شاید اس وجہ سے بعض ٹیلینڈ افراد کی گروتھ رک بھی جاتی ہو، یہ بھی حقیقت ہے کہ مالی و دیگر معاملات کی وجہ سے رسک لینا آسان نہ ہوتا، البتہ اگر ہم کامیاب ترین لوگوں کی مثال لیں تو ان میں بیشتر وہی ملیں گے جنھوں نے ’’ کمفرٹ زون ‘‘ سے نکل کر خود کو جانا اور اپنے انداز تبدیلی لائے۔
اگر بات کرکٹ کی کریں تو ماضی اور جدید دور میں زمین آسمان کا فرق ہے، پہلے ٹیسٹ کرکٹ ہی تھی لہذا اسے سر کا تاج قرار دیا جاتا تھا، بعد میں ون ڈے مقابلے شروع ہوئے، تھوڑا پیسہ آیا کھلاڑیوں کی توجہ زیادہ اس پر مبذول ہو گئی۔
اب ٹی ٹوئنٹی کا دور ہے، نئی نسل اس میں تیز کھیلنے والوں کو وہ مقام دیتی ہے جو شاید ماضی کے کرکٹ شائقین ڈان بریڈ مین کو دیتے ہوں، فرق یہ ہے کہ اصل بریڈمین آج برسوں گذرنے کے باوجود بھی سب کو یاد ہیں لیکن ٹی ٹوئنٹی کے ’’ بریڈمین ‘‘ کچھ عرصے بعد نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
آج کھلاڑی صرف چند گھنٹے کا ٹی ٹوئنٹی میچ کھیل کر بڑی رقم کمانے کو ترجیح دیتے ہیں، ٹیسٹ کرکٹ کا یہ حال ہے کہ پاکستان جیسا اہم کرکٹنگ ملک بھی سال میں 4،5 میچ ہی کھیلتا ہے۔
ایسے کھلاڑی بہت کم رہ گئے جو تینوں طرز میں پرفارم کر رہے ہوں، جو ہیں ان میں سے بھی بیشتر زبردستی اپنے اسٹارڈم کا استعمال کر کے خود کو ناگزیز ثابت کرتے ہیں،اس سے ان کی ٹیم کو نقصان بھی ہوتا ہے۔
ویسے ماضی میں اکثر کرکٹرز کہا کرتے تھے کہ ’’ ملک و قوم کیلیے ایسا کرنا چاہتے ہیں‘‘ اب یہ تکلف بھی نہیں آیا، کھلاڑی اب لیگز سے ڈالرز کمانے کیلیے ملکی کرکٹ کو ہی خیرباد کہہ رہے ہیں۔
ان کا موقف ہوتا ہے کہ انٹرنیشنل کیریئر مختصر ہونے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں،اگر یہ بات درست ہے تو ملک کا استعمال بھی نہ کریں، اتنے باصلاحیت ہیں تو اس سے پہلے ہی لیگز سے معاہدہ کرلیا کریں مگر ظاہر ہے ایسا ہو نہیں سکتا۔
لیگز کئی سپراسٹارز کی انا کا بت توڑنے کا ذریعہ بھی بنی ہیں، اپنے ملک میں آپ کو ہیرو بنا کر رکھا جاتا ہے، وہاں اگر زیادہ کمپی ٹیشن نہیں تو برسوں آؤٹ آف فارم ہونے کے باوجود بھی کھیلتے رہتے ہیں۔
لیکن لیگز کا معاملہ الگ ہے، فرنچائزز کروڑوں خرچ کر کے دنیا بھر کا بہترین ٹیلنٹ لاتی ہیں پھر ان سے توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ ہر میچ میں پرفارم کریں،آپ اگر توقعات پر پورا نہ اتر سکیں تو کچھ ایسا ہو جاتا ہے جس کا اپنے ملک میں تصور بھی نہیں کر سکتے۔
یہاں آپ کی ایگو ہرٹ ہوتی ہے اور ایسا کچھ کر جاتے ہیں جس کی کسی کو توقع نہیں ہوتی، بگ بیش میں بھی ایسا ہی ہوا، ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ کسی میچ میں ٹیل اینڈر کو آؤٹ ہونے سے بچانے اور اگلا اوور خود کھیلنے کیلیے بیٹرزآخری گیند پر سنگل کا موقع خود چھوڑ دیتے ہیں۔
بابر اعظم نے متعدد بار ایسا کیا ہو گا لیکن ان کے ساتھ کوئی یہ کرے گا یہ شاید سوچا نہ ہو، سڈنی سکسرز میں انھیں اسٹیو اسمتھ کے ساتھ اوپننگ کا موقع ملا جنھوں نے 2 سال قبل اپنا آخری ٹی 20 انٹرنیشنل کھیلا تھا، 11 ویں اوور کی آخری گیند پر بابر نے شاٹ کھیلا سنگل کا موقع تھا لیکن اسمتھ نے انکار کر دیا جس پر بابر سخت ناراض دکھائی دیے۔
