تحریک انصاف اور پی پی کی قیادتیں

حیدرآباد کے دورے میں کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بھٹو کی سیاست ختم ہو چکی اور اب سندھ زرداری کے قبضے میں ہے۔ کراچی میں صرف ایک روز قبل ہی پیپلز پارٹی کی تعریف کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ کے پی اپنے بانی کی پالیسی پر آگئے اور پی پی کی سندھ حکومت کا سرکاری استقبال بھول گئے۔

انھوں نے پنجاب حکومت کے برعکس سندھ حکومت کے طرزعمل کو اچھا بھی قرار دیا اور انھیں یاد نہیں رہا کہ پیپلز پارٹی کی اصل قیادت آصف زرداری کے پاس ہے اور یہ آصف زرداری ہی کی قیادت ہے کہ سندھ میں چوتھی بار سترہ سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور وہ دوسری بار ملک کا سویلین صدر بننے کا ریکارڈ بنا چکے ہیں اور صدر زرداری ہی کی قیادت میں سندھ میں پیپلز پارٹی 2008 سے جو انتخابی کامیابی حاصل کرتی آرہی ہے، اتنی کامیابی تو سندھ میں پیپلز پارٹی کو بینظیر بھٹو کی قیادت میں بھی نہیں ملی تھی کہ سندھ میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی سیاست کو محدود کر چکی ہے، جہاں (ن) لیگ اندرون سندھ تو دور، کراچی میں بھی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست بھی جیتنے کے قابل نہیں رہی ہے۔

اس وقت سندھ کے علاوہ بلوچستان اور جی بی کا وزیر اعلیٰ اور آزاد کشمیر کا وزیراعظم بھی پیپلز پارٹی کا ہے۔ صدر زرداری نے پنجاب اور کے پی میں اپنے گورنر مقررکرانے کے علاوہ سینیٹ کا چیئرمین اور قومی اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہی بھی پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما کو دلا رکھی ہے جس کی وجہ سے خواتین کی بڑی تعداد پیپلز پارٹی کی ووٹر بنی ہوئی ہے اور صدر مملکت سمیت تمام آئینی عہدے اتنے مضبوط اور محفوظ ہیں کہ (ن) لیگی حکومت کمزور ہے اور پیپلز پارٹی کی ہر بات مان رہی ہے۔ اندرون سندھ پیپلز پارٹی سب سے مضبوط ہے، کراچی، حیدرآباد اور سکھر سمیت تین ڈویژنوں میرپورخاص، نوابشاہ اور لاڑکانہ کے میئروں کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہے۔

پیپلز پارٹی میں بلاول زرداری کی صورت میں متبادل قیادت موجود ہے۔ بھٹو صاحب کے بعد بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی صورت میں پیپلز پارٹی کی قیادت موجود تھی جو بے نظیر بھٹو کے بعد آصف زرداری کے ہاتھ آئی اور انھوں نے پی پی کو کامیابی دلا رکھی ہے۔ بھٹو صاحب 1970 میں اپنی مقبولیت کی انتہا پر ہوتے ہوئے بھی ڈی آئی خان کے الیکشن بھی ہارے تھے۔ آصف زرداری کبھی کوئی بھی الیکشن نہیں ہارے، یہ ان کی مقبولیت سے زیادہ ان کی سیاسی بصیرت کی منفرد کامیابی ہے جو اپنوں کی قدر بھی کرتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے بانی اپنے کرکٹ کھلاڑی کی مقبولیت کے باعث 1996 میں پی ٹی آئی قائم کرکے سیاست میں آئے تو ان سے کچھ بہتری کی توقع رکھ کر ملک کے اچھی شہرت کے کچھ سیاستدان اور ملک کی نامور شخصیات نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیارکی تھی مگر بانی پی ٹی آئیکے غیر سیاسی رویے، شخصی آمریت اور اپنی من مانی کی عادت کی وجہ سے پی ٹی آئی کے اکثر بانی ارکان مایوس ہو کر انھیں چھوڑ گئے تھے۔

کسی زمانے میں بانی عمران خان ، میاں نواز شریف کی تعریفیں کیا کرتے تھے پھر جنرل پرویز کے اقتدار میں آنے سے بانی جنرل پرویز سے مل گئے اور انھوں نے جنرل پرویز کے صدارتی ریفرنڈم میں ان کی کھل کر حمایت کی تو جنرل پرویز نے انھیں میانوالی سے قومی اسمبلی کا رکن منتخب کرایا ۔ جنرل پرویز نے ظفر اللہ جمالی کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کیا تو بانی ناراض ہو گئے اور انھوں نے جنرل پرویز کے امیدوار کی مخالفت میں اپوزیشن کے امیدوار مولانا فضل الرحمن کو ووٹ دیا تھا، بعد میں وہ مولانا کے بھی خلاف ہو گئے اور اپنے اقتدار میں مولانا اور محمود خان اچکزئی پر الزامات لگائے۔ دونوں پر کڑی تنقید کی اور جلسوں میں دونوں کا سرعام مذاق اڑایا تھا۔

جنرل مشرف دور میں بانی نے 2008 میں الیکشن کا بائیکاٹ کیا مگر ملکی سیاست میں کوئی کامیابی نہ ملی اور صدر مشرف مستعفی ہو کر باہر چلے گئے تو بعد میں آنے والے فوجی جنرلوں کی تعریفیں کرکے ان سے تعلقات بنائے اور انھیں اپنی باتوں سے متاثر کرکے خود کو ایماندار اور نواز شریف اور آصف زرداری کے متبادل کے طور پر پیش کیا مگر 2013 کے الیکشن میں بالاتروں کی سرپرستی کے باوجود ناکام رہے اور دھاندلی کا الزام لگا کر طویل دھرنا دے کر اقتدار میں آنا چاہا اور ان کی کوشش اور دھرنے کو نواز شریف اور آصف زرداری نے مل کر ناکام بنا دیا تھا۔

 پارٹی میں بانی نے متبادل قیادت کو آگے آنے ہی نہیں دیا حالانکہ وہ خود وراثتی قیادت کی مخالفت کرتے تھے جب کہ ان کی اہلیہ اور وہ خود قید ہیں اور انھیں اپنی پارٹی میں عارضی قیادت کے لیے بھی کوئی اپنا رہنما اہل نظر نہیں آیا اور انھوں نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصرعباس کو اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد کیا ہے اور اب ان کی بہن علیمہ نے پی ٹی آئی سنبھال رکھی ہے اور بیرسٹر گوہر نمائشی چیئرمین ہیں اور پارٹی میں بانی کا متبادل قیادت کے لیے موجود ہی نہیں ہے۔

Similar Posts