک گیا،اس سے پوری دنیا اور خاص کر خطے میں پاکستان کی پروفائل بہتر ہوئی،اس سے دنیا نے جانا کہ پاکستان تر نوالہ نہیں بلکہ ایک ابھرتی با اعتماد قوم ہے جو اس کی طرف بڑھنے والے ہر ہاتھ کو معذور کر دے گی۔ اس کامیابی سے نفرت اگلتے،چیختے چنگھاڑتے، دھمکیاں دیتے وزیرِ اعظم ہندوستان جناب مودی جی کی سٹی گم ہو گئی اور بے پر کی اڑاتے ہندوستانی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا۔

یہ ایسی شاندار کامیابی تھی جو ہر ایک کو نظر آئی اور جسے مانا گیا۔ہم پاکستانیوں کو اس پر اﷲ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور افواجِ پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا سکیں اور مخالف قوتوں کو باور کرا سکیں کہ پاکستان ایک مضبوط ملک ہے،اس سے دشمنی کے بجائے دوستی ہی ایک مفید طرزِ عمل ہے۔اگر بغور دیکھا جائے تو پاکستان دفاعی محاذ پر کبھی بھی ایک کمزور ملک نہیں تھا۔

1948کے شروع میں کشمیر میں قائم ہونے والی سیز فائر لائن کا بس نام ہی تبدیل ہو کر لائن آف کنٹرول ضرور بن گیا لیکن ہندوستان نہ تو کشمیر کو ہڑپ کر سکا اور نہ ہی کنٹرول لائن کو تبدیل کر سکا۔صرف یہی بات اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان دفاعی اعتبار سے ایک مضبوط ملک ہے۔ 1971کی مشرقی پاکستان کی جنگ ایک Exception تھی کیونکہ اس وقت ہماری ناعاقبت اندیش قیادت مدہوش تھی۔ہمارے مشرقی پاکستانی بھائیوں کی ایک تعداد نے ہندوستان کے جھانسے میں آکر ہتھیار اُٹھا لیے تھے اور پاکستان کے دونوں بازؤں کے درمیان ایک ہزار میل دشمن ملک تھا ورنہ اسی جنگ میں مغربی محاذ پر ہندوستان کامیاب نہیں ہوا تھا۔اب افواجِ پاکستان تیار اور چوکس ہیں اور پاکستان کا ہر شہری اپنے ملک سے بے پناہ اور والہانہ محبت کرتے ہوئے اس کی حفاظت کے لیے سر بکف ہے۔

مئی 2025 کی کامیابی سے ہمیں غافل نہیںہونا چاہیے جو ممالک معاشی طور پر دست نگر ہوتے ہیں ان کی بقا ہمیشہ خطرے میں رہتی ہے۔سوویت یونین جس وقت ٹوٹا اس وقت وہ دفاعی طور پر دنیا کا بہت مضبوط ملک تھا۔یوں ہی پاکستان کے چند ایک ایسے مسائل ہیں جو اس کی ترقی اور اُٹھان کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں۔ان مسائل میں سے ایک مسئلہ اندرونی ہے جو ہے تو بہت گمبھیر لیکن لاینحل نہیں۔اگر قیادت اہل اور مخلص ہو اور صرف عوام سے قربانی مانگنے کے بجائے خود بھی اسی طرح قربانی دینے کے لیے تیار ہو تو یہ مسئلہ بہترین پلاننگ سے جلد حل ہو سکتا ہے۔ 

پاکستان کو کمزور معیشت ورثے میں ملی تھی لیکن جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور تک اس کے اندر سکت تھی اور پاکستان ترقی کر رہا تھا۔جناب ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائیزیشن اور دوسری ایسی ہی پالیسیوں نے ملک کے اندر صنعت و حرفت کو بڑا نقصان پہنچایا۔بڑے صنعت کار اور سرمایہ دار ملک سے اپنا سرمایہ نکال کر لے گئے۔ان غلط پالیسیوں کا مکمل ازالا ابھی تک نہیں ہوا۔صنعت و حرفت کے ساتھ پاکستان کی زراعت بھی اجڑی حالانکہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔

