پاکستانی شہری رواں موسم سرما کن ممالک کا بغیر ویزا سفر کرسکتے ہیں؟
موسم سرما میں بیرون ملک چھٹیاں گزارنے کے خواہش مند پاکستانی شہریوں کے لیے 29 ممالک میں سفر کے نئے مواقع موجود ہیں، جہاں پاکستانی پاسپورٹ پر بغیر پیشگی ویزا، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک سفری اجازت کے ذریعے داخلے کی سہولت دستیاب ہے۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی تازہ فہرست کے مطابق ان مقامات میں 11 ایسے ہیں جہاں پاکستانی شہریوں کو بغیر ویزا داخلے کی اجازت ہے، 15 ممالک پہنچنے پر ویزا جاری کرتے ہیں جبکہ 3 مقامات کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ای ٹی اے) حاصل کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب پاکستان نے عمان اور سعودی عرب کے ساتھ ویزا استثنیٰ کے نئے معاہدے بھی کیے ہیں، جبکہ قطر اہل پاکستانی شہریوں کو 30 روزہ سیاحتی ویزا آن ارائیول کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ تاہم عمان اور سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کا اطلاق عام پاکستانی سیاحوں پر نہیں بلکہ مخصوص سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد پر ہوتا ہے۔
قطر میں پاکستانیوں کے لیے 30 روزہ ویزا آن ارائیول
قطر نے پاکستانی شہریوں کے لیے 30 روزہ سیاحتی ویزا آن ارائیول کی سہولت فراہم کر رکھی ہے۔ اس کے تحت پاکستانی مسافر دوحہ کے حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے کچھ شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔
پاکستانی سفارت خانے کی ہدایات کے مطابق مسافروں کو قطر کے سرکاری ہوٹل بکنگ پلیٹ فارم ’ڈسکور قطر‘ کے ذریعے رہائش کا انتظام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ کم از کم ایک ماہ کی ہیلتھ انشورنس خریدنا بھی لازمی ہے، جس کی قیمت 50 قطری ریال ہے۔
سفر کے دوران انشورنس کی رسید اور سرٹیفکیٹ ساتھ رکھنا ضروری ہوگا۔ دوحہ ایئرپورٹ پہنچنے پر مسافروں کو امیگریشن کاؤنٹر پر جانے سے پہلے ڈسکور قطر کے ڈیسک پر اپنی دستاویزات کی جانچ کرانا ہوگی۔
اس سہولت کے تحت زیادہ سے زیادہ 30 روز قیام کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار ہوٹل کی بکنگ اور داخلے کی دیگر شرائط پر ہوگا۔ مسافروں کو روانگی سے پہلے قطری حکام یا اپنی ایئرلائن سے تازہ ترین شرائط کی تصدیق کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
عمان کا ویزا استثنیٰ معاہدہ کن پاکستانیوں کے لیے ہے؟
پاکستان اور عمان نے 14 اکتوبر 2026 کو باہمی ویزا استثنیٰ کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی، خصوصی، سروس اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے افراد پیشگی ویزے حاصل کیے بغیراس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
عام پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری جو سیاحت یا چھٹیاں گزارنے کے لیے عمان جانا چاہتے ہیں، اس معاہدے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ انہیں عمان کے موجودہ ویزا اور داخلے کے ضوابط کے مطابق ہی سفر کرنا ہوگا۔
سعودی عرب کے ساتھ سفری سہولت کا نیا معاہدہ
پاکستان اور سعودی عرب نے 22 ستمبر 2026 کو ایک دوسرے کے سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ویزا کی پابندی سے چھوٹ دینے کے معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ معاہدہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے موقع پر طے پایا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مختصر دورانیے کے سفر کو آسان بنانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
تاہم اس معاہدے کے تحت عام پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو سعودی عرب جانے کے لیے ویزا سے عمومی چھوٹ نہیں دی گئی۔
پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں فرق کیوں؟
پاکستانی پاسپورٹ پر کتنے ممالک کا سفر کیا جا سکتا ہے، اس حوالے سے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس اور پاسپورٹ انڈیکس کے اعداد و شمار مختلف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ادارے سفری سہولتوں کی درجہ بندی اور حساب لگانے کے لیے الگ طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ عالمی درجہ بندی میں 103 ویں نمبر پر ہے۔ اس کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی شہری 29 مقامات پر روایتی ویزا پہلے سے حاصل کیے بغیر سفر کر سکتے ہیں۔ ان میں 11 مقامات پر ویزا فری داخلہ، 15 پر ویزا آن ارائیول اور 3 کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن کی سہولت شامل ہے۔
دوسری جانب پاسپورٹ انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کی پاور رینک 93، انفرادی پاور رینک 195 اور موبیلٹی اسکور 43 درج ہے۔ اس انڈیکس کے مطابق پاکستانی شہری 9 ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں، 30 ممالک میں پہنچنے پر ویزا حاصل کر سکتے ہیں جبکہ 4 ممالک کے لیے ای ٹی اے کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ 155 ممالک میں داخلے کے لیے پیشگی ویزا درکار ہے۔
موبیلٹی اسکور میں ان ممالک کو بھی شامل کیا جاتا ہے جہاں ویزا فری داخلے، ویزا آن ارائیول یا ای ٹی اے کے ذریعے سفر ممکن ہو۔ اسی لیے دونوں اداروں کے اعداد و شمار کو الگ الگ دیکھنا چاہیے، انہیں ملا کر ایک فہرست بنانا درست نہیں ہوگا۔
پاکستانی شہری کن 9 ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں؟
پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے شہری 9 مقامات پر سفر سے پہلے ویزا حاصل کیے بغیر جا سکتے ہیں۔ ان میں بارباڈوس، ڈومینیکا، گیمبیا، ہیٹی، مائیکرونیشیا، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور وانواتو شامل ہیں۔
یہ ممالک دنیا کے مختلف خطوں میں واقع ہیں اور پاکستانی شہریوں کو روایتی ویزا درخواست کے عمل سے گزرے بغیر سفر کا موقع فراہم کرتے ہیں، تاہم وہاں پہنچنے کے بعد امیگریشن کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔
پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی شہریوں کو کینیا، سری لنکا، سیشلز اور آئیوری کوسٹ کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن حاصل کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔
ای ٹی اے ایک آن لائن سفری اجازت نامہ ہے جسے سفر شروع کرنے سے پہلے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ویزا فری داخلے سے مختلف ہے کیونکہ مسافرکو روانگی سے پہلے متعلقہ حکام سے الیکٹرانک منظوری لینا پڑتی ہے۔
ہینلے انڈیکس کے مطابق 11 مقامات پر ویزا فری سفر
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی فہرست میں پاکستانی شہریوں کے لیے 11 ایسے مقامات شامل ہیں جہاں سفر سے پہلے ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ان میں بارباڈوس، کک آئی لینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائیکرونیشیا، مونٹسیراٹ، روانڈا، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز، گیمبیا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور وانواتو شامل ہیں۔
یہ مقامات کیریبین، افریقہ اور بحرالکاہل کے مختلف علاقوں میں واقع ہیں اور پاکستانی سیاحوں کے لیے بیرون ملک چھٹیاں گزارنے کے ممکنہ انتخاب فراہم کرتے ہیں۔
تاہم ویزا فری سفر کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی مسافر کو بلاشرط داخلے کی اجازت مل جائے گی۔ متعلقہ ملک میں داخلے کے لیے پاسپورٹ کی معیاد، واپسی کے ٹکٹ اور امیگریشن کے دیگر تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔
15 ممالک جہاں پہنچنے پر ویزا مل سکتا ہے
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی شہری 15 مقامات پر پہنچنے کے بعد ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
ان میں برونڈی، کمبوڈیا، کوموروس جزائر، جبوتی، گنی بساؤ، مڈغاسکر، مالدیپ، نیپال، نیوئے، پلاؤ جزائر، ساموا، سینیگال، سیرا لیون، مشرقی تیمور اور تووالو شامل ہیں۔
ویزا آن ارائیول کی سہولت کے تحت مسافر متعلقہ ملک کے ایئرپورٹ یا مخصوص سرحدی مقام پر پہنچنے کے بعد ویزا حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ہر ملک میں ویزا فیس، قیام کی اجازت اور مطلوبہ دستاویزات مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے سفر سے پہلے ان تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔
ہینلے انڈیکس کے مطابق 3 ممالک کے لیے ای ٹی اے
ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی فہرست میں پاکستانی شہریوں کے لیے تین مقامات پر الیکٹرانک سفری اجازت نامے کی سہولت بھی شامل ہے۔ ان میں کینیا، سیشلز اور سری لنکا شامل ہیں۔
ان ممالک کے لیے مسافروں کو روانگی سے پہلے آن لائن درخواست دے کر منظوری حاصل کرنا ہوتی ہے۔ ای ٹی اے کو روایتی ویزا یا ویزا آن ارائیول کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
ویزا فری، ویزا آن ارائیول اور ای ویزا میں کیا فرق ہے؟
بیرون ملک سفر کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد کے لیے ان سفری سہولتوں کا فرق سمجھنا ضروری ہے۔
ویزا فری کا مطلب ہے کہ مسافر کو سفر سے پہلے ویزا حاصل نہیں کرنا پڑتا، تاہم منزل پر پہنچنے کے بعد وہاں کے امیگریشن قوانین پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ویزا آن ارائیول میں مسافر کو متعلقہ ملک پہنچنے کے بعد ایئرپورٹ یا مخصوص سرحدی مقام پر ویزا جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے بعض ممالک فیس اور اضافی دستاویزات بھی طلب کرتے ہیں۔
الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن یعنی ای ٹی اے ایک آن لائن اجازت نامہ ہے، جسے سفر سے پہلے حاصل کرنا ہوتا ہے۔ دوسری جانب ای ویزا ایک ڈیجیٹل ویزا ہے جس کے لیے آن لائن درخواست جمع کرانے کے بعد متعلقہ حکام کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
بیرون ملک سفر سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟
پاکستانی شہریوں کو بیرون ملک سفر کی بکنگ کرانے سے پہلے چند اہم باتوں کی تصدیق کرلینی چاہیے۔ سب سے پہلے پاسپورٹ کی معیاد اور متعلقہ ملک میں قیام کی اجازت کی مدت معلوم کریں۔ اس کے علاوہ واپسی یا اگلے ملک کے سفر کا ٹکٹ، ہوٹل کی بکنگ اور سفر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مناسب رقم کی دستیابی بھی چیک کریں۔
بعض ممالک میں ٹریول انشورنس، صحت سے متعلق دستاویزات اور ویکسینیشن کا ثبوت بھی ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح ویزا آن ارائیول کی صورت میں فیس اور طریقہ کار جبکہ ای ٹی اے یا ای ویزا کے لیے پیشگی آن لائن منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ویزا پالیسیوں میں وقت کے ساتھ تبدیلی ہو سکتی ہے اور کسی ملک کی ویزا فری یا ویزا آن ارائیول فہرست میں موجودگی داخلے کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اس لیے پاکستانی مسافروں کو ٹکٹ اور ہوٹل بک کرانے سے پہلے متعلقہ ملک کی سرکاری امیگریشن ویب سائٹ یا سفارت خانے سے تازہ ترین شرائط کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے۔