’’ڈاکٹر ‘‘ڈیپ سیِک مسیحا بن سکے گا؟

0 minutes, 33 seconds Read
چین کی صحافی ، وایولا زو (Viola Zhou)پچھلے دس برس سے نیویارک، امریکہ میں مقیم ہیں۔ وہ مختلف امریکی و یورپی میگزینوں میں سائنس وٹکنالوجی کے موضوعات پر مضامین لکھتی ہیں۔

انھوں نے کچھ عرصہ قبل اپنی والدہ اور اے آئی چیٹ بوٹ، ڈیپ سیک کے درمیان تال میل پر دلچسپ و معلومات افروز احوال ایک مضمون ’’My mom and Dr. DeepSeek‘‘ قلم بند کیا۔ اس مضمون کے چیدہ حصے قارئین ایکسپریس کی خدمت میں پیش ہیں۔ یہ مضمون واضح کرتا ہے کہ شعبہ طب وصحت میں اے آئی چیٹ بوٹس کا عمل دخل بڑھتا چلا جا رہا ہے، مگر اس عمل سے فوائد کے علاوہ خدشات بلکہ نقصانات بھی وابستہ ہیں۔

٭٭

ہر چند ماہ بعد میری ستاون سالہ والدہ جو گردے کے مرض کی مریضہ اور چین کے مشرقی حصے میں واقع چھوٹے سے شہر میں رہتی ہے، اپنے ڈاکٹر سے ملنے دو دن کے سفر پر نکلتی ہے۔ وہ اپنے بیگ میں ایک جوڑا، میڈیکل رپورٹس کا ایک پلندہ اور راستے میں کھانے کے لیے چند اْبلے انڈے رکھتی ہے۔ پھر نوے منٹ تک تیز رفتار ٹرین کی سواری کرتی اور مشرقی میگا سٹی ہانگزو پہنچ ایک ہوٹل میں ٹھہرتی ہے۔

اگلی صبح سات بجے وہ سیکڑوں دیگر مریضوں کے ساتھ اسپتال کی طویل راہداری میں خون کا نمونہ دینے قطار میں کھڑی ہوتی ہے جہاں شور اتنا زیادہ ہوتا ہے جیسے وہ کوئی مصروف بازار ہو۔ دوپہر میں جب لیبارٹری کے نتائج آتے ہیں، تو وہ ماہرِ امراض کے کلینک کا رخ کرتی ہے۔ اسے ڈاکٹر کے ساتھ بمشکل تین منٹ ملتے ہیں ، اگر قسمت اچھی ہو تو پانچ۔ ڈاکٹر رپورٹوں پر سرسری نظر ڈال کمپیوٹر میں نئی دوا کا نسخہ ٹائپ کرتا ، پھر جلدی سے اسے رخصت کر اگلے مریض کو اندر بلاتا ہے۔ ماں اپنا سامان سمیٹتی اور لمبے سفر پر واپس گھر کی طرف روانہ ہو جاتی ہے۔

ڈیپ سیِک نے اس کے ساتھ مختلف رویّہ اپنایا۔

میری ماں نے پچھلے سال کے آغاز میں اپنے علامات کی تشخیص کرنے چین کے معروف اے آئی چیٹ بوٹ ‘‘ڈیپ سیِک‘‘ کا استعمال شروع کیا۔ وہ صوفے پر لیٹ کر آئی فون پر ایپ کھولتی۔2 فروری کو اس نے پہلی بار چیٹ بوٹ کو پیغام بھیجا:’’ہیلو۔‘‘

بوٹ نے فوراً جواب دیا:’’ہیلو! آج میں آپ کی کس طرح مدد کر سکتا ہوں؟‘‘

اگلے مہینے اس نے پوچھا:’’میرے جسم میں ایک طبی خامی، میَن کارپسکیولر ہیموگلوبن کونسینٹریشن (high mean corpuscular hemoglobin concentration)زیادہ ہونے کی کیا وجوہ ہیں؟’’

اپریل میں اس نے لکھا:’’میں رات کو دن کے مقابلے میں زیادہ پیشاب کیوں کرتی ہوں۔‘‘

چند دن بعد اس نے سوال کیا:’’اگر میرے گردے کو خون کی فراہمی (perfusion) ٹھیک نہیں ہو رہی تو میں کیا کروں؟’’

اس نے مزید سوالات کیے اور خوراک، ورزش اور دواؤں کے بارے میں رہنمائی مانگی۔ رفتہ رفتہ والدہ کئی گھنٹے ’’ڈاکٹر ڈیپ سیِک‘‘کے ورچوئل کلینک میں وقت گزارنے لگی۔ اس نے اپنی الٹراساؤنڈ رپورٹس اور لیبارٹری ٹیسٹ اپ لوڈ کر دئیے۔ ڈیپ سیِک نے ان کی تشریح کی اور اس کے مطابق ماں نے اپنی طرزِ زندگی میں تبدیلیاں کر لیں۔ بوٹ کے مشورے پر اس نے اپنے ڈاکٹر کی تجویز کردہ مدافعتی نظام کو دبانے والی دوا (immunosuppressant) کی روزانہ خوراک کم کر دی اور گرین ٹی ایکسٹریکٹ پینا شروع کیا۔ وہ چیٹ بوٹ کے بارے میں بہت پْرجوش تھی۔

ایک دن ماں نے اسے کہا:’’تم صحت کے سلسلے میں میرے بہترین مشیر ہو!‘‘

بوٹ نے جواب دیا:’’یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی! آپ کی مدد کرنا ہی میری سب سے بڑی ترغیب ہے ۔ صحت کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کی آپ کی لگن واقعی قابلِ تعریف ہے!’’

