تاجروں نے گل پلازہ کے باہر اذانیں دینا شروع کر دیں

شہر قائد کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف گل پلازہ میں رات گئے بھڑکنے والی خوفناک آگ تاحال مکمل طور پر قابو میں نہیں آ سکی، جس کے باعث شہر کی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔

آگ کے نتیجے میں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا جبکہ 5 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق تاحال آگ کے صرف 40 فیصد حصے پر قابو پایا جا سکا ہے، جبکہ آگ کی شدت برقرار ہے، شاپنگ پلازہ میں 1000 سے زائد دکانیں ہیں۔

عمارت میں پڑنے والی گہری دراڑوں کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے اور فائربریگیڈ حکام نے متاثرہ عمارت کو خطرناک قرار دے دیا ہے۔

صورتحال کی سنگینی اور بڑھتے ہوئے خوف کے پیش نظر تاجروں نے گل پلازہ کے باہر کھڑے ہو کر با آوازِ بلند اذانیں دینا شروع کر دیں۔ اذانوں کی گونج نے پورے علاقے کو غم اور کرب میں مبتلا کر دیا، ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل لرزتا ہوا نظر آیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آگ کے باعث عمارت کا اسٹرکچر شدید متاثر ہو چکا ہے، جبکہ ریسکیو ادارے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آگ بجھانے اور زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

 

اس افسوسناک سانحے پر گورنر سندھ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، مصطفیٰ کمال، وزیراعلیٰ سندھ سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے۔

Similar Posts