امریکی فاسٹ بولر علی خان نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی اسٹوری میں بروسٹ کھاتے ہوئے اپنی تصویر شیئر کی اور کیپشن میں لکھا کہ بھارتی ویزے کی درخواست مسترد کری گئی جس کے باعث امریکی ٹیم کی تیاریوں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
علی خان کی انسٹاگرام اسٹوری سے یہ واضح ہوگیا کہ فی الحال انہیں بھارت میں داخلے کی اجازت حاصل نہیں ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ گروپ اے میں شامل امریکا کے زیادہ تر میچز بھارت میں شیڈول ہیں۔
امریکا کو 7 فروری کو ممبئی کے وانکھنڈے اسٹیڈیم میں میزبان بھارت کے خلاف کھیلنا ہے، جس کے بعد چنئی میں نیدرلینڈز اور نمیبیا کے خلاف مقابلے ہوں گے۔
اگر ویزے کا مسئلہ بروقت حل نہ ہوا تو ٹیم کو آخری وقت میں اسکواڈ میں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں جو ان کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی۔
اگرچہ علی خان کے علاوہ دیگر کسی کھلاڑی کی جانب سے ویزا مسترد ہونے کی براہِ راست تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق دیگر پاکستانی نژاد امریکی کھلاڑیوں، شایان جہانگیر، احسان عادل اور محمد محسن کو بھی اسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تاحال یو ایس اے کرکٹ اور آئی سی سی کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت میں ہونے والے میچز سے قبل کئی ایسوسی ایٹ ٹیموں کو ویزا مسائل کا خدشہ لاحق ہے، خاص طور پر ان کھلاڑیوں کو جن کا تعلق پاکستانی پس منظر یا دستاویزات سے ہے، کیونکہ ان کی درخواستوں پر اضافی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
اس صورتحال نے ٹورنامنٹ سے قبل انتظامی مسائل کو ایک غیر ضروری بحث بنا دیا ہے۔