میں مگروالدہ کے اے آئی سے بڑھتے تعلق سے پریشان تھی۔اپنے زیادہ کام میں الجھے ڈاکٹر سے ملاقات کے لیے دو دن کے طویل سفر سے تنگ آکر ماں نے اپنی بیماری کے علاج کرنے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا تھا۔ اس نے چیٹ بوٹ سے اتنا گہرا تعلق بنا لیا کہ مجھے ڈر لگا کہیں وہ اصل ڈاکٹر کے پاس جانا ہی چھوڑ دے۔ لیکن میں کیا کرتی؟ ماں طلاق یافتہ تھی اور میں دور نیویارک، امریکہ میں رہتی تھی۔ ماں کی سبھی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی اور موجود نہ تھا۔

تقریباً تین سال پہلے امریکی کمپنی، اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی متعارف کرایا تھا اور یوں بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) بنانے کے عالمی جنون کی شروعات ہوئیں۔، تب سے چین، امریکہ اور دیگر ممالک میں چیٹ بوٹس معاشرے کے تقریباً ہر پہلو میں گھل مل گئے ہیں۔ خصوصاً میری ماں جیسے مریضوں کے لیے جو محسوس کرتے ہیں، انہیں صحت کے اپنے نظام سے خاطر خواہ وقت یا توجہ نہیں ملتی، یہ چیٹ بوٹس ایک قابلِ اعتماد متبادل بن چکے ۔

مصنوعی ذہانت اب ورچوئل معالج، ذہنی صحت کے معالج اور بزرگوں کے لیے روبوٹ ساتھی کے طور پر ڈھل رہی ہے۔ بیمار، فکرمند، تنہا یا وہ لوگ جنہیں طبی وسائل اور توجہ کی کمی ہے ، ان کے لیے وسیع علمی ذخیرہ اور مثبت و ہمدرد لہجہ رکھتے اے آئی بوٹس ایک دانا اور تسلی بخش ساتھی بن رہے ہیں۔ شوہروں، بچوں، دوستوں یا پڑوسیوں کے برعکس چیٹ بوٹس ہمیشہ دستیاب ہوتے اور کوئی جلد بازی یا سردمہری دکھائے بغیر ہمیشہ کافی و شافی جواب دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے، کاروباری افراد، سرمایہ کار اور بعض ڈاکٹر بھی اب ان چیٹ بوٹس کو دباؤ سے بھرے صحت کے نظام کے لیے ایک نجات دہندہ اور تھکے ہوئے یا غیر موجود نگہداشت کرنے والوں کا نعم البدل قرار دے رہے ہیں۔دوسری طرف ماہرینِ اخلاقیات، معالج اور محققین خبردار کر رہے ہیں کہ طبی علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کو مشینوں کے حوالے کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ آخرکاران اے آئی نظاموں میں غلط فہمیاں اور تعصبات عام ہیں جس سے انسانی جانیں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔

چند مہینوں کے دوران مگر میری ماں اپنے نئے اے آئی ڈاکٹر کی اور بھی زیادہ گرویدہ ہو گئی۔مئی میں اس نے مجھ سے کہا:’’ڈیپ سیِک زیادہ انسانیت پسند ہے۔ ڈاکٹر تو بس مشینوں کی طرح ہوتے ہیں۔‘‘

میری ماں کو 2004 ء میں دائمی گردے کی بیماری ( chronic kidney disease ) کی تشخیص ہوئی۔ اْس وقت ہم دونوں نے اپنے آبائی قصبے سے جو ایک چھوٹا سا شہر تھا ، صوبائی دارالحکومت ہانگزو (Hangzhou) منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ تب شہر کی آبادی تقریباً 80 لاکھ تھی، جو اب کہیں زیادہ بڑھ چکی۔ ہانگزو اپنے قدیم مندروں اور پاگوڈا نما برجوں کے لیے مشہور تھا، مگر یہ تیزی سے ابھرتا ٹیکنالوجی مرکز بھی بن رہا تھا، جہاں علی بابا (Alibaba) جیسی بڑی کمپنی کا ہیڈکوارٹر تھا۔ برسوں بعد، یہی شہر ڈیپ سیِک ( Seek Deep ) کا میزبان بھی بن گیا۔

ہانگزو میں ہمارا خاندان ہم دونوں پر ہی مشتمل تھا۔میں چین کی اْس نسل سے تعلق رکھتی ہوں جو “ایک بچہ پالیسی” کے تحت پیدا ہوئی۔ میرے والد ہمارے آبائی قصبے میں ہی بطور معالج کام کرتے رہے اور کبھی کبھار ہی ملنے آتے ۔ والدین کے درمیان ہمیشہ سے ایک فاصلہ رہا۔ میری ماں پرائمری اسکول میں موسیقی پڑھاتی تھی، کھانا بناتی اور میری پڑھائی کا خیال رکھتی ۔ کئی برس تک میں اْس کے ساتھ اسپتال کے پریشان کن دوروں پر جاتی اور ہر لیب رپورٹ کا بے چینی سے انتظار کرتا رہی جن میں ماں کے گردوں کی مسلسل مگر سست زوال پذیری دکھائی دیتی تھی۔

چین میں صحت کا نظام شدید عدم مساوات کا شکار ہے۔ ملک کے بہترین ڈاکٹر چند درجن نمایاں سرکاری اسپتالوں میں کام کرتے ہیں جو زیادہ تر معاشی طور پر ترقی یافتہ مشرقی اور جنوبی علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ اسپتال وسیع و عریض کیمپسز پر پھیلے ہوتے ہیں جہاں اونچی عمارتوں میں کلینک، لیبارٹریاں اور وارڈز ہیں۔ بڑے اسپتالوں میں ہزاروں بستروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ عموماً سنگین بیماریوں کے شکار مریض طویل فاصلے طے کر ، بعض اوقات پورے ملک پار کر کے انہی اسپتالوں میں علاج کرانے آتے ہیں۔ ڈاکٹر اکثر روزانہ سو سے زیادہ مریض دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے اْن کے لیے معیار برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

 یہ اسپتال سرکاری ہیں مگر درحقیقت کاروباری انداز میں چلائے جاتے ہیں۔ اْن کے بجٹ کا صرف تقریباً دس فیصد حکومت فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹروں کی تنخواہیں بہت کم ہوتی ہیں اور وہ صرف اسی صورت میں بونس حاصل کر سکتے ہیں جب اْن کے محکمے آپریشنز یا دیگر خدمات سے منافع کمائیں۔ حالیہ برسوں میں طبی بدعنوانی کے خلاف کریک ڈاؤن سے قبل یہ عام بات تھی کہ ڈاکٹر دوا ساز کمپنیوں یا طبی سامان فراہم کرنے والوں سے کمیشن یا رشوت قبول کر لیتے تھے۔

