مودودی صاحب کا ایک تاریخی مراسلہ

اگرچہ انتخابی سیاست اور پارلیمنٹ میں جماعت اسلامی اب گئے دنوں کی بھولی بسری کہانی بن چکی ہے۔ تاہم، پاکستان کی تاریخ میں مذہبی سیاست کے اس منفرد’ انتخابی تجربہ‘ سے تاریخ کے طالب علموں کو ہمیشہ دل چسپی رہے گی۔ جو لوگ اس جماعت کی تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ جماعت کے اندر دوموضوعات، ایک، انتخابی سیاست کے امکانات اور دوسرے، امیر جماعت کے اختیارات، ہمیشہ زیربحث رہے ہیں۔ انتخابی سیاست میں اپنی ہزیمت کو بظاہر اہل جماعت قضائے الٰہی سمجھ کے قبول کر چکے ہیں۔

چنانچہ، گزشتہ الیکشن میں بدترین شکست کے باوجود جماعت کے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوا۔ البتہ، آج بھی جب کوئی نیا امیر منتخب ہوتا ہے، اور اس کے بعد وہ جماعت کے اوپر اپنی شخصیت کا نیا غلاف چڑھاتا ہے، تو جماعت کے اندر کچھ نہ کچھ ہل چل ضرور محسوس ہوتی ہے، بلکہ پیچھے مڑ کے دیکھیں، تو خود بانی ِجماعت ابوالاعلیٰ مودودی کو بھی بطور امیر اس نوعیت کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بنا بریں، جنوری1957 میں، انھوں نے اس تنازع کے حتمی طور پر فیصل ہو نے تک جماعت کی امارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا، اور ماچھی گوٹھ کل پاکستان اجتماع سے قبل تمام ارکان جماعت کو ایک مراسلہ کے ذریعہ براہ راست اس مبحث پر اپنے نقطہء نظر سے آگاہ کیا تھا۔ جماعت کے اندرونی ڈھانچے، انتخابی سیاست سے اس کی عدم مطابقت، اور اس کے نتیجہ میں انتخابی ناکامی کو اس مراسلہ کی روشنی میںکافی حد تک سمجھا جا سکتا ہے۔

بانی جماعت رقم طراز ہیں، ’جماعت اسلامی صرف ایک جماعت یا انجمن نہیں، بلکہ ایک تحریک کی علم بردار ہے۔ یہ جماعت پورے نطام زندگی میں ہمہ گیر تغیر و انقلاب اور اصلاح و تعمیر کی تحریک ہے۔ جو جماعت اس طرح کی تحریک چلا رہی ہو، اس میں قیادت کا مقام اگر کسی شخص کو دیا جائے، تو اسے بیک وقت دو مختلف نوعیت کے کام کرنے پڑتے ہیں۔

ایک تحریک کی راہ نمائی اور دوسرے نظام جماعت کی سربراہی۔ یہ دونوں کام صرف نوعیت ہی میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں، بلکہ ان کے تقاضے بسا اوقات ایک دوسرے کی ضد ہو جاتے ہیں۔ نظامِ جماعت کو چلانا ایک انتظامی نوعیت کا کام ہے، لامحالہ ایک دستور چاہتا ہے۔ اس کے سربراہ کی حیثیت ایک صدر انجمن، ایک ناظم، یا ایک ایگزیکٹو سے مختلف نہیں ہو سکتی۔ اس کو لازماً کچھ مقرر اختیارات دیے جائیں گے اور کچھ حدود کا پابند کیا جائے گا۔اگر ایسے کسی ادارے کو جمہوری طرز پر چلنا ہو، تو اس میں اختلافات کا دروازہ کھلا ہونا چاہیے۔ فروعی ہی نہیں، اصولی اختلافات کی گنجایش بھی رہنی چاہیے۔ اظہار رائے ہی نہیں، اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دوسروں کی رائے ہموار کرنے کی بھی آزادی ہونی چاہیے ۔

تحریک کا مزاج وحدت فکر، وحدت قلب و روح اور زیادہ سے زیادہ وحدت عمل چاہتا ہے۔ اس سے تعلق رکھنے والوں کے دلوں اور دماغوں اور طبیعتوں میں جتنی ہم آہنگی، اور سعی و حرکت میں جتنی مطابقت ہو، اتنی ہی وہ طاقتور ہے، اور جتنا ان کے درمیان فرق ہو، اتنی ہی کمزور ہے۔ ایک تحریک کی ہوا اکھاڑنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ اس کے دو ترجمان دو مختلف زبانوں سے بولنا شروع کردیں۔ تحریکوں میں اکثریت و اقلیت کا سوال پیدا ہونا سرے سے غلط ہے۔ جس تحریک میں یہ قاعدہ چلنے لگے کہ فیصلے اکثریت سے ہوں گے یا اقلیت، اکثریت کے درمیان سمجھوتے سے مخلوط پالیسیاں بنائی جائیں گی، اسے کوئی چیز شکست و ناکامی سے نہیں بچا سکتی ۔

جس شخص کو جدوجہد یا کشمکش کے دور میں کسی تحریک کی راہ نمائی کرنی ہو، اس کے کام کی نوعیت اس کمانڈر کے کام سے ملتی جلتی ہے، جو میدان جنگ میں فوج کی قیادت کر رہا ہو۔ وہ دیے گئے نقشوں پر فوج کو نہیں لڑا سکتا۔ اپنے نقشے اسے خود سوچنے اور بنانے پڑتے ہیں۔ وہ ہر وقت کونسلیں بلا کر اور ان سے پوچھ پوچھ کرکام نہیں کر سکتا ۔ اس کو بسا اوقات فیصلہ کرنے کے لیے گھنٹوں اور منٹوں کی مہلت بھی نہیں ملتی۔ وہ مشورے لے بھی سکتا ہے اور اسے مشورے دیے بھی جا سکتے ہیں، لیکن اگر تحریک اس کو چلانی ہے، تو فیصلہ مشیروں کے ہاتھ میں نہیں، اس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔‘

