سندھ بھر کے مزید 164 سرکاری کالجوں میں 4 سالہ بیچلرز پرگرام شروع کرنے کی تیاری

سندھ بھر کے مزید 164 سرکاری کالجوں میں چار سالہ بیچلرز پروگرام کا آغاز ہونے جارہا ہےاس اقدام کے تحت سائنس، کامرس، آرٹس اور کمپیوٹر سائنس جیسے مضامین میں طلبہ اب اپنے قریبی سرکاری کالجوں سے کم فیس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے، جس سے انہیں یونیورسٹیوں تک طویل فاصلہ طے کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی جبکہ سرکاری کالجوں سے کم فیس میں چارسالہ بیچلر پروگرام مکمل کر سکیں گے۔

سندھ بھر میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو گھر کے قریب تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے محکمہ کالجز سندھ نے چار سالہ بی ایس پروگرام کو کالجوں تک توسیع دینے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں، اس مقصد کے تحت صوبے کے مختلف سرکاری کالجوں کو یونیورسٹیوں کے ساتھ الحاق کے لیے درخواستیں جمع کرا دی گئی ہیں۔

سندھ بھر میں سرکاری کالجز کی مجموعی تعداد 376 ہے، جن میں سے 164 کالجوں میں چار سالہ بی ایس پروگرام کے لیے مختلف جامعات سے الحاق کی درخواست دی گئی ہے، اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو بی ایس کی تعلیم اپنے ہی شہروں اور علاقوں میں دستیاب ہو سکے۔

ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے محکمہ کالجز سندھ کے سیکریٹری ندیم الرحمان میمن نے ایکسپریس نے بتای کہ صوبے میں اس وقت 55 کالجز پہلے ہی یونیورسٹیوں کے ساتھ الحاق کے تحت چار سالہ بی ایس پروگرام چلا رہے ہیں، رواں سال میں کراچی کے مزید 5 کالجوں کا الحاق ہوگیا ہے اور مجموعی تعداد 60 ہوگئی ہے جبکہ مزید 159 کالجز میں بی ایس پروگرام کے لیے الحاق کی منظوری متوقع ہے اور دیگر جامعات سے بھی جلد منظوری مل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بی ایس پروگرام کی کالجوں تک توسیع سے طلبہ کو یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، جس سے نہ صرف وقت اور اخراجات کی بچت ہو گی بلکہ تعلیم کا تسلسل بھی بہتر ہو سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے لیے یہ منصوبہ انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا، مرحلہ وار تمام اہل کالجوں میں چار سالہ بی ایس پروگرام متعارف کرایا جائےگا تاکہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم فراہم کی جا سکے،

انہوں نے بتایا کہ سندھ کی جامعات میں شاہ عبد اللطیف یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی جامشورو، کراچی یونیورسٹی، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی سمیت دیگر شامل ہیں۔

سندھ بھر کے سرکاری کالجوں میں چار سالہ بیچلرز پروگرام کے آغاز کے فیصلے کو طلبہ نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے متوسط اور غریب طبقے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول آسان ہو جائے گا۔

بارھویں جماعت میں زیر تعلیم طالبہ سارہ نے اس فیصلے پر ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کی فیسیں اس قدر زیادہ ہو چکی تھیں کہ عام مڈل کلاس کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم ایک خواب بنتی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں داخلے کے اخراجات، فیس، سفری خرچ اور دیگر اخراجات برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے کئی طلبہ تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے تھے۔

سارہ نے کہا کہ سرکاری کالجوں میں کم فیس پر چار سالہ بی ایس پروگرام کی سہولت ملنے سے اب طلبہ اپنے قریبی علاقوں میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کر سکیں گے، جس سے نہ صرف مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ طویل اور تھکا دینے والے سفر سے بھی نجات ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی جامعات شہر سے ہی دور واقع ہیں جہاں روزانہ آنا جانا مشکل اور مہنگا ثابت ہوتا تھا۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ جامعات میں پسندیدہ شعبے میں داخلہ ملنا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا، نشستیں محدود ہونے کے باعث میرٹ پر آنے کے باوجود کئی طلبہ محروم رہ جاتے تھے، کالجوں میں بی ایس پروگرام شروع ہونے سے یہ مسئلہ بھی کافی حد تک حل ہو جائے گا اور زیادہ طلبہ کو اپنی پسند کے مضامین پڑھنے کا موقع مل سکے گا۔

دوسری جانب سندھ بھر کے بیشتر سرکاری کالج انتظامی اور تعلیمی مسائل کا شکار ہیں، کالج ذرائع کے مطابق صوبے کے متعدد کالجوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جس کے باعث معیاری تعلیم کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کالج ذرائع نے بتایا کہ کیمسٹری، زولوجی، باٹنی، کمپیوٹر سائنس اور فزکس جیسے اہم مضامین کی لیبارٹریز میں جدید سہولیات موجود نہیں جو کہ جامعات کے معیار کے مطابق نہیں ہیں، موجودہ دور میں سب سے زیادہ طلب کمپیوٹر سائنس کی ہے اور اس شعبے میں طلبہ کی انرولمنٹ بھی مسلسل بڑھ رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بیشتر کالجوں میں کمپیوٹر لیبز میں کمپیوٹرز ناکافی ہیں جہاں لائبریریاں موجود ہیں وہاں جدید کتابیں، ریسرچ جرنلز اور مطالعے کے لیے مناسب ماحول دستیاب نہیں، جس کے باعث طلبہ خود مطالعے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سہولیات کی کمی کے باعث گیارھویں اور بارھویں جماعت کے طلبہ بڑی تعداد میں کالجوں میں داخلہ لینے کے باوجود کوچنگ سینٹرز کا رخ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ اگر صوبے میں کالجوں کے ذریعے چار سالہ بی ایس پروگرام کو کامیاب بنانا ہے تو سب سے پہلے بنیادی انفرا اسٹرکچر، جدید لیبارٹریز، کمپیوٹر سہولیات اور لائبریریوں کو جامعات کے معیار کے مطابق اپ گریڈ کرنا ناگزیر ہے۔

Similar Posts