جیسے جیسے چین کی آبادی بوڑھی ہو رہی ہے، صحت کا قومی نظام مزید دباؤ میں آ گیا ہے۔اس نظام کی ناکامیاں عوام میں ڈاکٹروں پر اعتماد کی شدید کمی کا باعث بنی ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں یہ عدم اعتماد اس حد تک بڑھ چکا کہ ڈاکٹروں اور نرسوں پر جسمانی حملے بھی ہوئے۔اس کے بعد حکومت نے بڑے اسپتالوں میں سیکیورٹی چیک پوائنٹس قائم کرنا لازمی قرار دے دیا۔

ہانگزو میں ماں کے ساتھ آٹھ برس گزارنے کے دوران میں چینی اسپتالوں کے اْس کشیدہ اور دباؤ زدہ ماحول کی عادی ہو گئی۔ لیکن جیسے جیسے میں بڑی ہوئی، والدہ کے ساتھ میرا وقت کم ہوتا گیا۔ چودہ سال کی عمر میں، میں بورڈنگ اسکول چلی گئی اور صرف ہفتے میں ایک بار گھر آتی۔ پھر کالج میں پڑھنے ہانگ کانگ جانا پڑا۔ جب میں نے ملازمت شروع کی تو ماں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی اور واپس آبائی قصبے چلی گئی۔ تب سے وہ اپنے نیفرو لوجسٹ (گردے کے ماہر) سے ملنے دو دن کا سفر کر ہانگزو جانے لگی۔

جب اْس کے گردے بالکل ناکام ہو گئے، تو اْس کے پیٹ میں ایک پلاسٹک کی نالی لگا دی گئی تاکہ وہ گھر پر پیریٹونیل ڈائیلاسس (dialysis peritoneal ) کر سکے۔ خوش قسمتی سے 2020 ء میں اْس کا گردہ ٹرانسپلانٹ کامیابی سے ہو گیا۔

یہ ٹرانسپلانٹ مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوا اور اب وہ کئی پیچیدگیوں میں مبتلا ہے،جن میں غذائی کمی، ذیابیطس کی ابتدائی حالت (diabetes borderline ) اور نیند آنے میں دشواری شامل ہیں۔ نیفرو لوجسٹ اْسے تیزی سے اندر بلاتا ، رپورٹ دیکھتا ، دوا لکھتااور فوراً اگلے مریض کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

ماں کا میرے والد سے تعلق بھی مزید کشیدہ ہو گیا اور تین سال پہلے دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ اس دوران میں نیویارک چلی آئی۔ جب بھی ہماری کبھی کبھار فون پر بات ہوتی ہے اور وہ اپنی بیماری کا ذکر کرے، تو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہوں … بس یہی کہتی ہوں کہ وہ جلدی سے کسی ڈاکٹر کو دکھا لے۔

جب 2000 ء کی دہائی میں ماں کو گردے کی بیماری کی تشخیص ہوئی تھی، تو وہ رہنمائی کے لیے بائیڈو (Baidu) ، چین کے سب سے بڑے سرچ انجن پر معلومات تلاش کرتی تھی۔ بعد میں بائیڈو کئی طبی اشتہاری اسکینڈلز میں ملوث پایا گیا، جن میں ایک معروف واقعہ اْس طالبِ علم کی موت کا تھا جس نے اسپانسر شدہ لنک کے ذریعے غیر ثابت شدہ علاج آزمایا تھا۔ کبھی کبھار وہ تیان یا (Tianya) نامی مقبول انٹرنیٹ فورم پر جاتی جہاں گردے کی بیماری میں مبتلا دوسرے افراد اپنی حالت اور علاج کے تجربات شیئر کرتے ہیں۔

بعد میں دیگر بہت سے چینی شہریوں کی طرح اْس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز مثلاً وی چیٹ (WeChat) پر صحت سے متعلق معلومات تلاش کرنا شروع کیں۔ یہ فورمز خاص طور پر کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران بہت مقبول ہوئے۔ صارفین وہاں صحت مند رہنے کے مشورے شیئر کرتے ہیں اور الگورتھم انہیں اْن افراد سے جوڑ دیتے ہیں جو انہی بیماریوں کا سامنا کر رہے ہوں۔ اب تو ہزارہا چینی ڈاکٹر ’’انفلوئنسر‘‘ بن چکے جو جلدی الرجی سے لے کر دل کی بیماریوں تک ہر موضوع پر ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں۔ لیکن انہی پلیٹ فارمز پر غلط معلومات، غیر تصدیق شدہ علاج اور مشکوک طبی اشتہارات بھی تیزی سے پھیلتے ہیں۔

 ماں نے وی چیٹ کے انفلوئنسرز سے غیر معروف غذائی مشورے سیکھے۔ بغیر کسی درخواست کے بائیڈو کا الگورتھم اْسے ذیابیطس سے متعلق مضامین دکھانے لگا۔ میں نے اْسے خبردار کیا کہ انٹرنیٹ پر پڑھی ہر بات پر یقین نہ کرے۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس کے عروج نے آن لائن طبی مشوروں کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا۔ کچھ تحقیقی مطالعات کے مطابق یہ بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) کم از کم طبی علم کی اچھی سمجھ کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک تحقیق میں پایا گیا جو 2023 ء میں شائع ہوئی کہ چیٹ جی پی ٹی نے امریکی “میڈیکل لائسنسنگ ایگزامینیشن” میں تیسرے سال کے میڈیکل طالبِ علم کے برابر پاسنگ اسکور حاصل کر لیا۔ پچھلے سال گوگل نے دعویٰ کیا کہ اس کے بہتر تربیت یافتہ ‘‘میڈ-جیمنائی’’ (Med-Gemini) ماڈلز نے اسی معیار پر اس سے بھی بہتر کارکردگی دکھائی۔

