صنعتی بحالی کیلیے 2 ہزار ارب روپے کا ریلیف پیکج، آئی ایم ایف سربراہ سے پرسوں بات ہو گی

وزیراعظم شہباز شریف صنعتی بحالی کیلیے ڈیڑھ سے دو ہزار ارب روپے کے بڑے ریلیف پیکیج پر غور کر رہے ہیں اس حوالے سے حمایت حاصل کرنے کیلئے وہ آئندہ ہفتے ڈیووس میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کرینگے۔

یہ ملاقات منگل کو سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ہوگی۔ مئی2023 میں، شہباز شریف نے پیرس میں کرسٹالینا جارجیوا کے ساتھ ملاقات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے اور ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے درست سمت میں کام کرینگے۔

شہباز شریف نے معیشت کو ڈیفالٹ سے تو بچایا لیکن اس کے نتیجے میں دہائیوں میں سب سے زیادہ بے روزگاری اور غربتسامنے آئی جسے وہ اب ریورس کرنا چاہتے ہیں۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ وہ منگل کی مجوزہ میٹنگ پر تبصرہ نہیں کرے گی جبکہ آئی ایم ایف اور وزیر اعظم کے میڈیا آفس نے بھی کوئی ردعمل ظاہر کرنے انکار کیا۔

ریلیف پیکج کا منصوبہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، کاروباری برادری اور وزارت خزانہ کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔

جس کے تحت2013 کے بعد سے سسٹم میں پیدا ہونے والی تمام ٹیکس تحریفات کو ختم کرنا اور فرمز، افراد کیلئے انکم ٹیکس کی شرحوں میں خاطر خواہ کمی کرنا شامل ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ دیگر اجزاء کو شامل کرنے کے بعد پیکج کی لاگت 1.5 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کئے جانے والے حتمی بلیو پرنٹ پر منحصر ہے۔

نجی شعبہ نے وزیراعظم کو تجویز دی تھی کہ روایتی شعبے کی بحالی کیلئے 975 ارب روپے کے ٹیکس کم کئے جائیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال وزیراعظم کے ہمراہ ڈیووس جائیں گے۔

سیکرٹری خزانہ کا ہمراہ جانا غیرمعمولی ہے۔ عام طور پر سربراہان کی میٹنگ میں تکنیکی باتوں کا فیصلہ نہیں کیا جاتا، تفصیلات آئی ایم ایف کے علاقائی اور ملکی دفاتر پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔

ایک عہدیدار کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم کو فوری طور پر ایک ملاقات میں آئی ایم ایف سے کتنی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔

تاہم زیادہ امکان یہ ہے کہ منصوبے کے قابل عمل ہونے کا تفصیلی جائزہ7 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت اگلے ماہ آئی ایم ایف سے ہونے والے تیسرے جائزہ مذاکرات کے موقع پر لیا جائیگا۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران، پاکستان کے اعلیٰ پالیسی ساز پہلے ہی تاجر برادری کے توانائی کی غیر منصفانہ قیمتوں اور بے جا بھاری ٹیکسوں پر تحفظات کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔

مجوزہ ریلیف پیکج میں سپر ٹیکس، ریئل اسٹیٹ پر صوبائی ڈیمڈ انکم ٹیکس، غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس جیسی تمام تحریفات کو ختم کرنے کا کہا جا سکتا ہے۔

ان تحریفات نے انکم ٹیکس کی مؤثر شرح کو 60 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، انٹر کارپوریٹ ڈیویڈینڈ ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔

صرف سیلز ٹیکس میں کمی سے ریونیو میں 600 ارب روپے کی کمی متوقع ہے۔ مجوزہ منصوبے میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ ان اقدامات سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا جس سے معیشت فروغ پائے گی اور اس سے ریوینو شارٹ فال پورا کر لیا جائیگا۔

Similar Posts