آسٹریلیا نے بھارت سمیت چار ممالک کو اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے ’ہائی رسک‘ کیٹیگری میں ڈال دیا

سڈنی: آسٹریلیا نے بھارتی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا کے قوانین مزید سخت کرتے ہوئے بھارت کو نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان کے ساتھ ’’سب سے زیادہ خطرے‘‘ (Highest Risk) کیٹیگری میں شامل کر دیا ہے۔

آسٹریلوی اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ معمول کے شیڈول سے ہٹ کر کیا گیا، جس کی وجہ حکام نے ویزا سسٹم میں سامنے آنے والے ’’نئے دیانت داری کے خدشات‘‘ قرار دیے ہیں۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اگرچہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کو اس کیٹیگری میں شامل کرنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، تاہم رپورٹس میں جعلی ڈگریوں اور جعلی تعلیمی دستاویزات کے کئی واقعات سامنے آنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

میڈیا کے مطابق اس وقت آسٹریلیا میں موجود تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار غیر ملکی طلبہ میں سے لگ بھگ ایک لاکھ 40 ہزار کا تعلق صرف بھارت سے ہے، جبکہ چاروں ممالک مجموعی طور پر 2025 میں داخلہ لینے والے طلبہ کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی رسک کیٹیگری میں شامل ہونے کے بعد طلبہ کو مالی وسائل، انگریزی زبان کی اہلیت اور تعلیم کے حقیقی مقصد سے متعلق زیادہ سخت دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جس سے ویزا پراسیسنگ سست اور مہنگی ہو سکتی ہے۔

آسٹریلوی تعلیمی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اچانک تبدیلی سے تعلیمی اداروں اور طلبہ دونوں میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حقیقی اور سنجیدہ طلبہ کے لیے آسٹریلیا میں تعلیم کے دروازے بدستور کھلے رہیں گے۔

Similar Posts