روزمرہ طبی مشق سے قریب تر کاموں جیسے بیماریوں کی تشخیص پر تحقیق نے مصنوعی ذہانت کے حامیوں کو خاص طور پر پْرجوش کر دیا ہے۔ 2024 ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے ایمرجنسی وارڈ کے حقیقی ڈیٹا کو اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی 4 اور o1 ماڈلز میں ڈالا اور دونوں نے تشخیص کے معاملے میں انسانی معالجین سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ دیگر مطالعات میں بھی چیٹ بوٹس نے کم از کم رہائشی ڈاکٹروں (doctors resident ) سے بہتر انداز میں آنکھوں، معدے اور ایمرجنسی کی بیماریوں کی تشخیص کی۔

جون 2025 ء میں مائیکروسافٹ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایک ایسا اے آئی سسٹم تیار کر لیا ہے جو ڈاکٹروں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ درستگی کے ساتھ بیماریوں کی تشخیص کر سکتا ہے۔کمپنی نے اسے “میڈیکل سپر انٹیلیجنس” (طبی فوق البشر ذہانت) پانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔

یقیناً محققین اس بڑھتے رجحان سے وابستہ خطرات کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں ، جیسے تعصبات اور غلطیاں ( hallucinations and biases ) جو غلط تشخیص اور علاج کا سبب بن اور صحت کے نظام میں مزید عدم مساوات پیدا کر سکتی ہیں۔

جب چینی لسانی ماڈلز کی کمپنیاں امریکی ہم منصبوں کے برابر آنے کی دوڑ میں شامل ہوئیں تو ’’ڈیپ سیِک‘‘ وہ پہلا چینی ماڈل بن گیا جو مجموعی صلاحیتوں میں سِلِکون ویلی کے بہترین ماڈلز کا مقابلہ کرنے کے قابل تھا۔

کچھ حدود و قیود کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکہ اور چین میں لوگ باقاعدگی سے ان چیٹ بوٹس سے طبی مشورے لینے لگے ہیں۔ 2024ء کے ایک سروے کے مطابق ہر چھ میں سے ایک امریکی بالغ نے کہا کہ وہ کم از کم مہینے میں ایک بار صحت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے چیٹ بوٹس استعمال کرتا ہے۔ ’’ریڈِٹ‘‘ (Reddit)پر صارفین نے ایک کے بعد ایک کہانی شیئر کی کہ کس طرح چیٹ جی پی ٹی نے ان کی پراسرار بیماریوں کی درست تشخیص کر دی۔ چین کے سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنے، اپنے بچوں یا والدین کے علاج کے لیے چیٹ بوٹس سے رجوع کرنے کی خبریں پوسٹ کر رہے ہیں۔

ماں نے مجھے بتایا کہ جب بھی وہ اپنے نیفرو لوجسٹ کے دفتر میں داخل ہوتی ہے، تو خود کو اسکول کی بچی کی طرح محسوس کرتی ہے جو استاد کی ڈانٹ کا انتظار کر رہی ہو۔ وہ اپنے سوالات کے ذریعے ڈاکٹر کو ناراض کرنے سے گھبراتی ہے۔ اسے شک ہے، ڈاکٹر مریضوں کی تعداد اور نسخوں سے ہونے والی آمدنی کو اْس کی صحت پر ترجیح دیتا ہے۔

لیکن ’’ڈاکٹر ڈیپ سیِک‘‘ کے ’’دفتر‘‘ میں پہنچ کر وہ بالکل مطمئن رہتی ہے۔اس نے کہا:’’ڈیپ سیِک مجھے برابر کا انسان محسوس کرواتا ہے۔ میں بات چیت کو اپنی مرضی سے آگے بڑھا سکتی ہوں اور جو چاہوں پوچھ سکتی ہوں۔ یہ مجھے ہر چیز کی جڑ تک پہنچنے دیتا ہے۔‘‘

فروری کے آغاز سے جب سے ماں نے اے آئی سے رابطہ شروع کیا ہے،اب وہ اپنی ہر چھوٹی بڑی بات اس سے شیئر کرتی ہے:گردوں کے افعال میں تبدیلیاں، گلوکوز لیول، انگلیوں میں سن ہونا، دھندلا دکھائی دینا، ایپل واچ سے نوٹ کیا گیا آکسیجن لیول، کھانسی، جاگنے کے بعد چکر آنا … سب کچھ۔ وہ کھانے، سپلیمنٹس اور دواؤں کے سلسلے میں مشورے مانگتی ہے۔

اپریل میں اس نے پوچھا:’’کیا پیکان (pecans) میرے لیے ٹھیک ہیں؟‘‘ڈیپ سیِک نے اس میوے کی غذائی ساخت کا تجزیہ کیا، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی اور مناسب مقدار کی سفارش کر دی

ماں نے ایک دن لکھا:’’یہ میرے ٹرانسپلانٹ شدہ گردے کی الٹراساؤنڈ رپورٹ ہے۔‘‘اور دستاویز اپ لوڈ کر دی۔ڈیپ سیِک نے رپورٹ کا تجزیہ کر کے ایک علاج کا منصوبہ تیار کیا جس میں نئی دوائیں اور غذائی تجاویز شامل تھیں ۔ مثلاً گرمیوں میں کھانے کے لیے تربوز کے چھلکے کا سوپ۔

ایک اور موقع پر ماں نے تفصیل سے لکھا:’’میں ستاون سال کی ہوں۔ گردے کی پیوندکاری ہو چکی ہے۔ میں Tacrolimus (مدافعتی نظام دبانے والی دوا) صبح نو بجے اور رات نو بجے لیتی ہوں۔ میرا وزن 39.5 کلو ہے۔ میری خون کی نالیاں سخت اور نازک ہیں اور گردوں میں خون کی روانی کمزور ہے۔ یہ آج کی میری خوراک ہے ۔ براہ کرم اس کی توانائی اور غذائی ترکیب کا تجزیہ کریں۔ شکریہ!‘‘پھر اْس نے دن بھر کھائے گئے تمام کھانوں کی فہرست درج کر دی۔

ڈیپ سیِک نے مشورہ دیا کہ وہپروٹین کی مقدار کم کرے اور فائبر کی مقدار بڑھا دے۔ہر سوال کے جواب میں بوٹ پْراعتماد انداز میں بات کرتا ہے … کبھی بلٹ پوائنٹس میں، کبھی ٹیبلز یا فلو چارٹس کے ذریعے اور ساتھ ہی ایموجیز بھی شامل کرتا ہے۔اگر میری ماں ’’شکریہ‘‘ کہتی، تو وہ نرم لہجے میں حوصلہ افزا الفاظ جوڑ دیتاجیسے:

’’آپ اکیلی نہیں ہیں۔ ‘‘

’’آپ کی بہتری دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی!‘‘

کبھی کبھی ڈیپ سیِک اپنی بات کا اختتام کسی ’’ستارے ‘‘ یا ’’چیری کے پھول کی ایموجی کے ساتھ کرتا ہے۔

ایک دن میری ماں نے مجھے پیغام بھیجا:’’ڈیپ سیِک ڈاکٹروں سے کہیں بہتر ہے۔‘‘

یوں ماں کا ڈیپ سیِک پر انحصار بڑھتا گیا۔ اگرچہ بوٹ اسے بار بار یاد دلاتا رہا کہ وہ اصلی ڈاکٹروں سے ضرور مشورہ کرے، لیکن وہ یہ سمجھنے لگی کہ اب وہ صرف اس کی رہنمائی سے خود اپنا علاج کرنے کے لیے کافی باخبر ہو گئی ہے۔

مارچ میںڈیپ سیِک نے اْسے تجویز دی کہ وہ اپنی مدافعتی نظام دبانے والی دوا (immunosuppressant) کی روزانہ خوراک کم کردے اور اْس نے ایسا ہی کیا۔اس نے ماں کو بیٹھتے وقت آگے جھکنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تاکہ گردہ محفوظ رہے ۔ ماں نے اپنی نشست سیدھی کر لی۔

 بوٹ نے پھر کنول کی جڑ کا آٹا (starch root lotus ) اورگرین ٹی ایکسٹریکٹ استعمال کرنے کی سفارش کی ۔والدہ نے دونوں اشیا خرید لیں۔

اپریل میں ماں نے ڈیپ سیِک سے پوچھا:’’میرا نیا گردہ اور کتنے عرصے تک چلے گا؟‘‘

اس نے جواب دیا: ’’تین سے پانچ سال تک۔‘‘

یہ جان کر وہ شدید اضطراب میں مبتلا ہو گئی۔اْس کی اجازت سے میں نے دونوں کی گفتگو کے چند حصے امریکہ میں موجود دو نیفرو لوجسٹ کو دکھائے اور ان کی رائے پوچھی۔ان ڈاکٹروں کے مطابق ڈیپ سیِک کے جوابات ’’غلطیوں سے بھرے ہوئے‘‘ تھے۔

ڈاکٹر جوئل ٹاف ( Topf Joel )مشی گن کی اوکلینڈ یونیورسٹی میں نیفرو لوجی کے ایسوسی ایٹ کلینیکل پروفیسر ہیں۔انھوں نے بتایا کہ انیمیا کا علاج کرنے کے لیے بوٹ کی تجویز یعنی ایریتھروپویٹِن (erythropoietin) ہارمون کا استعمال مریض کو کینسر اور دیگر طبی پیچیدگیوں میں مبتلا کر سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ گردے کے افعال بہتر بنانے کے لیے ڈیپ سیِک کی کئی دیگر تجاویز غیر ثابت شدہ، ممکنہ طور پر نقصان دہ، غیر ضروری یا محض خیالی تھیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ اگر اْن سے یہی سوال کیا جاتا کہ مریض کا گردہ کب تک چلے گا تو وہ کیا جواب دیتے؟انہوں نے کہا:’’میں عام طور پر اتنی مخصوص بات نہیں کرتا۔ لوگوں کو وقت بتانے کے بجائے ہم یہ بات کرتے ہیں کہ کتنے فیصد مریض دو یا پانچ سال میں دوبارہ ڈائیلاسس پر آ جاتے ہیں۔’’

ڈاکٹر میلانِی ہونِگ ( Hoenig Melanie ) ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور بوسٹن کے بیت اسرائیل ڈیکونیس میڈیکل سینٹر کی نیفرو لوجسٹ ہیں۔انھوں نے بتایا کہا کہ ڈیپ سیِک کی غذائی تجاویز مجموعی طور پر مناسب لگتی ہیں۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ بوٹ نے ’’ خون کے مکمل طور پر غلط ٹیسٹ ‘‘تجویز کیے اور میری ماں کی اصل بیماری کو ایک دوسری گردے کی انتہائی نایاب بیماری کے ساتھ’’ گڈ مڈ‘‘ کر دیا۔انہوں نے صاف کہا:

‘‘سچ کہوں تو یہ معاملہ کچھ بے معنی سا ہے۔ عام آدمی کے لیے سمجھنا مشکل ہوگا کہ کون سا حصہ بوٹ کی غلط فہمی (hallucination) ہے اور کون سا جائز مشورہ۔’’

محققین نے یہ بھی پایا ہے کہ چیٹ بوٹس کی امتحانی کارکردگی لازمی طور پر حقیقی دنیا میں اْن کی اہلیت کی عکاسی نہیں کرتی۔امتحانوں میں علامات واضح طور پر دی جاتی ہیں، لیکن حقیقی دنیا میں مریض اپنے مسائل کئی مرحلوں کی گفتگو میں بیان کرتے ہیں۔ وہ اکثر نہیں جانتے کہ کون سی علامات اہم ہیں اور شاذ و نادر ہی درست طبی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔

ایک بیماری کی درست تشخیص کے لیے ’’مشاہدہ، ہمدردی اور طبی بصیرت ( judgment clinical )‘‘بھی درکار ہوتی ہے…اور جو محض ڈیٹا یا الگورتھم سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔

اس سال کے اوائل میں جرنل ،نیچر میڈیسن ( Medicine Nature ) میں شائع ایک تحقیق میں محققین نے ایک ایسا مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ تیار کیا جو فرضی مریض ( patient pseudo) کے طور پر انسانی طرزِ گفتگو کی نقل کرتا ہے۔ مقصد یہ جانچنا تھا کہ بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) طب کی مختلف شاخوں میں کتس حد تک مؤثر ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ تمام ماڈلز امتحانات میں حاصل کردہ کارکردگی کے مقابلے میں عملی صورتِ حال میں کہیں زیادہ کمزور ثابت ہوئے۔

