اس کا تازہ ترین ثبوت اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی وہ رپورٹ ہے جس کے مطابق دنیا کی 100 سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی مجموعی آمدنی 5.9 فی صد کے غیرمعمولی اضافے کے ساتھ 679 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ محض چند مارکیٹوں کی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیلی بے یقینی، بڑھتی کشیدگی اور جنگوں کے پھیلتے دائرے کا عکس ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف یورپ کی عسکری سوچ بدل دی ہے بلکہ اسلحہ پیدا کرنے والی صنعت کو بھی ایک نئے تجارتی عروج تک پہنچا دیا ہے۔ مشرقی یورپ سے لے کر اسکنڈے نیویا تک وہ ممالک جو برسوں سے دفاعی بجٹ محدود رکھنے کی روایت پر قائم تھے، اب تیزی سے جدید ہتھیار خریدنے کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں۔
ان ممالک کے خدشات محض جذباتی نہیں بلکہ یوکرینی میدانِ جنگ سے آنے والی روزانہ کی تصاویر اور رپورٹس نے انہیں باور کرایا ہے کہ کسی بھی لمحے دفاعی تیاری میں معمولی کم زوری بھاری نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی احساس اسلحہ ساز کمپنیوں کے منافع کو ایک نئے خطّے میں لے آیا ہے جہاں یورپی پیداوار اور سرمایہ کاری دونوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا۔
اسی دوران، مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان جاری تباہ کن جنگ نے خطے کی عسکری ضروریات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ میں جاری کارروائیوں نے نہ صرف اسرائیل کے اسلحہ اسٹاک کو متاثر کیا بلکہ علاقائی طاقتوں کو بھی ایک بڑے تصادم کے خدشات کے پیشِ نظر اپنے ہتھیاروں کے ذخائر میں اضافہ کرنا پڑا۔
ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک نے گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑے دفاعی معاہدے کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار مشرق وسطیٰ کی نو کمپنیاں ٹاپ 100 کی فہرست میں شامل ہوئی ہیں، جو اس بات کا اظہار ہے کہ یہ خطہ اب اسلحہ پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے بڑے مراکز میں شمار ہونے لگا ہے۔
امریکی اسلحہ ساز صنعت اپنی طاقت اور وسعت کے باعث بدستور اس فہرست میں سرِفہرست ہے۔ نہ صرف امریکی کمپنیوں نے اپنا مارکیٹ شیئر برقرار رکھا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ کے نظام اور میزائل ڈیفنس سسٹمز میں سرمایہ کاری کے باعث ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ امریکا کی جنگی حکمت عملی پہلے سے زیادہ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہے، اور یوکرین سمیت مختلف خطوں کو جاری فوجی امداد بھی اس کاروبار کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
روس کی عسکری صنعت کے معاملے میں تصویر بظاہر مختلف لیکن حقیقت میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ مغربی پابندیوں نے بلاشبہہ روسی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کیں، مگر بیرونی دباؤ کے باوجود روسی پیداوار میں 23 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پابندیوں سے کٹے ہوئے ماحول نے روسی صنعت کو خودکفالت کی طرف تیزی سے دھکیلا، اور جنگی حالات نے ملک کے اندر عسکری پیداوار کی طلب کو مزید بڑھا دیا۔ البتہ ماہر مزدور کی کمی روسی دفاعی شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس نے کئی منصوبوں کی رفتار کو متاثر کیا۔
اسی دوران ایشیا اور اوشینیا میں صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔ چین، جو گذشتہ دو دہائیوں سے عالمی اسلحہ مارکیٹ کا ابھرتا ہوا دیو سمجھا جاتا تھا، اب اپنی عسکری صنعت میں سست روی کا سامنا کر رہا ہے۔ تجزیات کے مطابق یہ کمی صرف معاشی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی صنعتی ڈھانچے، سپلائی چین کے دباؤ اور حکومتی اصلاحات کا امتزاج ہے۔ چینی کمپنیوں کی آمدنی میں کمی نے مجموعی طور پر ایشیائی مارکیٹ کو متاثر کیا، حالانکہ بھارت، جنوبی کوریا اور جاپان جیسے ممالک دفاعی بجٹ بڑھانے کے باوجود اس کمی کو پورا نہ کر سکے۔
