جسکے باعث سندھ میں گذشتہ 2 سال کے مقابلے میں دوگنااضافے سے 82 جننگ فیکٹریاں فعال ہوگئی ہیں۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایاکہ روایتی طور پر سندھ کے بڑے کاٹن زون کے بیشتر اضلاع جن میں بدین، ٹھٹھہ، میرپور خاص، حیدر آباد، عمرکوٹ اورسانگھڑ شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ دیگرکچھ علاقوں میں فروری اورمارچ کے دوران کپاس کی کاشت شروع ہونے سے جون کے مہینے سے ہی نئے کاٹن جننگ سیزن کاآغاز ہو گیا اوراکتوبر، نومبر میں اس کااختتام ہوتا تھا۔
اس دوران پنجاب کے متعدد کاٹن جنرز بھی سندھ سے کپاس کی خریداری کرکے اپنی جننگ فیکٹریوں کوفعال کر لیا کرتے تھے۔
تاہم گزشتہ تین سال سے سندھ کی بیشترکاٹن جنرز نے پنجاب کی بیشتر بڑی منڈیوں رحیم یار خان،بہاولپور، بہاولنگر، ڈی جی خان، خانیوال اور وہاڑی کے ساتھ بلوچستان سے بھی اعلیٰ معیارکی کپاس کی خریداری شروع ہونے سے سندھ میں 31 دسمبرکو سندھ بھر میں فعال کاٹن جننگ فیکٹریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کے مذکورہ کاٹن زون میں بیشتر فعال جننگ فیکٹریاں فی الوقت اعلیٰ اور درمیانے معیارکی کپاس کومکسڈ کر کے کاٹن کی جننگ کررہے ہیں، جس سے مقامی ٹیکسٹائل ملوں کومناسب قیمتوں پرروئی کی فراہمی کے مواقع پیداہوگئے ہیں اور انہی عوامل کے سبب روئی طلب اورقیمتوں میں بتدریج اضافے کا رحجان پیدا ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روئی کی فی من قیمت گذشتہ ہفتے 200 سے 300 روپے کا اضافہ سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں فی من روئی کی قیمت 15 ہزار روپے سے بڑھکر 15 ہزار 300 روپے کی سطح پر آگئی ہے،جبکہ اعلیٰ معیارکی روئی کی قیمتیں بدستور 16 ہزارروپے فی من پربرقرار ہیں۔