آگے اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ’اگر پہل اس کے اختیار میں نہ ہو، تو وہ کمانڈر نہیں، سپاہی ہے۔ اس کو فوج پر یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ اس کی اطاعت کرے گی، اور فوج کو اس پر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بر وقت اور صحیح فیصلے کرے گا۔ اس کے اور فوج کے درمیان مشیر حائل نہیں ہو سکتے۔

مشترکہ کمانڈ کا حشر میدان جنگ میں وہ ہوا کرتا ہے، جو ساجھے کی ہنڈیا کا حشر چوراہے میں ہوتا ہے۔ اس طرح اس کے اور فوج کے درمیان لگے بندھے قاعدے اور ضابطے بھی حائل نہیں ہو سکتے۔اسے یہ بھروسہ ہونا چاہیے کہ جس کو جس وقت بھی وہ پیچھے ہٹنے کو کہے گا، وہ ہٹ جائے گا، اور جس کو آگے بڑھنے کا حکم دے گا، وہ بڑھ جائے گا۔ حالت جنگ میں اسے احکامات کی وجہ بتانے پر مجبور نہ ہونا چاہیے، کجا کہ اس کو ان کی جواب دہی کرنی پڑ جائے، اور جنگ چھوڑ کر وہ ساری فوج مقدمہ بازی میں لگ جائے۔ فوج اگر چاہے تو کمانڈر تبدیل کر سکتی ہے۔

لیکن، اگر اسے لڑنا اور اپنے مقصود کو پہنچنا ہے تو جسے بھی وہ کمانڈر بنائے، اس کو یہی اختیارات دینے ہوں گے، اور مجبوراً نہیں بلکہ دلی رضا اور اعتماد کے ساتھ دینا ہوں گے، ورنہ بہتر ہے کہ وہ لڑائی کا خیال چھوڑ دے۔اس فوج کو شکست کے لیے ہی نہیں، تباہی کے لیے بھی تیار ہو جانا چاہیے ، جو عین حالت جنگ میں اپنی مخالف قوتوں کو خبر دے کہ اس کا کمانڈر، کمانڈر نہیں، بلکہ جنرل اسٹاف کا محض ایجنٹ ہے، اور جنرل اسٹاف ایک مجلس مباحثہ ہے، جس میں فوجی افسر تدابیر جنگ سے گزر کر خود مقصد جنگ ہی پر دس دس پندرہ پندرہ دن مناظرہ کرتے رہتے ہیں، ا ور ہائی کمانڈ کے فیصلے اب فوجی افسروں کی اکثریت کے ووٹ یا ان کے گروپوں کی مفاہمت پر موقوف ہو کر رہ گئے ہیں ۔

دینی تحریک ہو یا دنیوی، ایک شخصیت کے بغیر اس کا کام نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اسلامی تحریک کے لیے انبیاء کی شخصیتیں سامنے لا کے رکھ دیں۔ انبیاء کے بعد جب اور جہاں بھی کوئی دینی تحریک اٹھی، ایک شخصیت کے بل پر اٹھی ہے۔ اسی صدی میں دو خالص دنیوی تحریکیں ہمارے برصغیر میں چل چکی ہیں۔ ایک نے برطانوی ہند کا تختہ الٹ کر ہندوستان کو آزاد کرایا، اور دوسری نے ہندوؤں کے حلق سے پاکستان اگلوایا۔ یہ جو کچھ بھی کامیابی ان دونوں تحریکوں کو نصیب ہوئی، ایک ایک شخصیت کے بل پر ہی ہوئی ہے، اور دیکھ لیجیے کہ وقت کے کیسے کیسے بڑے لوگوں نے اپنی شخصیتوں کو ان لیڈروں کی شخصیتوں میں گم کر دیا تھا۔ یہ تحریکوں کا فطری مزاج ہے۔‘‘

بانی جماعت ابوالاعلیٰ مودودی 1942ء سے 1972 تک 30 برس امیر جماعت رہے، اور اسی اصول امارت پر اپنی جماعت اور تحریک کی قیادت کی، بلکہ ان کے بعد آج تک ان کی جماعت اسی اصول پر عمل پیرا ہے۔ اس دوران جس نے بھی امیر موصوف سے اختلاف کی جسارت کی، اس کو جلد یا بدیر جماعت سے نکلنا ہی پڑا۔ ابوالحسن علی ندوی اور امین احسن اصلاحی سے ڈاکٹر اسرار احمد اور وحید الدین خاں تک، اور تا زہ ترین مثال مشتاق احمد خان ہیں، جنھوں نے موجودہ امیر سے اختلاف کی بنا پر اپنی راہیں جدا کی ہیں۔ نظر بظاہر یہی آتا ہے کہ بانی جماعت کے اس Cult oriented اصول قیادت کی تقلید کے نتیجہ ہی میں جماعت سیاسی طور پر بجائے پھلنے پھولنے کے، جس کی استعداد ابتدائی طور پر اس میں موجود تھی، آج اپنے اندر سکڑتے سکڑتے قومی دھارے سے الگ محض ایک Disciplined community بن کے رہ گئی ہے، بقول شاعر

کس نہ ندانست کہ منزل گہ مقصود کجاست

این قدر ہست کہ بانگ جرسے می آید

Similar Posts