کلیان ایمباپے اور ہیلو کٹی سے چین میں غصہ، وجہ کیا ہے؟

ایک طرف فرانس کے مشہور فٹبال کھلاڑی کلیان ایمباپے ہیں اور دوسری طرف جاپان کی مشہور کارٹون کمپنی کیریکٹر ہیلو کٹی، لیکن اس وقت دونوں کے درمیان ایک ایسی غیر متوقع قدر مشترک پیدا ہو گئی ہے جس نے دونوں کو خبروں کا مرکز بنا دیا ہے۔ یہ دونوں اپنے ایکشن اور فیصلوں کی وجہ سے چین کے صارفین اور مداحوں کو شدید ناراض کر بیٹھے ہیں اور اب انہیں اپنے بڑے مالیاتی مفادات کو بچانے کے لیے معافیاں مانگنا پڑ رہی ہیں۔

سی این این کے مطابق معاملے کی شروعات اس وقت ہوئی جب اسپینش فٹبال کلب ریال میڈرڈ کے کھلاڑی کلیان ایمباپے ایک فرانسیسی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران ایک مزاحیہ میم کا ذکر کر رہے تھے۔ اس میم میں ان کے چہرے کو ایک ایسے شخص کی تصویر پر لگایا گیا تھا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ شاید چین کا کوئی آمر تھا۔

اس تصویر میں چین کے سابق رہنما ماؤ زے تنگ دکھائے گئے تھے، جنہیں عوامی جمہوریہ چین کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان کی حکمرانی کے دور میں کئی متنازع واقعات پیش آئے، تاہم چین میں ان کی شخصیت اور تاریخی کردار ایک حساس موضوع ہے۔

ایمباپے کے اس تبصرے پر چینی سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل دیا۔ معاملہ آن لائن تنقید تک محدود نہیں رہا بلکہ کئی برانڈز نے ان کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

چین کے ریاستی میڈیا نے ایمباپے کے تمام اشتہارات ہٹا دیے اور ایمباپے اور اسپین کی لیگ لا لیگا سے متعلق فٹبال میچوں کی نشریات روک دیں۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایمباپے نے باضابطہ معافی نامہ جاری کیا اور اعتراف کیا کہ ان کا تبصرہ مناسب نہیں تھا اور اب انہیں احساس ہے کہ اس سے چین اور دنیا بھر میں موجود چینی برادری کے لوگوں کو تکلیف پہنچی۔

ابھی یہ معاملہ زیر بحث ہی تھا کہ جاپانی کمپنی سانریو کو بھی چین میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کمپنی ہیلو کٹی سمیت کئی مشہور کارٹون کرداروں کی مالک ہے۔

سانریو نے جاپانی جاسوسی ڈرامے ’ویوانٹ‘ کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے ہیلو کٹی، مائی میلوڈی، کورومی اور سنورینول جیسے کرداروں پر مشتمل مصنوعات تیار کی تھیں۔ ان کرداروں کو ڈرامے کے کرداروں جیسے لباس میں دکھایا گیا تھا۔

تاہم چین کے سرکاری میڈیا نے اس ڈرامے کو چین مخالف قرار دیا تھا۔ ڈرامے میں چینی خفیہ ادارے کے اہلکاروں کو جاپانی جاسوسوں پر تشدد کرتے دکھایا گیا، جس پر چینی سوشل میڈیا صارفین نے شدید اعتراض کیا۔ اس کے بعد سانریو کی جانب سے ڈرامے کے ساتھ اشتراک پر بھی تنقید شروع ہوگئی۔

چین کا بازار دنیا کا دوسرا بڑا بازار ہے اور یہاں کی معیشت دنیا کے تمام بڑے برانڈز اور کھلاریوں کے لیے بے حد اہم ہے۔ لیکن چین میں کاروبار کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ وہاں کے عوام اور حکومت تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی حساسیت پر مبنی باتوں کو بہت جلدی اور سنجیدگی سے محسوس کرتے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ڈولچے اینڈ گبانا، ورساچے، این بی اے، نائیکی اور دیگر عالمی برانڈز چینی جذبات کو مجروح کرنے پر بائیکاٹ اور نقصان کا سامنا کر چکے ہیں۔

چائنا مارکیٹ ریسرچ گروپ کے بانی شان رین کے مطابق چینی صارفین اپنے ملک اور عوام کے بارے میں کسی بھی توہین آمیز یا منفی تاثر پر بہت حساس ہیں، اس لیے غیر ملکی برانڈز کو وہاں کاروبار کرتے ہوئے زیادہ احتیاط برتنا پڑتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سب کچھ ٹھیک چلتا ہے تو چین کی مارکیٹ کمپنیوں کو اربوں ڈالر کا منافع دیتی ہے، لیکن جب کوئی غلطی ہو جائے تو اس کا خمیازہ اور نقصان بہت جلد اور بہت بڑا ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایمباپے اور ہیلو کٹی بنانے والی کمپنی کو چینی مارکیٹ میں واپس اپنا مقام اور بھروسہ حاصل کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔

Related posts