وفاقی و صوبائی وزرا سمیت 159 اراکین کی رکنیت معطل، حافظ نعیم کا نام بھی شامل

الیکشن کمیشن نے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 159 ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی۔

قومی اسمبلی کے 32، پنجاب اسمبلی کے 50، سندھ اسمبلی کے 33، کے پی اسمبلی کے 28، بلوچستان اسمبلی کے 7 اور سینیٹ کے 9 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی۔

رکنیت معطل ہونے والے اراکین میں وفاقی وزیر مصدق ملک، خالد مقبول صدیقی، ارشد وہرا، سردار اختر مینگل، سید عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، سائرہ افضل تارڑ اور مہرین رزاق بھٹو سمیت دیگر شامل ہیں۔

سندھ اسمبلی سے اسپیکر اویس قادر شاہ، قائم علی شاہ اور آغا شہباز درانی کی رکنیت بھی معطل کی گئی جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی رکنیت بھی معطل کر دی گئی۔ سعید غنی کی رکنیت بھی معطل کی گئی۔

سینیٹ سے فوزیہ ارشد، عابد شیر علی، مراد سعید اور نور الحق قادری کی رکنیت بھی معطل کی گئی۔

واضح رہے کہ معطل ارکان رکنیت بحال ہونے تک پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکتے۔

الیکشن کمیشن نے 15 جنوری تک اراکین کو گوشوارے جمع کروانے کی ہدایت کی تھی تاہم 159 اراکین کی جانب سے جمع نہیں کروائے گئے جس پر ارکان کو معطل کر دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے ہدایت کی تھی کہ اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات مجوزہ فارم B پر الیکشن ایکٹ کی سیکشن 137 کے تحت مورخہ 15 جنوری 2026 تک الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔

قواعد و ضوابط کے مطابق معطل اراکین کو گوشوارے جمع کروانے ہوں گے جس کے بعد اسمبلی کی کسی کارروائی کا حصہ بن سکیں گے۔

Similar Posts