اسمتھ نے اگلے اوور میں32 رنز بنا کر اپنے فیصلے کو درست ثابت کر دیا، بابر 47 رنز پر وکٹ گنوا بیٹھے، جاتے جاتے باؤنڈری روپ پر بیٹ بھی مارا، شائقین بھی حیران رہ گئے اور کمنٹیٹرز کیلیے بھی یہ رویہ خلاف توقع تھا۔
بابر نے 39 بالز پر 47 رنز بنائے، اسمتھ نے 3 بالز زائد استعمال کر کے100 رنز اسکور کر دیے۔
دونوں اننگز میں فرق واضح ہے، کیا کوئی پاکستان ٹیم میں ایسا سوچ سکتا تھا نہیں ناں، اس سے پہلے محمد رضوان کو میلبورن رینیگیڈز کے کپتان نے سلو کھیلنے پر بیٹنگ سے واپس بلوا لیا تھا۔
شاید ہمیں اپنے اسٹارز کے ساتھ یہ رویہ اچھا نہیں لگا لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ کیا ان دونوں کی بیٹنگ جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے مطابقت رکھتی ہے؟ کیا ہماری ناراضی جائز ہے؟
بگ بیش کے تمام بیٹرز میں سب سے کمتر اسٹرائیک ریٹ انہی دونوں کا ہے، فرنچائز کرکٹ میں آپ کو بھاری معاوضہ دے کر بلایا جاتا ہے وہ ایسی باتیں برداشت نہیں کرتے، اصل کنگ کا راج بھی اپنے ملک تک محدود رہتا ہے باہر اس کے ویسے نازونخرے تو نہیں اٹھائے جاتے۔
یہ تو کرکٹ کی بات ہے، اپنے ملک کا معاملہ الگ ہے ہمارے پاس اب بھی اتنے بہترین بیٹرز موجود نہیں جو بابر کی جگہ سنبھال سکیں اس لیے وہ پھر ٹی ٹوئنٹی میں واپس آ گئے، گھر پر آپ والدین کے سامنے کچھ بھی کہہ دیتے ہیں لیکن کیا آفس میں باس سے کہہ سکتے ہیں کہ میں فلاں کام نہیں کر سکتا موڈ نہیں ہو رہا۔
جو وقت کے ساتھ خود کوتبدیل نہیں کر سکا وہ پیچھے رہ جاتا ہے، ماضی کے شہنشاہوں کے خاندان سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے آج بھارت میں کس حال میں ہیں اس کو دیکھ لیں،ماضی نہیں حال کو دیکھنا چاہیے، اپنا اسٹار ڈم اور ایگو گھر چھوڑ کر صرف کام پر توجہ دینا مناسب ہوتا ہے، یہ دیکھیں کہ کیا جدید کرکٹ کیلیے اب بھی مناسب ہیں یا خود کو ٹیسٹ و ون ڈے تک محدود رکھنا چاہیے۔
پاکستان کیلیے بابر کے ٹی ٹوئنٹی میں مستقبل کا ورلڈکپ سے اندازہ ہو جائے گا، رضوان کا تو مختصر طرز میں کیریئر بظاہر ختم ہو چکا، دونوں نے ملکی کرکٹ کے لیے بڑے کارنامے سرانجام دیے لیکن ہمیشہ ٹی ٹوئنٹی میں سست بیٹنگ کا طعنہ سہتے رہے۔
انھوں نے خود کو تبدیل کرنے کی زیادہ کوشش نہ کی،چیزوں کو ’’ فور گرانٹڈ ‘‘ لیا، لیگز میں دنیا بھر کے ٹیلنٹ کے سامنے مسائل نمایاں ہو گئے، بنگلہ دیش لیگ کا معیار تو ایسا ہے کہ وہاں حیدر علی کپتانی کر رہا ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاید ماضی کی طرح وہاں کی کمزور بولنگ اور سیدھی پچز پر بابر اور رضوان اس بار بھی کھیلتے رہتے تو رنز بناتے رہتے، آسٹریلیا میں ورلڈکلاس بولنگ اور باؤنسی ٹریکس پر وہ مشکلات کا شکار ہیں۔
انھیں بگ بیش میں نہیں جانا چاہیے تھا البتہ میں اس تاثر سے متفق نہیں، دونوں ورلڈکلاس بیٹرز اور کہیں بھی پرفارم کرنے کے اہل ہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ وہ کیا ہیں اسے بھول کر کیا کر سکتے ہیں اس پر توجہ دیں۔
اب بھی میچز باقی ہیں دکھا دیں اپنا ٹیلنٹ،باؤنڈری کی رسی پر بیٹ نہ ماریں بال پر ماریں تب ہی ٹیم کو رنز اور آپ کی انا کو تسکین مل سکے گی۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)