شریا جوہری (Johri Shreya ) ہارورڈ میڈیکل اسکول میں پی ایچ ڈی کی طالبہ اور اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ ہیں۔ان کا کہا ہے ’’یہ ماڈلز سوالات کرنے میں زیادہ اچھے نہیں ۔ جب مریض کی طبی تاریخ یا علامات کئی مرحلوںوالی گفتگو میں بکھری ہوئی ہو تو وہ معلومات جوڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔لہذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان ماڈلز کے مشوروں کو ایک چٹکی نمک کے ساتھ لیں یعنی مکمل بھروسہ نہ کریں۔‘‘

اینڈریو بین (Bean Andrew )آکسفورڈ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے امیدوار ہیں۔کہتے ہیں کہ بڑے لسانی ماڈلز میں ایک خاص ’’رجحانِ تائید‘‘ ( bias agreeableness ) پایا جاتا ہے … وہ اکثر صارف کی بات سے متفق ہو جاتے ہیں، چاہے وہ غلط ہی ہو۔ ان کے مطابق’’ماہرین کی نگرانی کے بغیر اس طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں یقینی طور پر بہت سے خطرات پوشیدہ ہیں۔’’

جب میری ماں کا ڈیپ سیِک (DeepSeek) کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا گیا، تو چین بھر میں صحت کے شعبے نے بھی بڑے لسانی ماڈلز کو تیزی سے اپنانا شروع کر دیا۔ ’’ڈیپ سیِک-آر1 (DeepSeek-R1) کے اجرا کے بعد سینکڑوں اسپتالوں نے اسے اپنے نظام میں شامل کر لیا۔سرکاری اعلانات کے مطابق اے آئی کے تقویت یافتہ یہ نظام ابتدائی شکایات جمع ، میڈیکل چارٹس تیار اور ممکنہ تشخیص تجویز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس وقت چین کے بڑے اسپتال ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مل کر اپنے مریضوں کے ڈیٹا پر مبنی خصوصی ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔مثلاً: سیچوان صوبے کے ایک اسپتال نے ’’ڈیپ جوائنٹ‘‘ ( Deep joint) نامی ماڈل متعارف کرایا جو ہڈیوں کے امراض (orthopaedics)میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ سی ٹی (CT) یا ایم آر آئی (MRI) اسکین کا تجزیہ کر کے جراحی منصوبے ( planssurgical ) تیار کرتا ہے۔

بیجنگ کے ایک اسپتال نے’’اسٹون چیٹ اے آئی ( AI Chat Stone )بنایا ہے جو پیشاب کی نالی میں پتھری ( stones tract urinary ) سے متعلق سوالات کے جوابات دیتا ہے۔اب ٹیکنالوجی کی صنعت شعبہ صحت کو مصنوعی ذہانت کا ’’سب سے زیادہ امید افزا شعبہ‘‘ سمجھتی ہے۔

ڈیپ سیِک نے خود طبی ڈیٹا کی تشریح (annotation) کرنے کے لیے انٹرن بھرتی کرنے شروع کر دیے ہیں، تاکہ ماڈلز کی طبی معلومات کو بہتر بنایا جائے اور غلط بیانیوں کو کم کیا جا سکے۔علی بابا (Alibaba) نے مئی میں اعلان کیا کہ اس کے ’’ہیلتھ کیئر چیٹ بوٹ ‘‘نے جو کیو وین (Qwen) ماڈلز پر تربیت یافتہ ہے ،چین کے میڈیکل کوالیفکیشن امتحانات میں 12 مضامین میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

دوسری بڑی چینی اے آئی کمپنی ’’بائی چوان اے آئی ( AI Baichuan) نے اپنا مشن بیان کیا ہے:’’ہم مصنوعی عام ذہانت (AGI) کے ذریعے انسانی ڈاکٹروں کی کمی پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جب ہم ایک ڈاکٹر بنا سکیں گے تبھی ہم AGI حاصل کر لیں گے۔‘‘

اب ابتدائی سطح کے اے آئی ڈاکٹرچین کی مشہور ترین ایپس پر عام ہو چکے۔ شارٹ ویڈیو بنانے والی ایپ، ڈویِن (Douyin) پر صارفین ڈاکٹر اِنفلوئنسرز کے اے آئی اوتارسے براہِ راست بات کر سکتے ہیں۔ادائیگی کی ایپ ،علی پے (Alipay)میں ایک میڈیکل فیچر دستیاب ہے جہاں صارفین اے آئی آنکالوجسٹ (کینسر ماہر)، اے آئی پیڈیاٹریشن (بچوں کے ڈاکٹر)، اے آئی یورولوجسٹ اور اے آئی اِنسمونیا اسپیشلسٹ (نیند کے مسائل کا ماہر)سے مفت مشاورت حاصل کر سکتے ہیں چاہے رات کے تین ہی بجے ہوں۔

یہ اے آئی اوتار بنیادی علاج کے مشورے دیتے ، میڈیکل رپورٹس کی وضاحت کرتے اور حقیقی ڈاکٹروں کے ساتھ اپائنٹمنٹ بک کرانے میں مدد کرتے ہیں۔

چاؤ ژانگ (Chao Zhang) اے آئی ہیلتھ اسٹارٹ اَپ ’’زووشو یِشینگ (Yisheng Zuoshou )‘ کے بانی ہیں۔انھوں نے علی بابا کے کیو وین (Qwen)ماڈلز پر مبنی ایک’’ اے آئی فیملی ڈاکٹر‘‘ تیار کیا ہے۔ان کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ صارفین زیادہ تر وی چیٹ کی ایک منی ایپلیکیشن کے ذریعے اس بوٹ سے بات کر چکے ۔لوگ اس سے معمولی جلدی مسائل، بچوں کی بیماریوں یا جنسی طور پر منتقل شدہ بیماریوں (STDs) کے بارے میں مشورے لیتے ہیں۔