رہی سہی کسر ضیاء الحق کے مارشل لاء نے نکال دی۔افغانستان کی جنگ میں کودنے کی وجہ سے پاکستانی لبرل معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا گیا،اس کے ساتھ پاکستانی معیشت ابتر سے ابتر ہوتی چلی گئی لیکن امریکی فوجی اور مالیاتی مدد کی وجہ سے اس کا پورا ادراک اس وقت نہ ہو سکا۔ مشرف کے دور میں پھر یہی غلطیاں دہرائی جاتی رہیں یہاں تک کہ دو اڑھائی سال پہلے تک معیشت اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ ہر وقت ڈیفالٹ کا عفریت منہ کھولے کھڑا تھا۔حالیہ برسوں میں معیشت کچھ سنبھلی ہے۔افراطِ زر وقتی طور پر قابو میں ہے،اسٹاک مارکیٹ اچھا پرفارم کر رہی ہے۔ایکس چینج ریٹ Stableہے اور پالیسی ریٹ سنگل ڈجٹ کی طرف جا رہا ہے لیکن یہ سب کچھ آئی ایم ایف،چین اور خلیجی ممالک کے بڑھتے قرضوں کی بدولت ہے۔آئی ایم ایف اپنا شکنجہ کستی جا رہی ہے اور جس طرف چاہتی ہے نکیل موڑ دیتی ہے۔

پاکستان کا دوسرا بڑا مسئلہ بھی وراثت میں ملا ہے لیکن ظاہری طور پر یہ لاینحل ہے۔ہندوستان اور افغانستان ابتدا سے ہی پاکستان کی بقا کے شدید مخالف رہے ہیں۔خطے میں البتہ پاکستان کے لیے حالات بہتر ہوئے ہیں اور Opportunitiesبڑھی ہیں لیکن ان دو پڑوسی ممالک کی طرف سے دشمنی میں اضافہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جون2025 تک ایران بھی پاکستان کو ٹف ٹائم دے رہا تھا۔پھر ایران کے اوپر اسرائیل اور امریکا نے حملہ کر دیا۔پاک ہندوستان جنگ میں ایران نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تھا لیکن جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا۔پاکستان کے اس غیر مشروط حمایتی طرزِ عمل سے ایران کے رویے میں واضح تبدیلی نظر آئی لیکن ایران ابھی بھی ہندوستان کو افغانستان،سینٹرل ایشیا تک پہنچنے اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے زمین اور مواقع دے رہا ہے۔

زاہدان پاکستان کے بارڈر کے بہت قریب ایک ایرانی شہر ہے۔ زاہدان میں کوئی ہندوستانی کمیونٹی نہیں لیکن وہاں ایک بڑا ہندوستانی قونصل خانہ ہے جس میں 20سے اوپر ہندوستانی اہلکار کام کر رہے ہیں۔ سوال ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں کے علاوہ کیا کر رہے ہیں۔پاکستان بارہا اس مسئلے کو اُٹھا چکا ہے۔اس ہندوستانی قونصل خانے کے زیادہ تر اہلکار انٹیلیجنس اداروں سے ہیں۔پاکستان پوری کوششوں اور بہت اچھی نیت کے باوجود افغانستان اور ہندوستان سے تعلقات اچھے نہیں کر سکا۔ پڑوسی بدلے نہیں جا سکتے اس لیے اڑوس پڑوس بہت ہی اہم ہوتا ہے۔

نیپال، سری لنکا اور مالدیپ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کافی اچھے ہیں۔ امریکا بہت اہم ہے۔صدر ٹرمپ نے جو موقع مہیا کیا ہے اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پاکستان کو واشنگٹن کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں گھسنے کی کوشش کرنی چاہیے۔قدرت نے بنگلہ دیش میں تبدیلی سے اچھے حالات اور مواقع پیدا کر دیے ہیں۔بنگلہ دیش ہندوستان کے حلقہ ء اثر سے نکل چکا ہے۔ہمارا دفاع اﷲ کے کرم سے مضبوط ہے لیکن خراب اکانومی نے ہمارے لیے بے شمار مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔اگر ہم اپنی اکانومی کو ٹھیک کر لیں تو بہت ممکن ہے کہ ہندوستان اور افغانستان بھی پاکستان کی جانب اچھا رویہ اپنانے پر مجبور ہو جائیں۔

Similar Posts