عالمی اسلحہ تجارت کی یہ غیرمعمولی وسعت ایک گہرا سوال بھی اٹھاتی ہے: کیا دنیا امن کی جانب بڑھ رہی ہے یا تصادم کے ایک نئے باب کی طرف؟ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی طلب خود ایک عنصر کے طور پر تناؤ کو مزید بڑھاتی ہے، کیوںکہ جب خطے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرتے ہیں تو پڑوسی ممالک بھی ردِعمل میں اسی سمت قدم بڑھاتے ہیں، اور یوں عسکری مقابلہ زمین کے مختلف حصوں میں ایک مستقل عمل کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت کا توازن آج تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ اقتصادی دباؤ، جغرافیائی مسابقت، وسائل کی لڑائی، نظریاتی تقسیم اور سرد جنگ کے بعد پیدا ہونے والا خلاء اب ایک ایسے ماحول کو جنم دے رہا ہے جہاں عسکری طاقت دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ہتھیارساز صنعتوں کا منافع اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک تنازع سے بچنے کے بجائے ممکنہ تصادم کی تیاری میں زیادہ دل چسپی لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ان تمام عوامل کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ عالمی اسلحہ صنعت تاریخ کی سب سے بلند سطح پر پہنچ چکی ہے، اور عہد حاضر میں بڑھتی ہوئی جنگی معیشت کا ایک ناقابلِ فراموش سنگِ میل بن کر سامنے آئی ہے۔ لیکن سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب اسلحہ بیچنے والوں کے لیے جنگ منافع کا بہترین ذریعہ بن جائے تو امن کس کے مفاد میں باقی رہتا ہے؟ یہ سوال شاید اقوامِ متحدہ سے زیادہ عالمی ضمیر کے دروازے پر دستک دیتا ہے، مگر بدقسمتی سے تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب بارود کی بو پھیلتی ہے تو انسانیت کی آواز اکثر پس منظر میں دھندلا جاتی ہے۔
عالمی رپورٹیں آنے والے برسوں کے لیے بھی اسی رجحان کی پیش گوئی کر رہی ہیں۔ اگر دنیا اپنی موجودہ سمت پر قائم رہی تو دفاعی اخراجات مزید بڑھیں گے، تنازعات مزید پیچیدہ ہوں گے، اور اسلحہ ساز صنعت اپنی نئی بلندیوں کو چھوتی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالمی امن کے لیے سب سے بڑا چیلنج جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ اس سوچ کا خاتمہ ہے جو اسے ایک منافع بخش صنعت میں بدل دیتی ہے۔ دنیا جب تک اس بنیادی تضاد کو نہیں سمجھتی، اس وقت تک اسلحہ ساز کمپنیاں ریکارڈ کمائیں گی اور انسانیت ریکارڈ کھوئے گی۔
مزید برآں جنوبی ایشیا میں دفاعی حکمتِ عملی اور طاقت کے توازن پر حالیہ برسوں میں کئی عوامل نے اثر ڈالا ہے، مگر لندن کے معتبر جریدے اکانومسٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت کی جنگی ٹیکنالوجی کی صنعت نے ایک غیر معمولی رفتار سے ترقی دکھائی ہے۔ پاکستان کے ساتھ حالیہ چار روزہ فضائی و میزائل کشیدگی نے اس پورے منظرنامے کو غیرمبہم انداز میں سامنے رکھ دیا ہے اور واضح کر دیا ہے کہ خطے میں اب جنگ کا تصور صرف عسکری قوت نہیں بلکہ تکنیکی مہارت، صنعتی رفتار، ڈیجیٹل جنگی صلاحیت اور جدید تحقیق کے امتزاج سے جڑے گا۔
اکانومسٹ کی رپورٹ کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ بھارت کی دفاعی صنعت اس مختصر مگر شدید تصادم کے بعد ایک نئی جہت میں داخل ہو گئی ہے۔ فضائی دفاع کے نظام، ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبے، جو چند سال پہلے تک بھارت کے دفاعی ڈھانچے کے ذیلی حصے سمجھے جاتے تھے، آج سرمایہ کاری، حکومتی ترجیحات اور عالمی ہتھیار ساز کمپنیوں کی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر بنگلور کے اسٹارٹ اپس، جنہوں نے جنگ کے دوران تکنیکی معاونت فراہم کی، اب سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ترین انتخاب بن چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چار روزہ تصادم میں بھارت کا فضائی دفاع ڈرون حملوں کے غیرمتوقع دباؤ کے سامنے ہچکچاہٹ کا شکار رہا۔ درجنوں کی تعداد میں سستے ڈرونز نے نہ صرف اس کے سینسرز اور انٹرسیپٹرز پر دباؤ بڑھایا بلکہ اس کے دفاعی نظام کی کم زوریوں کو بے نقاب بھی کیا۔ کم لاگت والے ڈرونز کے جواب میں قیمتی انٹرسیپٹر میزائلز کا استعمال نہ صرف اقتصادی طور پر نقصان دہ ثابت ہوا بلکہ حکمتِ عملی کے لحاظ سے بھی غیرمؤثر رہا۔ یہ وہ خامی ہے جس نے بھارت کو مجبور کیا کہ وہ کشیدگی کے فوراً بعد 5 ارب ڈالر کی ایمرجنسی جنگی خریداری کا فیصلہ کرے ایک ایسا بڑا قدم جس کا مقصد میزائلوں، گولہ بارود اور دفاعی ذخائر کی فوری بحالی ہے۔