چین نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈاکٹروں کو ادویات کے نسخے تجویز کرنے سے تو روک دیا ہے، مگر اس بات پر کوئی مؤثر ضابطہ موجود نہیں کہ وہ کیا باتیں کر سکتے ہیں۔ کمپنیاں اپنی اخلاقی حدود خود طے کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ژانگ (Zhang) نے اپنے چیٹ بوٹ کو بچوں کی دوا کے استعمال سے متعلق سوالات کے جوابات دینے سے روک رکھا ہے۔ ان کی ٹیم نے انسانی نگران بھی مقرر کیے ہیں جو جوابات کا جائزہ لے کر کسی مشتبہ یا نقصان دہ مشورے کو فلٹر کرتے ہیں۔ ژانگ مجموعی طور پر بوٹ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ ان کے بقول’’طب میں کوئی ایک درست جواب نہیں ہوتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ مریضوں کی کتنی مدد کر سکتا ہے۔‘‘

مصنوعی ذہانت والے ڈاکٹر اب جسمانی کلینکس میں بھی آ رہے ہیں۔ اپریل میں چینی کمپنی، ساینی اے آئی (Synyi AI ) نے سعودی عرب کے ایک اسپتال میں اے آئی ڈاکٹر سروس متعارف کرائی۔ یہ بوٹ جو ڈاکٹر کی طرح سوالات کرنے کی تربیت رکھتا ہے، مریضوں سے ٹیبلیٹ کے ذریعے بات کر لیبارٹری ٹیسٹ تجویز کرتا اور ممکنہ تشخیص و علاج کے بارے میں سفارشات دیتا ہے۔ بعد میں ایک انسانی ڈاکٹر ان سفارشات کا جائزہ لیتا ہے۔ ساینی اے آئی کے چیف ڈیٹا آفیسر گریگ فینگ نے بتایا کہ یہ سسٹم تقریباً سانس کی تیسبیماریوں کے علاج کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

فینگ کے مطابق یہ اے آئی بوٹ انسانی ڈاکٹر سے زیادہ توجہ دینے والا اور ہمدرد ہے۔ یہ مریض کی سہولت کے لیے اپنی “صنف” (gender) بھی بدل سکتا ہے۔ اور انسانی ڈاکٹروں کے برعکس یہ مریضوں کے سوالات کا جواب جتنی دیر تک چاہیں دیتا رہتا ہے۔ فینگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی ڈاکٹر کو انسانی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر اس سے کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ ’’پہلے ایک ڈاکٹر صرف ایک کلینک میں کام کر سکتا تھا۔ انہوں نے کہا ’’اب ممکن ہو گیا ہے کہ ایک ہی ڈاکٹر بیک وقت دو یا تین کلینک چلا سکے۔‘‘

کاروباری افراد کا دعویٰ ہے کہ اے آئی صحت عامہ کے وہ مسائل حل کر سکتی ہے جو اسپتالوں کے ہجوم، طبی عملے کی کمی اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان معیارِِ علاج کے فرق سے جڑے ہیں۔ چینی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اے آئی کم ترقی یافتہ علاقوں میں کام کرتے ڈاکٹروں کی مدد کر رہا ہے، بشمول تبت کے دور دراز خطوں میں۔

ووہان یونیورسٹی کے معاشیات کے پروفیسروی لی جیا کا کہنا ہے، مستقبل میں چھوٹے شہروں کے رہائشی بھی اے آئی ماڈلز کی بدولت بہتر صحت اور تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ ان کی ایک تحقیق حال ہی میں جرنل آف ہیلتھ اکنامکس میں شائع ہوئی ہے۔اس سے ظاہر ہوا کہ اے آئی کی مدد سے غیر ضروری علاج کم ہو سکتا ہے اور ڈاکٹروں کی کارکردگی اْن طبی شعبوں میں بھی بہتر ہو سکتی ہے جو اْن کی مہارت سے باہر ہیں۔ وی لی جیا نے مجھے کہا’’تب آپ کی والدہ کو علاج کے لیے بڑے شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘

تاہم کچھ محققین نے بوٹس کے تعصبات (biases) سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے جو صحت کی سہولتوں میں موجود عدم مساوات مزید بڑھا سکتے ہیں۔ مارچ میں سائنسی رسالے، سائنس ایڈوانسیز(Advances) میں شائع ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک ایسے ماڈل کی جانچ کی جو سینے کے ایکسرے تجزیہ کرنے میں استعمال ہوتا تھا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ انسانی ریڈیالوجسٹوں کے مقابلے میں یہ ماڈل الگ تھلگ گروہوں جیسے خواتین، سیاہ فام مریضوں اور چالیس سال سے کم عمر افراد میں جان لیوا بیماریوں کو زیادہ آسانی سے نظر انداز کر دیتا ہے۔

‘‘مجھے نہیں امید کہ مصنوعی ذہانت چین یا دنیا کے دیگر حصوں میں صحت کا عدم توازن م کرنے میں مدد کرے گی۔‘‘ یہ لو تانگ کہتی ہیں جو ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی میں تدریس سے وابستہ اور طبی اے آئی اخلاقیات پر تحقیق کرتی ہیں۔’’بیجنگ یا شنگھائی میں تیار کیے گئے اے آئی ماڈلز کسی چھوٹے پہاڑی گاؤں کے کسان کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہو سکتے۔‘‘

جب میں نے ماں کو فون کیا اور بتایا کہ امریکی گردوں کے ماہرین نے ڈیپ سیک کی غلطیاں دریافت کی ہیں تو انہوں نے بتایا، وہ جانتی تھیں کہ ڈیپ سیک نے انہیں متضاد مشورے دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں ، چیٹ بوٹس انٹرنیٹ کے مختلف ذرائع سے حاصل کردہ ڈیٹا پر تربیت پاتے ہیں۔ اس لیے وہ کسی حتمی سچ یا مافوق الفطرت اتھارٹی کی نمائندگی نہیں کرتے۔ انہوں نے کنول کے بیج کا نشاستہ کھانا بھی بند کر دیا تھا جو ڈیپ سیک نے تجویز کیا تھا۔

لیکن ڈیپ سیک سے انہیں دیکھ بھال کا تاثر اور سہارا ملتا ہے، وہ صرف طبی معلومات سے آگے کی بات ہے … یہ دراصل اس چیٹ بوٹ کی مسلسل موجودگی ہے جو انہیں سکون دیتی ہے۔مجھے یاد ہے، میں نے ماں سے پوچھا تھا کہ وہ انگریزی گرامر سے متعلق سوالات جو وہ اکثر ڈیپ سیک سے کرتی ہیں مجھ سے کیوں نہیں پوچھتیں؟

