موسمِ سرما کے دوران یہ مسئلہ خاص طور پر شہروں اور میدانی علاقوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں۔
سردیوں میں یہ مسئلہ کیوں بڑھ جاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق سردیوں میں فضائی آلودگی اور اسموگ سانس کی نالیوں کو متاثر کرتی ہے، خاص طور پر لاہور، کراچی اور فیصل آباد جیسے شہروں میں۔ ٹھنڈی اور خشک ہوا ناک اور پھیپھڑوں کی جھلیوں کو سکیڑ دیتی ہے، جس سے ناک بند ہونے اور سینے میں دباؤ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں میں ہیٹر، انگیٹھی یا لکڑی جلانے سے نکلنے والا دھواں بھی سانس کے مسائل کو بڑھا دیتا ہے۔
سردیوں میں پانی کم پینا، گرم کمرے میں زیادہ وقت گزارنا، اور وائرل نزلہ زکام بھی ناک کی بندش اور سینے کی جکڑن کی عام وجوہات ہیں، خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں میں۔
ناک بند ہونے اور سینے کی جکڑن کے عام اثرات
ناک بند ہونے سے سانس لینے میں مشکل، سر درد اور نیند کی کمی ہو سکتی ہے، جبکہ سینے کی جکڑن بعض اوقات کھانسی، بھاری پن اور سانس پھولنے کا باعث بنتی ہے۔ اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ مسئلہ دمہ یا برونکائٹس کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے۔
دیسی ٹوٹکوں سے آسان علاج
گھریلو ٹوٹکے اس موسم میں خاصے مؤثر سمجھے جاتے ہیں۔ گرم پانی کی بھاپ لینا ناک کی بندش کھولنے کا آزمودہ طریقہ ہے، اس میں چند قطرے سفیدے یا پودینے کا تیل شامل کیا جائے تو فائدہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
ادرک، شہد اور لیموں سے تیار کی گئی گرم چائے سینے کی جکڑن کم کرنے اور بلغم خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔ رات کو سونے سے پہلے نیم گرم دودھ میں ایک چٹکی ہلدی ملا کر پینا بھی سانس کی نالیوں کو سکون دیتا ہے۔
گھریلو احتیاطی تدابیر
سردیوں میں پانی کا استعمال بڑھانا، خاص طور پر نیم گرم پانی پینا مفید ہے۔ کمرے میں نمی برقرار رکھنے کے لیے پانی کی بالٹی یا ہومیڈیفائر کا استعمال ناک کی خشکی کم کرتا ہے۔ باہر نکلتے وقت ناک اور منہ کو اسکارف سے ڈھانپنا بھی ٹھنڈی ہوا کے اثرات سے بچاتا ہے۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر سینے کی جکڑن کے ساتھ تیز بخار، شدید سانس کی تکلیف، یا مسلسل کھانسی ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ کسی سنگین سانس کی بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
سردیوں میں تھوڑی سی احتیاط اور دیسی ٹوٹکوں کا درست استعمال اس پریشانی سے کافی حد تک نجات دلا سکتا ہے، تاکہ موسمِ سرما صحت کے ساتھ گزارا جا سکے۔