یہ بھی درست ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اکثریت اگر نااہل نہیں رہی تو ناعاقبت اندیش ضرور رہی ہے مگر اس کا ادراک بھی ملک کی نوجوان نسل سے زیادہ اس ملک کے بزرگوں کو ہے کیونکہ وہ چھ سات دہائیوں سے اپنے حکمرانوں کی نااہلیوں کے شاہد ہیں۔ اس لیے بلاتفریق تمام بزرگوں یا حکمرانوں کو نااہل قرار دینا درست نہیں ہے۔
بے بی بومرز میں 60 سے 78 سال کے بزرگ مرد و زن سب شامل ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو کیا ہے کہ نئی نسل کے چند لونڈے لپاڑے اب 60 سے 78 سال کے بزرگوں کو مخاطب ہوکر کہیں کہ آپ کا وقت گزر چکا ہے اور ہم آپ کی باتیں یا نصیحتیں نہیں مانیں گے۔ اس سوچ کو ڈالرز کے بھوکے سوشل میڈیا کے مادر پدر آزاد ڈیجیٹل دہشت گردوں نے پروان چڑھا کر ہماری معاشرتی اقدار کا جنازہ نکالا، چھوٹے بڑے کی تمیز ختم کرکے بیٹے کو باپ کے سامنے لا کھڑا کردیا ہے۔
میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہماری مہذب نوجوان نسل ایسی نہیں ہے، بس سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کی اسیر ایک مخصوص کلاس کے خوشحال اور فیشن ایبل نونہال ہیں جو خود کو فخریہ ’’جن ذی‘‘ کہتے ہیں، وہ دوسروں کے تو چھوڑیں، اپنے بزرگوں کا احترام بھی معیوب سمجھتے ہیں۔ ’’جن ذی‘‘ یہ یاد رکھیں کہ ذہانت کے بل بوتے پر تو پی ایچ ڈی کی ڈگری چند مہینوں میں توحاصل کی جا سکتی ہے مگر کوئی نام نہاد ’’جن ذی‘‘ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے دس برس کا تجربہ ایک دن میں حاصل کرلیا ہے۔
دس سال کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے اپنی عمر کے پورے دس سال خرچ کرنے پڑتے ہیں، تجربے کا کوئی مول نہیں اس لیے بزرگوں کو سننا اور ان کا کہا ماننا ہمیشہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے مگر سوشل میڈیا زدہ جن ذی اخلاقی انحطاط کے ایسے اندھے کنویں میں گر چکے ہیں کہ ان کے خیال میں صرف اقتدار میں بیٹھے بزرگ ہی نہیں ان کے اپنے سگے دادا، دادی، نانا، نانی، ماں باپ، بڑے بہن، بھائی، اساتذہ اور معاشرے کے تمام بزرگ وقت سے پیچھے رہ گئے ہیں اور ان کے لیے بھی سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔ خاندان کے بڑے چاہے جتنے جتن کر لیں، اساتذہ کرام چاہے جتنے لیکچردیں، تعلیمی اور دیگر قومی ادارے چاہے جتنے سیمینار منعقد کر لیں سوشل میڈیا زدہ جن ذی پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔
بیشک حب الوطنی اور اپنی تہذیبی اقدار سے محبت زبردستی پیدا نہیں کی جاسکتی، یہ نسل در نسل خون میں پلتی، ملتی اور اس کو پروان چڑھانے کے لیے بڑوں کی راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اصلی اور نسلی محب وطن کو دنیا کی کوئی طاقت یا ناانصافی غدار نہیں بنا سکتی۔ محب وطن مرتا بھی محب وطن ہی ہے چاہے بھوک و افلاس سے مرے یا ناانصافی سے مرے وہ اپنی مٹی سے پیار کے کفن میں دفن ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا زدہ جن ذی کا خیال ہے وہ اور اس کے بعد آنے والی جن الفا (12 سال اور اس سے کم عمر کے بچے )، بخوبی جانتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے” ان کے خیال میں سوشل میڈیا کی بدولت 12 سال سے کم عمر بچوں نے بھی معلومات کی بنیاد پر فہم و فراست میں بزرگوں کو مات دے دی ہے۔ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو اگر عقل و شعور اور بے بی بومرز (بزرگوں) کی نگرانی میں استعمال کیا جائے تو یہ بہترین اور مفید ایجادات ہیں مگر افسوس کہ غلط استعمال سے یہ ہمارے جن ذی کے لیے دودھاری تلوار ، طوفان بدتمیزی اور غدر کا منبع ثابت ہو رہا ہے۔ جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے اس کا اپنا ٹی وی چینل ہے اس کے جی میں جو آتا ہے وہ بک لیتا ہے، بلا تحقیق صبح سے شام تک جھوٹ بولتے، بزرگوں کی پگڑیاں اچھالتے اور مادر وطن کے بارے میں زہر آلود نشتر بازی کرکے جن ذی (نسل نو) کے ذہنوں میں بغاوت کی غلاظت بھرتے رہتے ہیں۔
پاکستانی افواج نے انڈین جارحیت کا دندان شکن و بے مثل جواب دیا ہے، اسے دشمن بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ایسے میں اس حوالے سے کسی غلط بات کا سامنے آنا بہت زیادتی ہے۔ پاک فوج کے ہوابازوں نے انڈیا کے جہاز جس طرح پھڑکائے ، اس کے بعد ہندو بنئیے 6 اور 7 کے ہندسے کو دیکھ کر شرمندہ ہوجاتے ہیں۔ ہوسکتا ہے وہ ریاضی کے نصاب سے 6 اور 7 کا ہندسہ حذف کرکے 5 کے بعد 8 کردیں گے۔
ہمارے جن ذی(بچے) یہ سمجھ لیں کہ بے بی بومرز اور میلینز اپنی ذہانت اور فراست سے جنگیں روکتے ہیں مسلط نہیں کرتے۔یاد رکھیں سیکیورٹی کے بغیر گھر یا دفتر سے نکلنا عوامی مقبولیت کا پیمانہ بالکل نہیں رہا، آج ہر پاکستانی خصوصاً حکمران، فورسز کے ذمے داران اور اعلی عہدوں پر فائز افراد دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ دنیا بھر میں اہم شخصیات کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہوتی ہے۔
نسل نو اور ان کے اپنے بزرگوں کے درمیان فاصلے ہونے کا تاثر بھی سوشل میڈیا کے مخصوص مائنڈسیٹ کے حامل لونڈے لپاڑوں نے پیدا کیا ہے، اگر ان کو لگام ڈال دی جائے تو کسی کو نوجوانوں اور بزرگوں کے درمیان کوئی فاصلہ نظر نہیں آئے گا۔ بیشک حکمرانوں اور سیاست دانوں کی تقاریر بعض اوقات ناقابل برداشت ہوتی ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا زدہ جن ذی تو خاندان کے بزرگوں کو سننا بھی گوارا نہیں کرتی، ان کی باتیں ان کو مضحکہ خیز لگتی ہیں اور ان سے دور بھاگتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے لونڈے لپاڑوں کی شرانگیزی کی وجہ سے تہذیبی اقدار اور رویے بدل رہے ہیں، اس لیے اپنے جن ذی کو مشورہ دوں گا کہ ہوش کے ناخن لیں ورنہ جن الفا نے جن ذی کا وہ حشر کرنا ہے کہ الامان الحفیظ، ان کو صرف آپ کی باتیں نہیں شکلیں بھی مضحکہ خیز لگے گی۔ اس لیے میں سوشل میڈیا زدہ جن ذی کو بے بی بومرز کے دامن پکڑنے، دعائیں لینے اور ان کی حکمت و دانائی سے لبریز باتیں دل کے کانوں سے سننے اور تجربات سے سبق سیکھنے کا مشورہ دوں گا۔ شکر الحمدللہ اس ملک کے وہ جن ذی جو سوشل میڈیا زدہ نہیں مکمل طور پر متحرک، پرعزم، باادب اور اخلاقی اقدار کا پاسدار ہے ان کا بہتر روزگار اور مستقبل کے لیے بیرون ملک جانا عقلمندی اور حق ہے اسے بے بی بومرز سے بیزاری سے تعبیر کرنا لونڈے لپاڑوں کا خبط باطن اور سوچ ہے جسے وہ ڈالر کمانے کے شوق میں پروان چڑھا رہے ہیں۔
بے بی بومرز کے لیے کچھ بھی ختم نہیں ہوا، ملک و ملت اور ہر گھر کو بزرگوں کے تجربے سے استفادے اور جن ذی اور جن الفا کے سروں پر ان کے دست شفقت کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العزت ہمارے بے بی بومرز کو کامل روحانی جسمانی صحتوں کے ساتھ جن ذی کی راہنمائی کے لیے عمر خضر سے نوازیں۔ آمین۔ بے بی بومرز (بزرگوں) کے جن ذی (بچے) اس ملک کا سرمایہ اور مستقبل ہے اس لیے بے بی بومرز اپنے جن ذی کے بارے میں فکر مند ہیں۔