امریکا کا شمالی کوریا کو روکنے میں کردار محدود کرنے کا عندیہ

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے شمالی کوریا کے خلاف دفاعی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں اس کردار میں امریکا کی شمولیت نسبتاً محدود ہو سکتی ہے، جبکہ جنوبی کوریا کو اس ذمہ داری میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔

یہ بات جمعے کو جاری کیے گئے پینٹاگون کے نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی دستاویز میں کہی گئی، جس کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا میں امریکی فوجی موجودگی میں ممکنہ کمی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق جنوبی کوریا اس صلاحیت کا حامل ہے کہ وہ شمالی کوریا کو روکنے کی بنیادی ذمہ داری سنبھال سکے، جبکہ امریکا اس عمل میں اہم مگر محدود تعاون فراہم کرے گا۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ذمہ داریوں کے اس توازن میں تبدیلی امریکا کے اس مفاد کے مطابق ہے جس کے تحت جزیرہ نما کوریا میں اپنی فوجی موجودگی کے طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس وقت جنوبی کوریا میں تقریباً 28 ہزار 500 امریکی فوجی تعینات ہیں، جو شمالی کوریا کے ممکنہ فوجی خطرے کے خلاف مشترکہ دفاع کا حصہ ہیں۔

دوسری جانب جنوبی کوریا نے رواں سال اپنے دفاعی بجٹ میں 7.5 فیصد اضافہ بھی کیا ہے۔ جنوبی کوریا کے پاس مجموعی طور پر تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار فوجی موجود ہیں اور وہ گزشتہ دو دہائیوں سے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے، تاکہ مستقبل میں جنگی کمان کی ذمہ داری خود سنبھال سکے۔

حالیہ برسوں میں امریکی حکام یہ اشارہ دیتے رہے ہیں کہ جنوبی کوریا میں تعینات امریکی افواج کو زیادہ لچکدار بنایا جائے، تاکہ وہ جزیرہ نما کوریا سے باہر بھی دیگر خطرات، مثلاً تائیوان کے دفاع یا چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کے مقابلے میں استعمال کی جا سکیں۔ تاہم جنوبی کوریا نے امریکی افواج کے کردار میں اس قسم کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پینٹاگون کی اس پالیسی دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی اولین ترجیح اپنے وطن کا دفاع ہے۔ انڈو پیسفک خطے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ چین امریکا یا اس کے اتحادیوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے کسی حکومت کی تبدیلی یا وجودی جنگ ضروری نہیں، بلکہ ایسے حالات میں امن ممکن ہے جو امریکا کے لیے سازگار ہوں اور جنہیں چین بھی قبول کر سکے۔

اگرچہ دستاویز میں تائیوان کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم چین کے تائیوان پر دعوے اور طاقت کے استعمال کے امکانات کا پس منظر واضح ہے۔ تائیوان ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کر سکتے ہیں۔

اسی دستاویز میں مشرقِ وسطیٰ اور ایران کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق اگرچہ ایران کو حالیہ مہینوں میں کچھ دھچکے لگے ہیں، تاہم وہ اپنی فوجی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش دوبارہ کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس خطے میں فوجی آپشنز موجود ہیں، اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کے استعمال سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

دستاویز میں اسرائیل کو ایک مثالی اتحادی قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت خود مزید مضبوط بنا سکتا ہے، اگرچہ غزہ کی جنگ کے باعث امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں بعض اوقات تناؤ بھی دیکھا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ دستاویز امریکی دفاعی ترجیحات اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے توازنِ طاقت کی عکاسی کرتی ہے۔

Similar Posts