ایف بی آر کے مطابق جہاز رانی کی صنعت کے لئے سرکاری بینک کی شرح مبادلہ کے مطابق نافذ کردہ شپنگ چارجز کے نتیجے میں بین الاقوامی شپنگ لائنزکی جانب سے من مانی اور حد سے زیادہ بلنگ کی پریکٹس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن نے 12 جنوری 2026ء کو تحریری طور پر باضابطہ تصدیق کی ہے کہ اس کی تمام اراکین شپنگ لائنز اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط کے مطابق اپنے متعلقہ مجاز کمرشل بینکوں کی جانب سے فراہم کردہ شرح مبادلہ کی بنیاد پر ہی شپنگ فیس وصول کررہی ہیں۔
یہ پیش رفت پاکستان کسٹمز کی جانب سے قائم کردہ ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کی مسلسل کاوشوں کا نتیجہ ہے جس نے شپنگ ایجنٹس، ٹرمینل آپریٹرز، تجارتی تنظیموں اور بین الاقوامی شپنگ لائنز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔
پاکستان میں کام کرنے والی سب سے بڑی شپنگ لائن مرسک جوکہ ملک کا تقریباً 26 فیصد مجموعی کارگو ہینڈل کرتی ہے، اس نے پہلے ہی سرکاری بینک کی شرح مبادلہ کا اطلاق شروع کر دیا ہے جس سے جہاز رانی کی پوری صنعت کے لیے ایک معیار قائم ہوا ہے۔
بڑی بین الاقوامی شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس سمیت دیگر کمپنیوں کی جانب سے تحریری طور پر کمپلائنس کی تصدیق موصول ہوچکی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جہاز رانی کی پوری صنعت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی شرح مبادلہ پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ کئی برس سے تاجر اور برآمد کنندگان شپنگ لائنز کی جانب سے ڈالر کے مبالغہ آمیز اور من مانی شرح مبادلہ کے اطلاق پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے تھے جو اکثر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ شرح مبادلہ سے کہیں زیادہ ہوتے تھے، اس سے کاروباری لاگت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا،برآمدات میں کاروباری مسابقت متاثر ہوئی اور شپنگ چارجزکے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے تاجروں اور برآمد کنندگان پر لاگت کے دباؤ میں خاطر خواہ کمی آئے گی، شپنگ چارجز میں شفافیت ہوگی اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہوگا۔
یہ کامیابی ایف بی آر کے اس پختہ عزم کی عکاس ہے کہ وہ قانونی تجارت کے تحفظ، کاروبار کرنے میں آسانیاں لانے کے لیے سرگرم عمل ہے اور مؤثر قانونی نگرانی اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے کے ذریعے پاکستان کی برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