یہ پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ بھارتی فضائی دفاع جدید میزائلوں کی تکنیکی صلاحیت کے باوجود فریبی اہداف سے الجھ گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، اگر ڈیجیٹل جنگی ماحول میں مصنوعی ذہانت اور ریئل ٹائم ڈیٹا فِلٹریشن مضبوط نہ ہو تو ہائی ٹیک دفاعی نظام بھی غلط سمت میں گولی چلا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اب تقویت یافتہ مصنوعی ذہانت کی معاونت سے چلنے والے فضائی دفاعی نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، تاکہ کوئی بھی سسٹم حقیقی اور جعلی اہداف میں فوری فرق کر سکے۔
بنگلور کے اسٹارٹ اپس نے بھی اس پورے واقعے کے بعد غیرمعمولی توجہ حاصل کی ہے۔ جنگ کے دوران کئی نجی کمپنیوں نے سافٹ ویئر، رئیل ٹائم ڈیٹا اینالیسز، ڈرون آپریشنز اور الیکٹرانک وارفیئر میں تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔ اب انہی کمپنیوں پر سرمایہ کاری کی بارش ہو رہی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جو بھارت کے دفاعی شعبے پر نجی ٹیکنالوجی انڈسٹری کی گرفت مزید مضبوط کرے گی۔ دفاعی خود کفالت کے حکومتی پروگرام بھی اسی سمت قدم بڑھا رہے ہیں، جس سے مقامی صنعت کو ایک مضبوط بنیاد مل رہی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بھارت نے نہ صرف ابھرتی ٹیکنالوجیز بلکہ کلاسیکی دفاعی سامگری (میزائلوں کا ذخیرہ، توپ خانہ کے گولے اور ریڈار کی اپ گریڈنگ) میں بھی فوری سرمایہ کاری کی ہے۔ اس ہنگامی فیصلے نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ بھارت مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی کشیدگی کے لیے مکمل تیاری چاہتا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر خطے کی اسلحہ دوڑ اور تزویراتی ماحول پر پڑنا یقینی ہے۔
اگر مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو بھارت کی دفاعی صنعت کی تیزرفتار ترقی کئی سطحوں پر اثر ڈال رہی ہے۔ ایک طرف مقامی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو عالمی ساکھ مل رہی ہے، نجی اسٹارٹ اپس کو سرمایہ کار مل رہے ہیں، اور تحقیق و ترقی کے میدان میں نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ دوسری طرف یہ ترقی خطے میں عدم توازن کو بھی بڑھا رہی ہے، خصوصاً اس وقت جب کم لاگت والے ڈرون سوارمز، آرٹیفشل انٹیلیجنس اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے ہتھیار جنگ کے تصور کو بدل رہے ہوں۔
اس پورے منظرنامے سے سب سے اہم سبق یہ سامنے آتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں وسائل کے حجم سے زیادہ ٹیکنالوجی، رفتار، ڈیٹا اور خودکار دفاعی نظاموں کی بنیاد پر لڑی جائیں گی۔ بھارت اس دوڑ میں بے شک تیزی دکھا رہا ہے، لیکن اس نے اپنی کئی کمزوریاں بھی کھلی چھوڑی ہیں جن میں فضائی دفاع کی کم زور برقی امتیازی صلاحیت، مہنگے میزائل/ آلات پر انحصار، ڈیجیٹل جنگی ماحول میں آرٹیفشل انٹیلیجنس کا محدود کردار، اور فریبی اہداف / دھوکہ دینے والے نشانات کے سامنے سسٹم کی کنفیوژن شامل ہیں۔
اکانومسٹ کی رپورٹ ہمیں بتاتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دفاعی طاقت صرف روایتی ہتھیاروں کی نہیں بلکہ اس پوری تکنیکی دنیا کی کشمکش ہے جہاں ڈرونز، سینسرز، الگورتھمز، ڈیٹا سسٹمز، اور خودکار میزائل پلیٹ فارمز ایک نئی جنگی ترتیب لکھ رہے ہیں۔ بھارت کی تیزرفتار پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستیں اب اس مقابلے کو محض عسکری نہیں بلکہ صنعتی، تکنیکی اور معاشی جنگ سمجھ کر آگے بڑھا رہی ہیں۔
ایک ہزار میل دور بیٹھے عالمی سرمایہ کار، جنوبی ایشیا کے یہ بدلتے حالات دیکھتے ہوئے صاف سمجھ رہے ہیں کہ نئی عالمی اسلحہ منڈی کا مرکز اب صرف بڑے ممالک نہیں بلکہ ٹیکنالوجی سے چلنے والے خطے بننے جا رہے ہیں اور بھارت اسی ابھرتے منظرنامے کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