ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لئے سندھ اسمبلی میں خصوصی دعا کی گئی۔ دعا کے بعد ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایوان میں کھڑے ہوگئے۔ ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر بات کرنا چاہتے ہیں اس پر سعید غنی نے کہا کہ آپ بات کرلینا ہم منع کب کررہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
بعدازاں ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے سانحہ گل پلازہ پر احتجاج کیا، انصاف دو انصاف دو، ظالموں جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔
سعید غنی نے کہا کہ معاملے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، ہماری کوتاہیاں اجاگر کریں مگر شور نہ کریں، یہ طے ہوا تھا کہ گل پلازہ واقعہ پر سب بات کریں گے، کراچی کے لوگ اور سانحہ کے متاثرین دیکھ رہے ہیں، ایم کیو ایم والے تماشا لگانا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ 17 جنوری کی رات تقریباً سوا دس بجے گل پلازہ کی ایک دکان میں آگ لگی جو پلازہ میں پھیل گئی، پلازہ میں ایک ہزار اکیس دکانیں ہیں اطلاع ملتے ہی گاڑیاں جائے حادثے پر پہنچیں، صورتحال کے مطابق مزید گاڑیاں طلب کی گئیں، آگ بجھانے کے عمل میں 26 فائر ٹینڈر، 6 اسنارکل نے حصہ لیا، 33 ایمبولینس وہاں موجود تھیں، آگ لگنے کے بعد کراچی کی انتظامیہ وہاں موجود تھی، گل پلازہ کا رقبہ آٹھ ہزار گز ہے، جانیں بچاتے ہوئے ایک فائر ٹینڈر فرقان شہید ہوا ابھی تک 70 افراد کے متعلق ہمیں معلومات ملی کہ وہ لاپتہ ہیں ان میں سے آٹھ کی لاشیں مل چکی ہیں اور اب 62 لاپتا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی نے اس حوالے سے اجلاس طلب کیا تھا جہاں تاجروں کے نمائندے بھی موجود تھے، جاں بحق کے عوض فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا، ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں تاجر شامل ہیں جو نقصانات کا تخمینہ لگائیں گے،
حکومت لوگوں کا کاروبار بحال کرنے میں بھی مدد کرے گی، کمشنر کراچی اور اے آئی جی کی کمیٹی اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں گے، اپوزیشن ممبران کا حق ہے کہ ہم پر تنقید کریں کیوں کہ ایک سانحہ ہوا ہے۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ سانحہ کے متاثرین کی آہ و بکاء ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، ان فیمیلز کے لیے وہ قیامت سے کم نہیں تھی، حکومتی نمائندے وہاں موجود نہیں تھے، ابھی تک کوئی ایک بندہ ایسا نہیں جو حادثے کی ذمہ داری قبول کرتا اور استعفی دیتا، میں جماعت اسلامی کے طرف سے تمام متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کرتا ہوں، اس سانحے نے حکومتی بوسیدہ نظام کو بے نقاب کیا ہے۔
محمد فاروق نے کہا کہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا عملہ ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی میں ملوث ہے، انہوں نے رشوت خوری کا بازار گرم کیا ہوا ہے، قابض میئر کو کچھ نظر نہیں آرہا، وہاں کے تاجروں نے بتایا کہ گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں، کبھی پانی ختم تو کبھی ڈیزل ختم ہوا ان کے پاس آگ بجھانے کے جدید آلات نہیں تھے، فائر بریگیڈ عملے کے پاس ماسک نہیں تھے، جو کمشنر اس سانحے میں ملوث ہے اسی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی، حکمرانوں کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے وزراء کے استعفی سامنے آنے چاہئیں۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم جوڈیشل انکوائری کے لیے بھی تیار ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سی ایم کو حکم دیا ہے کہ سندھ حکومت یہ معاملہ فوری حل کرے، آج اجلاس میں طے ہوا ہے کہ عمارتوں میں فائر الارم لگائے جائیں گے۔
بعدازاں ایم کیو ایم نے ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروادی جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی ایسٹ منتخب نمائندوں سے بذریعہ میسجز و کال رابطے میں نہیں تھے سانحہ کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