غزہ، سخت سردی سے نبرد آزما فلسطینیوں پر تباہ حال عمارتوں کی دیواریں گر پڑیں، 5 افراد شہید

اسرائیلی بمباری سے پہلے ہی زخموں سے چور غزہ ایک اور المیے کا شکار ہو گیا، جہاں شدید سردی اور طوفانی موسم نے مزید قیمتی جانیں نگل لیں۔

مقامی صحت حکام کے مطابق منگل کو آنے والے شدید طوفان کے دوران تباہ حال عمارتیں اور دیواریں گرنے سے کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں دو خواتین، ایک بچی اور ایک مرد شامل ہیں۔

غزہ سٹی کے سب سے بڑے الشفا اسپتال نے بتایا کہ جاں بحق افراد کی لاشیں اسپتال منتقل کی گئیں، جبکہ کئی دیگر افراد شدید زخمی ہیں۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ دو سال سے زائد عرصے کی مسلسل اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ کے عوام خطرناک حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اگرچہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی نافذ ہے تاہم خوراک، ایندھن اور محفوظ پناہ گاہوں کی شدید کمی نے لوگوں کو سردی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ایک سالہ معصوم بچہ رات کے وقت شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا سے جاں بحق ہو گیا۔

خلیجی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس سے ایک رات قبل بھی دو بچے ناکافی پناہ اور یخ بستہ موسم کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ سردی خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔

دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب غزہ سٹی کے ساحلی علاقے میں بحیرۂ روم کے کنارے نصب ایک خیمے پر آٹھ میٹر اونچی دیوار گر گئی۔

اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے تین افراد 72 سالہ محمد حمودہ، ان کی 15 سالہ پوتی اور بہو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ کم از کم پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کے مطابق طوفان کے باعث سینکڑوں خیمے اور عارضی پناہ گاہیں اڑ گئیں یا بری طرح تباہ ہو گئیں، جس سے ہزاروں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

غزہ میں سردی، بھوک اور تباہی مل کر ایک خاموش قاتل بن چکی ہیں، جہاں ہر گزرتی رات ایک نیا المیہ جنم لے رہی ہے۔

Similar Posts