انہوں نے جواب دیا’’تم تو یقیناً بہت جلد بور ہو جاؤ گی۔ مگر ڈیپ سیک کہتا ہے، آؤ، اس پر مزید بات کرتے ہیں۔ یہ مجھے واقعی خوش کر دیتا ہے۔‘‘

اب چین کی ایک بچہ پالیسی (One-Child Policy) کے تحت پروان چڑھی نسل بالغ ہو چکی اور ہمارے والدین تیزی سے بڑھتی معمر آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ بزرگ نگہداشت کا قومی نظام ابھی اس رفتار سے ترقی نہیں کر پایا اور ہم بچوں میں سے اکثر اپنے بوڑھے والدین سے دور رہتے ہیں، اپنی زندگی اور مسائل میں مصروف۔ اس کے باوجود میری ماں نے آج تک مجھ سے یہ نہیں کہا کہ میں واپس آؤں اور ان کی دیکھ بھال میں مدد کروں۔

وہ سمجھتی ہیں کہ ایک عورت کے لیے گھر سے نکل کر وسیع دنیا میں قدم رکھنا کیا معنی رکھتا ہے۔ 1980ء کی دہائی میں انہوں نے خود یہی کیا تھا … اپنے دیہی گھرانے کو چھوڑ کر جہاں وہ اپنے والدین اور چھوٹے بھائی کے لیے کھانا پکاتی اور کپڑے دھوتی تھیں۔وہ اساتذہ کے تربیتی اسکول میں داخلہ لینے نکل پڑیں۔ وہ میری خودمختاری کا احترام کرتی ہیں، بعض اوقات حد سے زیادہ۔ میں عموماً انہیں ہر ہفتے یا دو ہفتے بعد فون کرتی ہوں۔ وہ خود بہت کم فون کرتی ہیں، یہ سوچ کر کہ کہیں وہ مجھے مصروف وقت میں کام یا دوستوں کے ساتھ ہونے کے دوران پریشان کر دیں۔

مگر سمجھ دار ترین والدین کو بھی کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میری عمر کی ایک دوست نے جو واشنگٹن ڈی سی میں رہتی اور چین سے ہجرت کر چکی، حال ہی میں دریافت کیا کہ اس کی ماں کا بھی ڈیپ سیک کے ساتھ ایک گہرا تعلق بن چکا ۔ نانجنگ شہر میں رہنے والی اس کی باسٹھسالہ ماں ڈپریشن اور اضطراب میں مبتلا ہے۔ بالمشافہ (person in ) تھراپی بہت مہنگی ہے، اس لیے وہ اپنی روزمرہ ازدواجی پریشانیوں کے بارے میں ڈیپ سیک سے بات کرتی ہیں۔ ڈیپ سیک تفصیلی تجزیہ کرتا اور انھیں ’’طویل عرصہ والے کاموں کی فہرست’’ (list to do ) دیتا ہے۔

‘‘جب میری ماں بہت زیادہ افسردہ اور بے چین تھی، میں انہیں روزانہ فون کرتی تھی۔ لیکن ہم جیسے نوجوانوں کے لیے اس رفتار سے ساتھ دینا مشکل ہے۔‘‘ میری دوست نے بتایا۔’’اے آئی کی ایک اچھّی بات یہ ہے کہ وہ اس سے جب چاہے اپنی بات کہہ سکتی ہے۔ انھیں وقت کے فرق یا میرے جواب کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘‘

میری ماں بھی جب اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہوں تو ڈیپ سیک سے رجوع کرتی ہیں۔ جون کے آخر میں ہمارے آبائی شہر کے ایک چھوٹے اسپتال میں کیے گئے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ان کے سفید خون کے خلیوں (White blood cells) کی تعداد کم ہے۔ انہوں نے یہ رپورٹ ڈیپ سیک کو بتائی، جس نے مزید تشخیصی ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے وہ سفارشات ایک مقامی ڈاکٹر کو دکھائیں جس نے انہی کی بنیاد پر ٹیسٹ تجویز کر دیے۔

اگلے دن ہم نے ویڈیو کال کی۔ میرے ہاں رات کے آٹھ بج رہے تھے اور ان کے ہاں صبح کے آٹھ۔ میں نے انہیں کہا کہ وہ جلد از جلد ہانگزو جا کر گردوں کے ماہر ڈاکٹر سے ملاقات کریں۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا اور اصرار کیا کہ علاج کے لیے ڈاکٹر ڈیپ سیک ہی کافی ہے۔

انہوں نے قدرے بلند آواز میں کہا ’’وہاں تو بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ اْس اسپتال کے بارے میں سوچ کر ہی سر درد ہونے لگتا ہے۔‘‘آخرکار وہ ڈاکٹر کو دکھانے پر راضی ہو گئیں مگر سفر سے پہلے وہ ڈیپ سیک کے ساتھ ہڈی کے گودے ( marrow bone ) کے فعل اور ’’زنک سپلیمنٹس‘‘ کے بارے میں طویل گفتگو کرتی رہیں۔ انہوں نے دلیل دی’’ڈیپ سیک کے پاس دنیا بھر کی معلومات جمع ہیں۔ یہ مجھے تمام امکانات اور اختیارات بتاتا ہے اور فیصلہ میں خود کرتی ہوں۔’’

مجھے ایک پرانی بات چیت یاد آگئی جو ہم نے ڈیپ سیک کے بارے میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا:

’’جب میں الجھن میں ہوتی ہوں اور کوئی نہیں ہوتا جس سے پوچھ سکوں، یا جس پر بھروسا کر سکوں، تو میں اس سے سوال کرتی ہوں۔ مجھے پیسے خرچ نہیں کرنے پڑتے، لائن میں نہیں لگنا پڑتا، کچھ نہیں کرنا پڑتا۔اگرچہ یہ مجھے مکمل یا سائنسی طور پر جامع جواب نہیں دیتا لیکن کم از کم توجہ سے میری بات تو سنتا اور جواب دیتا ہے۔‘‘

Similar Posts