قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے صدر کے دستخطوں (منظوری) کے بغیرجاری ہونے نوٹیفیکشن کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
سید نوید قمر کی قیادت میں پی پی اراکین نے واک آؤٹ کیا۔ جس کے بعد کورم پورا نہ ہونے پرقومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی 15منٹ کیلئے ملتوی کیا گیا۔
واک آؤٹ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ آج پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کیونکہ حکومت نے صدرکے دستخطوں کے بغیرآرڈیننس جاری کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ایسا واقعہ کبھی نہیں نہیں آیا کہ صدر کی منظوری کے بغیر ہی آرڈیننس جاری کردیا جائے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیپلزپارٹی کے تحفظات کو سُن کر کہا کہ سوشل میڈیا پر آرڈیننس کے حوالے سے مختلف چیزیں چل رہی ہیں ہم چیک کرلیتے ہیں۔
اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ صدر مملکت نے اسلام آباد میں مقامی حکومت کے قیام سے متعلق اسلام لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا صدارتی آرڈیننس جاری کردیا۔
آرڈیننس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کا نظام ختم کر کے ٹاؤن کارپوریشنز قائم کیے جائیں گے جبکہ اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا۔
آرڈیننس کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں اتنی ہی یونین کونسلز ہوں گی جتنی وفاقی حکومت نوٹیفائی کرے گی، حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات سننے کے بعد ٹاؤن کارپوریشن اور یونین کونسلز کی حدود میں ترمیم کر سکے گی تاہم الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کسی قسم کی حلقہ بندی میں تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔
آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقامی حکومت سے مراد یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن ہو گی، جبکہ جہاں مقامی حکومت فعال نہیں ہو گی وہاں حکومت ایڈمنسٹریٹر تعینات کرے گی۔ سربراہ سے مراد ٹاؤن کارپوریشن کا مئیر یا یونین کونسل کا چیئرمین ہوگا۔
انتظامی ڈھانچے کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک مئیر اور دو ڈپٹی مئیر ہوں گے، جبکہ یونین کونسل کے چیئرمین بطور جنرل ممبران ٹاؤن کارپوریشن کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں چار خواتین، ایک کسان یا ورکر، ایک تاجر یا بزنس مین، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم رکن شامل ہو گا۔
یونین کونسل کی سطح پر جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا، جس کے لیے پوری یونین کونسل کو ملٹی ممبر وارڈ قرار دیا گیا ہے۔ ہر ووٹر صرف ایک جنرل ممبر امیدوار کو ووٹ دے سکے گا اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والے نو امیدوار جنرل ممبران منتخب ہوں گے۔
کامیاب امیدوار تیس دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکیں گے، جنرل ممبران یونین کونسل کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے، جبکہ جنرل اور مخصوص نشستوں کے ممبران مل کر اپنے اندر سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب بھی شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے۔